• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چونیاں،پولیس 4 بچوں کے قاتل تک کیسے پہنچی؟

پنجاب کے ضلع قصور کی تحصیل چونیاں میں 4 بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: چونیاں واقعے میں ملوث ملزم کی شناخت

یہ بھی پڑھیے: قصور: 1مغوی بچے کی لاش، 2 کی باقیات برآمد

پولیس کے مطابق ملزم سہیل شہزاد تک پہنچنے میں انہیں بہت تگ و دو کرنا پڑی کیونکہ چونیاں کی آبادی 60 ہزار افراد پر مشتمل ہے ۔ اس گنجان آبادی میں سے ملزم کی تلاش ایک مشکل مرحلہ تھا۔

چونیاں میں بچوں سے زیادتی اور قتل کا ملزم پکڑا گیا


چونیاں کیس میں پولیس کاکردار انتہائی اہم تھا ۔ مرکزی ملزم سہیل شہزاد کو پکڑنے کےلیے پولیس نے 26,251 لوگوں کا سروےکیا، 4684 گھروں کی تلاشی لی گئی، 1734 لوگوں کا ڈی این اے چیک کیاگیا، 904 رکشا ڈرائیور کی پوچھ گچھ کی، 8307 موبائل فونز کا ڈیٹا لیاگیا، 3117 مشکوک لوگوں کی پوچھ گچھ کی۔

پولیس کے مطابق زینب سانحے کی اُن کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج موجود تھی لیکن اس ناخوشگوار سانحے کے ملزم تک پہنچنے کے لیے اُن کے پاس ڈی این اے کےسوا کوئی شواہد موجود نہیں تھے۔

یہ بھی پڑھیے: سانحہ چونیاں، مقتول بچوں کے رشتے داروں سے تحقیقات کا فیصلہ

پولیس کا اس ملزم کو تلاش کرنا اور بھی مشکل تھا اور اس مقصد کے لیے پولیس نے روایتی تحقیقاتی عمل کے ذرائع بروئے کار لائے۔

اس واقعے کی تحقیقات کرنے والے پولیس افسران میں سے ایک ضلع شیخوپورہ کے ریجنل پولیس آفیسر سہیل حبیب تاجک کے مطابق پولیس نے روایتی تفتیشی ذرائع، ہیومن انٹیلیجنس اور اس کے بعد ڈی این اے کی مدد لی۔

یہ بھی پڑھیے: وزیراعظم کی ’ میرا بچہ الرٹ ‘ ایپلی کیشن بنانے کی ہدایت

پولیس نے جائے وقوعہ سے ملنے والے جوتوں کے نشان کو محفوظ کیا اور اسے مقدمے کا حصہ بنایا۔

جائے وقوعہ پرملزم کے جوتے ہی اس کی گرفتاری کا سبب بنے کیونکہ ملزم نے گرفتاری کے وقت بھی وہی جوتے پہن رکھے تھے۔

قومی خبریں سے مزید