آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ24؍ ربیع الاوّل 1441ھ 22؍ نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

وفاقی حکومت کے ایک وزیر کی جانب سے منگل کی روز عوام کو ملازمتیں فراہم کرنے کے حوالے سے جو بیان سامنے آیا وہ عام لوگوں، خاص طور پر پاکستان تحریک انصاف کی منشور پر اعتماد کا اظہار کرنے والوں کیلئے اضطراب سے خالی نہیں۔ مذکورہ پارٹی نے پاکستان کے ایک کروڑ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کا جو وعدہ اپنے انتخابی منشور میں کیا، وہ ان کلیدی فیصلوں کی ترجمانی کرتا ہے جنہیں سامنے رکھ کر پی ٹی آئی عوام کی خدمت کیلئے کمربستہ ہوئی۔ یہ درست ہے کہ بعض فیصلوں میں تقدیم و تاخیر کا امکان ہوتا ہے اور بعض اوقات حالات ایسے ہوتے ہیں کہ کسی خاص معاملے میں آگے بڑھنا دشوار ہو جاتا ہے۔ یہ ایسی صورتحال ہوتی ہے جس پر اعلیٰ ترین سطح سے عام لوگوں کو اعتماد میں لیا جانا چاہئے مگر صورتحال جب یہ ہو کہ حکومت کی اعلیٰ ترین سطح سے ملک کو فلاحی اسلامی ریاست بنانے کے عزائم کے اظہار کے ساتھ شیلٹر اسکیم، لنگر خانہ اسکیم، ہیلتھ کارڈ اسکیم کے علاوہ معیشت کا پہیہ تیز کرنے کے دعووں کے ساتھ بعض اقدامات کئے جا رہے ہوں تو لوگوں کو امید دلائی جانی چاہئے کہ اُن کے مشکلات میں کمی کی صورت پیدا ہو رہی ہے۔ ایسے الفاظ کے استعمال سے گریز کیا جانا چاہئے جن سے دل شکنی کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ اسلام آباد میں انجینئرنگ اداروں کی دوسری بین الاقوامی ڈین

کانفرنس سے خطاب کے بعد سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپنی وضاحت میں بعض باتیں سیاق و سباق سے ہٹ کر رپورٹ کئے جانے کا شکوہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر کے بیان اور پھر ترجمان کے بیان میں کوئی نئی بات نہیں۔ سب جانتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ یا ملی جلی معیشت والے ملکوں میں حکومتیں زراعت، صنعت، کاروبار اور خدمات کے شعبوں میں ایسے سازگار حالات اور مواقع فراہم کرتی ہیں جن سے لوگوں کو نجی شعبے کے ذریعے زیادہ سے زیادہ روز گار میسر آسکیں۔ سرکاری دفاتر، مختلف سروسز، ایجنسیوں اور بین الاقوامی نوعیت کے سرکاری اداروں کی ملازمتیں کہیں بھی اتنی نہیں ہوتیں کہ ملکی آبادی کے ہر فرد کو ان میں کھپایا جا سکے۔ وطن عزیز میں موجودہ حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد سے بجٹ اقدامات سمیت مختلف پالیسیوں کے ضمن میں بار بار یہ بات سامنے آتی رہی کہ ان کا مقصد معیشت کو سہارا دینا، زرعی و صنعتی پیداوار اور خدمات کے شعبے میں روزگار کے زیادہ مواقع پیدا کرنا ہے۔ حکومت ملکی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کرتی یا بیرونی سرمایہ کاروں کو ترغیبات دیتی ہے تو اس کا مطلب بھی یہ ہوتا ہے کہ نجی کارخانوں، بینکوں، کاروباری اداروں، زراعت کے نئے طریقوں کے ذریعے عام لوگوں کو ملازمت یا سیلف ایمپلائمنٹ کے مواقع زیادہ سے زیادہ مہیا کئے جائیں۔ ایسی فضا میں کہ عام آدمی حکومت کے بعض مشکل فیصلوں سے پیدا ہونے والے مشکل حالات اچھے دنوں کی آس میں برداشت کر رہا ہے، 400محکموں کی ممکنہ بندش کی بات کی جائے تو اس کا ایک پہلو یہ نکلتا ہے کہ مذکورہ حکمت عملی معیشت بہتر بنانے اور لوگوں کو متبادل روزگار فراہم کرنے کی تدبیر کا حصہ ہوگی۔ اسی بات کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ بیروزگاری کا طوفان لوگوں کے لئے مزید مشکلات لے کر آئے گا۔ مناسب انداز یہ ہے کہ سادہ ترین لفظوں میں درست بات کہی جائے۔ حکومت کی کسی سطح سے بھی بیانات دیئے جائیں، ملکی و قومی مفاد کے تمام تقاضوں اور تمام نزاکتوں کا خیال رکھا جانا ضروری ہے۔ جہاں تک تحریک انصاف کے منشور کے اہم نکتے سے متعلق اظہارِ خیال کا تعلق ہے، مناسب ترین بات یہی ہے کہ پارٹی کی اعلیٰ ترین سطح سے عوام کو اعتماد میں لیا جائے تاکہ ابہام اور بےیقینی کی گنجائش باقی نہ رہے۔