آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ربیع الثانی 1441ھ 10؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کاتالونیا میں آزادی کے متوالے پھر متحرک ہوگئے

ہسپانیہ کی سپریم کورٹ کی جانب سے کاتالونیا کے نو علیحدگی پسند راہ نمائوں کو گزشتہ دنوں نوتا تیرہ برس قید کی سزائیں سنائے جانے کے بعد کاتالونیا میں پولیس اور عوام کے درمیان پُرتشدد جھڑپیں ہوئی ہیں اور ذرایع ابلاغ کے مطابق حالات اب بھی کشیدہ ہیں۔

یورپ میں جنوبی مشرقی حصے میں سمندر کے ساحلوں کے قریب ایک آزاد ریاست تھی۔ 1707 میں اس پر حملہ کرکے اس کو اسپین کے ساتھ ملاکر نئی ریاست بنائی گئی جبکہ اس کی زبان، کلچر، رہن سہن سب جدا تھا۔ تب سے غیور کیٹولین باشندے اپنی آزادی کی جدوجہد کرتے رہے ہیں۔ 1938 میں اسپین کے جنرل آمر فرانس فرانکو نے کاتا لونیا (کاتولونیا)کی آزادی کی تحریک کو بری طرح کچل دیا چار ہزار سے افراد ہلاک ہوئے ہزاروں زخمی ہوئے اور ہزاروں کو جلاوطن کیا گیا۔ 

عوام کی قطعی اکثریت علیحدگی پسند اور آزادی پسند ہے مگر یہ بھی سچ ہے کہ ایک بڑا دھڑا اسپین کے ساتھ الحاق کو قائم رکھنا چاہتا ہے، انہوں نے حالیہ مظاہروں میں حصہ نہیں لیا۔ دوسری طرف یورپی یونین کاتا لونیا کے مسئلے پر پوری طرح سنجیدہ ہے ،کیونکہ ان کی نظر میں بھی یہ خطہ خوشحال اور اہم ہے، مگر یورپی یونین کے اہم ممالک اس وقت تارکین وطن کے مسئلے میں الجھے ہوئے ہیں اور بعض دبی زبان سے اسپین کی حمایت کررہےہیں

جنرل فرانکو کی طویل اور بدترین آمریت کے بعد 1977 میں اسپین میں جمہوری حکومت کا قیام عمل میں آیا۔ اس کے بعد کاتا لونیا کو نیم آزاد ریاست تسلیم کیا گیا تھا اور یہ وعدہ کیا گیا کہ 2010 تک بتدریج اختیارات منتقل کئے جائیں گے اور پھر کاتا لونیا کو آزاد ریاست تسلیم کرلیا جائے گا۔ اچانک 2006 میں اسپین کی اعلیٰ عدالت نے ایک قانون منظور کرلیا کہ کاتا لونیا کو اسپین کا حصہ رہتے ہوئے آزادی نہیں دی جاسکی اور پچھلا قانون یا معاہدہ منسوخ کردیا۔ 

اس کے بعد احتجاج ہوئے اور سیاسی ہلچل جاری رہی پھر اس ضمن میں بیشتر سیاسی جماعتوں اور بائیں بازو کے متحرک گروہوں نے ریفرنڈم کی تجویز پیش کی کہ 2017 میں آزادانہ ریفرنڈم کرایا جائے۔

ریفرنڈم کے دن جب یہ عمل جاری و ساری تھا اچانک اسپین کی سیکورٹی فورسز نے پولنگ اسٹیشنوں پر دھاوا بول دیا اور بیلٹ بکس اٹھاکر لے گئے اس وقت جتنی پولنگ ہوئی تھی اس حوالے سے کاتا لونیا کے رہنمائوں کا دعویٰ تھا کہ اکثریت ہمیں ووٹ ڈال چکی ہے، مگر اعلیٰ عدالت نے اپنے فیصلے سے ریفرنڈم کو معطل کرنے کا حکم صادر کردیا ۔ 

ایک سیاسی رہنما نے زور دے کر کہا کہ کاتا لونیا کی آزادی کے حق میں سوا دو لاکھ ووٹ پڑچکے تھے اور ووٹنگ جاری تھی، اس طرح یقیناً فیصلہ کاتا لونیا کے عوام کے حق میں آرہا تھا اس لئے اس کو آخری موقع پر کالعدم قرار دیا جس پر پورے کاتا لونیا میں ہنگامے پھوٹ پڑے اور طویل احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا۔

کاتا لونیا کے اعتدال پسند سیاسی رہنمائوں نے ایک بار پھر اسپین کی حکومت کو مذاکرات کی دعوت دی اور کہا کہ احتجاج ختم کرنے کے لیے مذاکرات جلد شروع ہونا چاہیے۔ حکومت نے یہ تجویز تسلیم کرلی ۔ کاتا لونیا کے رہنمائوں نے بمشکل تمام علاقہ میں امن قائم کریا اور مشتعل عوام کو گھر وںکو واپس بھیج دیا۔ اس وقت تک خاصا نقصان ہوچکا تھا اور پورا بارسلونا بند تھا۔ کاتا لونیا کی آبادی پچھتر لاکھ سے کچھ زائد ہے۔ 

انتہائی مہذب اور منظم ملک ہے ،مگر اسپین کے مسلسل تسلط نے قوم کو نفسیاتی اور سیاسی دبائو میں رکھا ، کیونکہ کاتا لونیا کی زبان قدیم اور ترقی یافتہ ہے اور یورپی ممالک میں نویں نمبر پر شمار ہوتی ہے۔ کلچر جدا ہے۔ موسیقی رہن سہن کے ان کے اپنے طریقے ہیں۔ کھانوں اور فٹبال میں اپنا نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ رقبہ کے لحاظ سے بتیس ہزار مربع کلو میٹر سے زائد ہے۔

دارالحکومت بارسلونا، جو خوبصورت شہر ہے جو قدیم اور جدید کا امتزاج ہے۔ اسپین اس خطے کو اپنے لئے سونے کی چڑیا تصور کرتا ہے ،یہاں کی سالانہ مجموعی آمدنی 360 ارب ڈالر کے قریب ہے ،جبکہ فی کس آمدنی چھیالیس ہزار ڈالر ہے۔ کاتا لونیا کا صنعتی شعبہ مستحکم ہے۔ ٹیکسٹائل، چمڑے کی صنعت، ماہی گیری اور سمندر سے نقل و حمل و دیگر سامان کی درآمدات کاتا لونیا کی معیشت کا حصہ ہے۔ اسپین کی مجموعی سالانہ آمدنی میں کاتا لونیا کا 22 فیصد حصہ ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہر مرتبہ اس خطے کی آزادی کی تحریک کو کسی نہ کسی بہانے کچل دیا جاتا ہے۔ 

خاص طور پر اسپین کی دائیں بازو کی قدامت پسند سیاسی جماعتیں کاتا لونیا کی آزادی کے خلاف ہیں اور وہ کسی طور اس خطے کو اسپین کے ساتھ رکھنا چاہتے ہیں۔ کاتا لونیا کے بعض سیاسی رہنما خودساختہ جلاوطنی اختیار کرکے برسلز میں پناہ لئے ہوئے ہیں ،جبکہ آٹھ رہنما جیل میں ہیں۔ گزشتہ ریفرنڈم کو جس طرح سبوتاژ کیا گیا اس ضمن میں کاتا لونیا کی زیادہ سیاسی جماعتیں اس تمام عمل کی شدید مذمت کررہی ہیں مگر بائیں بازو کی ایک اہم جماعت اس پر خاموش ہے اور وہ ریفرنڈم کی حامی نہیں ہے۔ 

کاتا لونیا کے عوام کی قطعی اکثریت علیحدگی پسند اور آزادی پسند ہے مگر یہ بھی سچ ہے کہ ایک بڑا دھڑا اسپین کے ساتھ الحاق کو قائم رکھنا چاہتا ہے ان لوگوں نے حالیہ مظاہروں میں حصہ نہیں لیا۔ دوسری طرف یورپی یونین کاتا لونیا کے مسئلے پر پوری طرح سنجیدہ ہے ،کیونکہ ان کی نظر میں بھی یہ خطہ خوشحال اور اہم ہے، مگر یورپی یونین کے اہم ممالک اس وقت تارکین وطن کے مسئلے میں الجھے ہوئے ہیں اور بعض دبی زبان سے اسپین کی حمایت کررہےہیں۔

کاتا لونیا کے ایک سیاسی رہنماکا دعویٰ ہے کہ آزادی بغیر جمہوریت کہ بے روح ہوتی ہے۔ ہمیں اسپین نے 1978 کے آئین کے تحت نیم خودمختاری دی،مگر جمہوری حقوق میں ہمیشہ رخنہ اندازی کی گئی۔ ریفرنڈم ہمارا جمہوری حق تھا اس کی اسپین کی حکومت نے تائید بھی کی تھی مگر عین وقت پرجس بہیمانہ طریقے سے میڈرڈ کی حکومت نے ریفرنڈم کے عمل کو سبوتاژ کیا وہ انتہائی انسانیت سوز واقعہ ہے۔ 

عوام پر لاٹھی چارج کیا، آنسو گیس چھوڑ، ربر بلیٹ ماری گئیں،لوگوں کو گرفتار اور زدوکوب کیا گیا، جس کے لیے مرکز کی پولیس کے علاوہ کمانڈوز کو بھی استعمال کیا گیا، جبکہ عوام پرامن تھے، خوش تھے، ترانے گا رہے تھے مگر غیرانسانی سلوک کی وجہ سمجھ سے باہر ہے۔ ہمیشہ اسپین کی قدامت پسند اور ہسپانوی قوم پرست جماعتوں نے ہسپانوی قوم کے سوا کسی چھوٹی قومیت کی حمایت نہیں کی۔ وہ ہمارے حقوق تسلیم نہیں کرتی ہیں۔

اس کے بعد کاتا لونیا کے عوام کی اکثریت سڑکوں پر نکل آئی اور پولیس سیکورٹی اہلکاروں کے تشدد کے جواب میں سڑکوں پر کچرے کے ڈرم، ٹائر جلائے سڑکیں بلاک کردیں، ریلوے لائن پر ہزاروں افراد نے دھرنا دیا ریلوے بند ہوگئی اور ایئرپورٹ کا مکمل گھیرائو کرلیا، جس کی وجہ سے تین سو سے زائد پروازیں معطل ہوگئیں۔ دوسرے لفظوں میں پورے علاقے میں زندگی معطل ہوکر رہ گئی۔

ہسپانوی پولیس چیف نے میڈیاکو بتایا کہ، کاتا لونیا کے علیحدگی پسندوں نے ڈھائی سو کے قریب پولیس اہلکاروں کو زدوکوب کیا وہ شدید زخمی ہیں، ایک سوسے زائد پولیس کی گاڑیوں کو آگ لگادی ، نجی املاک کو نقصان پہنچایا ۔پولیس چیف کا کہنا تھاکہ علیحدگی پسندوں سے زائد تعداد لوگوں میں بیٹھی رہی کیونکہ وہ اسپین سے علیحدگی نہیں چاہتے بلکہ اسٹیس کو کے حامی ہیں، مگر کاتا لونیا کے سیاسی ترجمان برینگر مورے نے پولیس کے بیان کی تردید کی اور بتایا کہ تشدد کی شروعات پولیس اور سیکورٹی گارڈز کی طرف سے ہوئی جس کی وجہ سے درجنوں شہری شدید زخمی ہوئے ہیں۔ 

اس سے قبل ماضی میں بھی ہسپانوی پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار عوام کے ساتھ غیرانسانی سلوک روا رکھتے رہے ہیں۔ سیکڑوںوں افراد گرفتار، جلاوطن اور لاپتہ ہیں۔ ہماری آواز دبادی جاتی ہے۔ یورپی یونین، انسانی حقوق کے ادارے اور جمہوریت پسند شخصیات بھی مصلحت پسندی کا شکار ہیں۔

آزادی، علیحدگی پسندی اور حق خود رائے دہی کی نیا میں ایک سو کے قریب تحریکیں جاری ہیں جن میں فلسطین اور کشمیریوں کی تحریک نمایاں ہیں۔ سب سے زیادہ علیحدگی پسندوں کی تحریکیں افریقہ میں، یورپ دوسرے نمبر پر ہے، ایشیا اس کے بعد اور امریکہ جنوبی امریکہ آخر میں شمار ہوتے ہیں، زیادہ تر تحریکیں علاقائی، نسلی، لسانی، مذہبی اور معاشی تنازعات پر استوار ہیں۔ 

کاتا لونیا کا تنازع بھی پرانا ہے،تاہم کاتا لونیا کے صدر کیوم ٹورانے ہسپانوی حکومت کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ گزشتہ چند دنوں میں جو پرتشدد ہنگامے ہوئے اس میں سب ہی کا قصور ہے میں چاہتا ہوں اس طرح کے افسوسناک واقعات کو آئندہ رونما ہونے سے روکا جائے اس کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی اور جمہوری روایات کو آگے بڑھانے کے لیے بامقصد مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے جو دونوں فریقین کے لیے مناسب ہے۔ کاتا لونیا کے سابق وزیراعظم نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ مذاکرات کو بامقصد بنانے کے لیے ریاست کے سیاسی رہنمائوں کو جیلوں سے رہا کردیا جائے، ہم چاہتے ہیں جو کچھ ہوا وہ پھر نہ دہرایا جائے۔ اگر دونوں جانب سے ہوش مندانہ اقدامات کئے جاتے تو یہ سب کچھ نہ ہوتا۔

کاتا لونیا کے نجی ذرائع بتلاتے ہیں کہ یورپی یونین کے بعض بااثر ممالک بھی کاتا لونیا کی آزادی کے حامی نہیں ہیں ان کا خیال ہے کہ یورپی ممالک میں بائیس کے قریب آزادی اور خودمختاری کی تحریکیں جاری ہیں اس کا ان پر بھی اثر پڑے گا۔ خود کاتا لونیا کی آبادی کا ایک حصہ آزادی کے خلاف ہے مگر وہ مجموعی آبادی کے پانچ تا آٹھ فیصد لوگ ہیں ،ان کا خیال ہے کہ ہسپانوی حکومت کے ساتھ ہمیں کچھ زیادہ مسائل نہیں ہیں مگر آزادی سنہرا خواب ہوتا ہے۔

عالمی منظر نامہ سے مزید