آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ربیع الثانی 1441ھ 10؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

مسلمان پروفیسر ہندوؤں کو ’سنسسکرت‘ کیسے پڑھا سکتا ہے؟

ایک مسلمان ہندوؤں کو دھرم اور سنسکرت کی تعلیم نہیں دے سکتا، طلبہ کا احتجاج



بھارت کے شہر بنارس کی ایک یونیورسٹی میں مسلمان پروفیسر کو شعبۂ سنسسکرت پڑھانے کے لیے تعینات کیا گیا ہے جس پر یونیورسٹی کے ہندو طلبہ کی جانب سے احتجاج کیا جارہا ہے، اُن کا کہنا ہے کہ ایک مسلمان پروفیسر ہمیں سنسسکرت کیسے پڑھا سکتا ہے؟

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ’دی بنارس ہندو یونیورسٹی‘ کے وائس چانسلر نے فیروز خان نامی مسلمان پروفیسر کی تقرری کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پرفیسر فیروز تمام اُمیدواروں میں سب سے قابل پروفیسر ہیں، مذہب کے نام پر ان کے ساتھ تفریق نہیں کی جا سکتی ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں مذہب، ذات برادری یا صنف سے قطع نظر سب کو مساوی مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

ایک ریسرچ اسکالر شبھم تیواری کا کہنا ہے کہ ایک مسلمان ہندوؤں کو دھرم اور سنسکرت کی تعلیم نہیں دے سکتا۔

دوسری جانب طلبہ کا کہنا ہے کہ ’کسی پروفیسر کی تقرری ہوتی ہے تو وہ 65 برس یہاں پڑھاتا ہے۔ ان برسوں میں ہزاروں طلبہ یہاں سے پڑھ کر نکل جاتے ہیں، اس سے کتنے بچوں کا مستقبل تباہ ہو گا۔ طلبہ نے کہا کہ ہم مسلمان پروفیسر کی تقرری کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور جب تک انہیں ہٹایا نہیں جاتا تب تک ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔‘

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک طالب علم کا کہنا تھا کہ کالج میں نصب کتبے میں واضح طور پر لکھا ہے کہ صرف ہندو اس یونیورسٹی میں پڑھ سکتے ہیں اور غیر ہندوؤں کا داخلہ بھی یہاں ممنوع ہے، تو پھر مسلمان پروفیسر کیسے یہاں آ سکتے ہیں؟

میڈیا رپورٹس کے مطابق فیروز خان کا تعلق راجستھان سے ہے، انہوں نے سنسکرت میں پی ایچ ڈی کیا ہوا ہے۔ اس سے قبل وہ جے پور کے ایک سنسکرت ادارے میں پڑھاتے تھےاور سنسکرت کے ایک بہترین سکالر ہیں۔ انہیں کئی ایوارڈز بھی مل چکے ہیں۔

فیروز خان کی تقرری کے حوالے سے یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ تمام اُمیدواروں میں سب سے بہتر ہیں۔ انتظامیہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ضابطے کے مطابق مذہب کی بنیاد پر کسی سے تفریق نہیں برتی جا سکتی۔

’ڈاکٹر رام نارائین دیویدی‘ نے بتایا کہ پروفیسر فیروز خان کی تقرری پوری طرح مسلمہ ضابطوں کے تحت کی گئی ہے۔ طلبہ یہاں ہنگامہ کر رہے ہیں۔ وہ یہ سمجھ نہیں رہے ہیں کہ ان کا انتخاب ضابطے کے تحت ہوا ہے۔ طلبہ کو سمجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید