آپ آف لائن ہیں
ہفتہ24؍ذی الحج 1441ھ15؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے مواخذے کے معاملے میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انکوائری کمیٹی نے مواخذے کی کاروائی کو بند کمرے میں ان کیمرہ کرنے کے بجائے ؟؟ کو پبلک میں کردیا ہے۔ پریس گیلری کھول دی گئی ہے اور کاروائی کو ٹی وی پر دکھایا جارہا ہے۔ جس کی وجہ سے یہ معاملہ زیادہ تشویشناک ہوگیا ہے۔ اس ضمن میں مزید گڑبڑ پیدا ہوئی جب یوکرین میں امریکا کی سابق سفیر میری یووانوچ نے اپنا بیان کمیٹی کے سامنے ریکارڈ کرایا، تب صدر ٹرمپ نے ٹوئٹ کیا ’’اس خاتون کو جہاں جہاں سفیربناکر تعینات کیا گیا وہاں وہاں معاملات بگڑتے رہے ہیں‘‘۔ اس پر میری یووانوچ نے تفصیلی بیان دیتے ہوئے اپنا بھرپور دفاع کیا، جس پر امریکی انتظامیہ کے سول افسران نے ان کی حمایت کی۔

صدر ٹرمپ پر الزام ہے کہ، چند ماہ قبل انہوں نے یوکرین کےصدر کو فون کیا کہ سابق امریکی نائب صدر، جوبائیڈن کے صاحبزادے ہنٹر بائیڈن جو یوکرین کی نجی کمپنی میں بڑے عہدے پر کام کررہے ہیں، ان کی ذاتی زندگی اور کچھ معاملات کے بارے میں تفتیش کرکے صدر ٹرمپ کو دیں کیونکہ آنے والے انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی، ہنٹر بائیڈن کو میرے مخالف کھڑا کررہی ہے اس لئے وہ یہ معلومات چاہتے ہیں۔

صدر ٹرمپ سے اس فون کال اور بات چیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا، یوکرین کے صدرنے منتخب ہوکر عہدہ سنبھالا تو انہیں مبارکباد دینے کے لئے کال کی تھی۔ یہ صرف ایک رسمی کال تھی، مزید بات چیت کے بارے میں پوچھا گیا تو وہ بات گول کرگئے۔ انہوں نے ان کے مواخذے کو ایک سنگین مذاق قرار دیتے ہوئے پورے معاملے کو مسترد کردیا۔ اور پبلک انکوائری کو بھی شرمناک مذاق بتایا۔ 

جس پر ڈیمو کریٹس اسپیکر ،نینسی پلوسی نے کہا کہ قانون سے کوئی فرد بالاتر نہیں ہے اور اگر اس پر سنگین الزام ہے تو ضابطہ کی کاروائی جائز ہے۔ پہلی پبلک انکوائری میں سابق سفارت کار، سی آئی اے کے سابق اعلیٰ عہدیدار اور چند متعلقہ اہل کاروں نے بیانات ریکارڈ کرائے، جن کو ٹی وی پر بھی دکھایا گیا۔

امریکاکے اٹارنی جنرل ولیم بار نے ٹی وی پر صدر ٹرمپ کے مخالفین کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کانگریس اور سینٹ کے ڈیموکریٹس اراکین کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اٹارنی جنرل نے کہا ،ابتدا ہی سے ڈیمو کریٹک پارٹی کا ایک بڑا دھڑا صدر ٹرمپ کی شدت سے مخالفت کرتا رہاہے۔ ان کے خلاف تقریریں کیں، مظاہرے کرائے اور احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا، مگر عوام کی اکثریت نے صدر ٹرمپ پر اعتماد کا اظہار کیا۔ اٹارنی جنرل کی تقریر کے بعد ڈیموکریٹس اراکین کانگریس نے فوری ٹی وی پر ایک رپورٹ پیش کردی جس میں صدر ٹرمپ پر اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے کانگریس کی کاروائی میں رکاوٹیں پیدا کرنے اور دیگر معاملات کو متنازعہ بنانے کے الزامات عائد کئے گئے۔

امریکا کے غیرجانبدار سفارت کاروں، اعلیٰ عہدیداروں اور تھنک ٹینکس کا خیال ہے کہ، صدر ٹرمپ نے امریکی جمہوریت پر حملہ کیا ہے۔ اس وقت جبکہ صدر ٹرمپ کی فون کال کے ٹیپ اوران کی گفتگو کو تحریری شکل میں بھی پیش کردیا گیا ہے تو بات صاف ہوگئی ہے کہ انہوں نے یوکرین کے صدر کو دو تین بار فون کالیں کی تھیں۔ اب چونکہ کاروائی پبلک میں آگئی ہے تو اس پر سخت ردعمل آسکتا ہے۔ ایک لابی کا خیال ہے کہ یہ ڈیموکریسی اور آمرانہ طرز حکومت کے مابین کھلی جنگ ہے۔

انکوائری کمیٹی میں ایک دو اراکین نے صدر ٹرمپ کے اپنے مخالفین کے خلاف نازیبا ریمارکس اور عراق اور شام میں کردوں کو داعش کے خلاف استعمال کرکے انہیں پھر نظرانداز کرنا، شمالی کوریا اور افغانستان کی نازک سیاسی صورت حال پر بعض غیر سنجیدہ گفتگو کرنا، لوگوں کو اشتعال دلا دینااور خواتین کے ساتھ ناروا سلوک ان باتوں کو بھی کمیٹی کے سامنے لایا گیا۔ اس کے جواب میں ری پبلکن پارٹی کے اہم رہنمائوں اور امریکی قدامت پرست کلب کے اراکین نے اپنے طویل بیان میں کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ قدامت پسند، محب وطن اور زیرک سیاستدان ہیں جن کا نعرہ ’پہلے امریکہ‘ عوام میں مقبول ہے۔ 

رنگ دار نسل کے بیشتر رہنما صدر ٹرمپ کی پالیسیوں سے سخت اختلاف رکھتے ہیں، کیونکہ ان کے مفادات پر ضرب پڑتی ہے۔ صدر ٹرمپ امریکا کی معیشت کو مستحکم بنانا چاہتے ہیں۔ وہ امریکاکی عالمی معیشت کو بھی مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مواخذے سے امریکی سیاست میں کچھ ہلچل ہوسکتی ہے مگر یہاں ادارے مستحکم ہیں اور اس طرح کے جھٹکے آسانی سے برداشت کرسکتے ہیں البتہ جو لوگ اس پر زیادہ زور دے رہے ہیں کہ اس سے بیرونی دنیا میں امریکا کا امیج خراب ہوگا یہ غلط ہے۔ امریکا دنیا کی سب سے مستحکم، جمہوریت ہے اور ان کی ترقی جمہوریت قانون اور آئین کی بالادستی کی مرہون منت ہے۔

واضح رہے کہ مواخذہ کے حوالے سے انیسویں صدی میں پہلے صدر کا مواخذہ ہوا تھا اورمکمل کاروائی عمل میں لائی گئی مگر وہ بری ہوگئے اور صدارتی مدت مکمل کی۔ ستر کے عشرے میںصدر رچرڈ نکسن پر واٹر گیسٹ اسکینڈل بنا تھا۔ یہ اسکینڈل بہت بڑا نہیں تھا، ان کے خلاف انکوائری ہوئی مگر کچھ ثابت نہ ہوا اور صدر نکسن ہر بار الزام قبول کرنے سے انکار کرتے رہے، کیونکہ کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں تھا، مگر وہ غالباً اس امر سے آگاہ نہیں تھے کہ وائٹ ہائوس کے تہہ خانے کے ایک خاص گوشہ میں وائٹ ہائوس ہی میں ہونے والی تمام فون کالیں خاص طور پر صدر امریکا کی کالیں خاص طور پر ریکارڈ کی جاتی تھیں۔ ان خفیہ کالز کی ریکارڈنگ سے صدر نکسن کی کال بھی ڈھونڈ نکالی گئی، مگر صدر نکسن پہلے ہی مستعفی ہوگئے تھے۔ 

اس کے بعد بل کلنٹن پر ان میڈیا ایڈوائزر کے معاملے پر مواخذہ ہوا تھا جو’’ ان کیمرہ‘‘ تھا، اس میں صدر کلنٹن بری ہوگئے اور صدارتی مدت پوری کی۔اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ مواخذہ کے شکنجے میں آئے ہیں مگراکثریت کا خیال ہے کہ صدر اس سے بری ہوجائیں گے،لیکن ڈیمو کریٹس اراکین اور تحقیقاتی کمیٹی کے پاس ٹیپ کی ہوئی گفتگو موجود ہے اور آواز کو جانچنے والے ماہرین نے بھی تصدیق کردی ہے کہ یہ آواز صدر ٹرمپ کی ہے۔ اس کے علاوہ سابق سفارت کاروں اور مشیروں کے بیانات ہیں، جو صدر حمایت میں نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ وائٹ ہاؤس کے بیشتر اعلیٰ عہدیدار صدر ٹرمپ کی پالیسیوں اور ان کے اخلاقی رویوں سے اختلاف رکھتے ہیں، کچھ بیرونی عناصر ہیں جو ان کی خارجہ پالیسی، ٹریڈ پالیسی اور نیٹو کے بارے میں پالیسی سے اختلاف رکھتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اتنے متضاد صفات رکھنے والا پہلا امریکی صدر ہے جو دوسری باری کے لئے انتخاب کی تیاری کررہا ہے۔ جس کی تیاری کا ایک حصہ یوکرین کے صدر کو فون کرنا تھا۔

ڈیمو کریٹک پارٹی کے بیش تر اراکین امریکی نائب صدر، مائیک پنس کو صدر بنانے کی تجاویز دے رہے ہیں، چونکہ مائیکل پنس نہایت بردبار، تجربہ کار کانگرسی ہیں۔ ریاست ’انڈیا نا‘ کے سابق گورنر بھی رہ چکے ہیں۔ رومن کیتھولک عیسائی اور پرن ریپبلکن پارٹی کے رہنما ہیں، لہٰذا باقی مدت کے لئے وہ صدر بن سکتے ہیں اگر صدر ٹرمپ کو عہدہ چھوڑنا پڑا تب۔ امریکا میں آئینی طور پر صدر تین باربن سکتا تھا مگر دوسری عالمی جنگ کے بعد آئین میں ترمیم کرکے صدر کا عہدہ دو بار تک کردیا گیا اور یہ بھی ایک روایت چلی آرہی ہے کہ صدر دوسری مدت کا انتخاب لڑتا ہے تو ضرور منتخب ہوجاتا ہے۔

یہاں یہ جاننا دلچسپی کا باعث ہوگا کہ وال اسٹریٹ جرنل، امریکی سرمایہ کاروں، صنعت کاروں کا ترجمان ہے اس نے ایک خبر شائع کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ نے اپنے ذاتی وکیل پر کئی بار زور دیا کہ وہ ہنٹر بائیڈن کے خلاف تحقیقات کرکے کچھ مواد جمع کرے، تاکہ اس کو صدر ٹرمپ آنے والے انتخابات میں اس کے خلاف استعمال کرسکیں۔ 

واضح رہے کہ، ہنٹر بائیڈن بھی آئندہ صدارتی الیکشن کی دوڑ میں شامل ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ مضبوط امیدوار ثابت ہوں گے۔صدر ٹرمپ بار بار اپنے مخالفین کو بیان دے کر خوفزدہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ اگر ان کے خلاف کوئی کاروائی ہوئی تو اس سے امریکا کی ساکھ اور معیشت کو زبردست دھچکا لگے گا۔ معیشت مندی کا شکار ہوجائے گی، مگر عام خیال ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا امریکہ مستحکم جمہوریت ہے اور ادارے ریاست کے تابع ہیں۔

عالمی منظر نامہ سے مزید