• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
جناب ِ سیّد ہ فاطمۃ الزہرہؓ کی عظمت و حرمت اور مقام و مرتبہ اس قدر بلند ہے کہ ایک مختصر سے کالم میں اسے بیان کرنا محال ہے۔ آپ اندازہ کیجئے کہ انؓ کا مقام و مرتبہ کیا ہو گا جن کی آمد پر دوجہانوں کے سردارؐ کھڑے ہو جاتے تھے۔ جناب سیّدہؓ اس جہان میں بھی افضل ترین خاتون ہیں اور اگلے جہان میں بھی افضل ترین ہیں یعنی دونوں جہانوں میں عورتوں کی سردار ہیں۔ شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ نے جنابِ سیّدہؓ کی شان اردو کے علاوہ فارسی میں بھی بیان کی ہے۔ میں یہاں ان کا فارسی کلام لکھنے کی بجائے اس کا ترجمہ نقل کر رہا ہوں تاکہ پڑھنے والوں کیلئے آسانی رہے جیسا کہ حدیث مبارکہ ہے کہ ’’....لوگوں سے کلام انتہائی آسان لفظوں میں کیا کرو، ان کی عقل کے معیار کے مطابق....‘‘ اس حدیث مبارکہ کی روشنی میں کوشش کرنی چاہئے کہ ایسے الفاظ کا استعمال ہو جو لوگوں کو سمجھ آ سکے، بعض لوگ محض اپنی علمی قابلیت کو بیان کرنے کیلئے بلکہ رعب جمانے کیلئے مشکل ترین الفاظ کا استعمال کرتے ہیں شاید انہیں یہ احساس نہیں کہ ان کے نبی ﷺ نے اس سلسلے میں کیا فرما رکھا ہے۔ علامہ اقبالؒ نے جو فارسی میں کہا، ان کے چند اشعار کا ترجمہ کچھ اس طرح ہے کہ ’’آپؓ ان دو جلیل القدر بزرگوں کی والدہ تھیں جن میں سے ایک عشق حق کی پرکار کے مرکز بنے، دوسرے کو عشق حق کی قافلہ سالاری ملی۔ پہلے حضرت حسنؓ تھے جو حرم پاک کی شمع تھے انہوں نے بہترین امت یعنی ملت ِ اسلامیہ کی جمعیت محفوظ رکھی اس لئے حکمرانی کو ٹھکرا دیا کہ آپس میں جو جنگ اور موت کی جو آگ بھڑک اٹھی تھی بجھ جائے۔ حضرت علی ؓ کی شہادت کے بعد حضرت امام حسنؓ خلیفہ منتخب ہوئے مگر انہوں نے خانہ جنگی کے باعث خلافت چھوڑ دی۔ اس طرح رسول ﷺ کی حضرت حسن ؓ سے متعلق پیش گوئی پوری ہو گئی یعنی ’’میرا یہ فرزند امت کے دو بڑے گروہوں میں صلح کروائے گا‘‘۔ جنابِ سیّدہؓ کے دوسرے فرزند حضرت امام حسینؓ قافلہ عشق حق کے سالار ہیں۔ انہوںؓ نے حق کی خاطر قربانی کی وہ مثال رقم کی جو نہ کوئی کر سکا، نہ کر سکے گا۔ علامہ اقبالؒ سیدہ زہرہؓ کی شان بیان کرتے ہوئے مزید فرماتے ہیں کہ ’’....آپؓ نے صبر و رضا کی ادب گاہ میں تربیت پائی تھی اور صبر و رضا کی کیفیت یہ تھی کہ چکی پیستیں ، نماز کیلئے کھڑی ہوتیں تو آنکھوں سے آنسو موتیوں کی مانند برآمد ہوتے، فرشتے انہیں زمین پر نہ گرنے دیتے بلکہ اٹھا کر لے جاتے اور شبنم کی طرح عرشِ بریں پر ڈال دیتے، مجھے اللہ تعالیٰ کے قانون نے باندھ رکھا ہے، رسول ﷺکے فرمان کا پاس مجھے روک رہا ہے ورنہ میں مزار سیّدہ ؓ پر سجدہ ریز ہو جاتا اور اپنی آنکھوں کی پلکوں سے قبر کے آس پاس صفائی کرتا۔ حضرت مریم ؑ تو حضرت عیسیٰؑ سے مادرانہ نسبت کے باعث عزیز ہیں جبکہ سیّدہ فاطمۃ الزہرہؓ کے ہاں ایسی تین نسبتیں ہیں پہلی نسبت یہ کہ آپؓ، رسول ﷺ کی نورِ نظر تھیں جو نبیوں کے امام ہیں۔ دوسری نسبت کہ آپؓ حضرت علی ؓ کے حرم میں تھیں، حضرت علیؓ اللہ کے شیر تھے اور مشکلیں آسان کر دیتے تھے۔ علم و حکمت کا دروازہ تھے۔ تیسری نسبت یہ کہ آپؓ جناب حسنین کریمینؓ کی والدہ محترمہ تھیں اور آپؓ نے اولاد کی تربیت ایسے کی کہ آپؓ مسلمان مائوں کیلئے اسوئہ کامل بن گئیں....‘‘
اقبالؒ نے جنابِ سیّدہؓ کے فرزند حضرت حسینؓ کی رقم کردہ اعلیٰ مثال کو اپنی شاعری کے ذریعے بیش بہا خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔
جنابِ سیّدہ فاطمۃ الزہرہؓ کی تربیت کا اثر تھا کہ دونوں بیٹوں کے علاوہ آپؓکی پیاری بیٹی حضرت زینبؓ نے بھی بہادری کے جوہر دکھائے۔ دربار یزید میں اعلیٰ ترین خطبہ دیا، شاید بہت کم لوگوں کو معلوم ہو کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کا چارٹر بی بی زینبؓ کے خطبے سے لیا گیاہے۔
ماضی کے ایک اہم بیورو کریٹ قدرت اللہ شہاب اپنی آپ بیتی کے تسلسل میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ’’....ایک بار میں کسی دور دراز علاقے میں گیا ہوا تھا، وہاں پر ایک چھوٹے سے گائوں میں ایک بوسیدہ سی مسجد تھی، میں جمعہ کی نماز پڑھنے اس مسجد میں گیا تو ایک نیم خواندہ سے مولوی صاحب اردو میں بے جا طویل خطبہ دے رہے تھے۔ ان کا خطبہ گزرے ہوئے زمانوں کی عجیب و غریب داستانوں سے اٹااٹ بھرا ہوا تھا، کسی کہانی پر ہنسنے کو جی چاہتا تھا، کسی پر حیرت ہوتی تھی لیکن انہوں نے ایک داستان کچھ ایسے انداز سے سنائی کہ تھوڑی سی رقت طاری کر کے وہ سیدھی میرے دل میں اتر گئی۔ یہ قصہ ایک باپ اور بیٹی کی باہمی محبت و احترام کا تھا، باپ حضرت محمد ﷺ تھے اور بیٹی حضرت بی بی فاطمہؓ تھیں۔ مولوی صاحب بتا رہے تھے کہ حضور اکرم ﷺجب اپنے صحابہ کرامؓ کی کوئی درخواست یا فرمائش پوری نہ فرماتے تھے تو بڑے بڑےبرگزیدہ صحابہ کرامؓ بی بی فاطمہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کی منت کرتے تھے کہ وہ ان کی درخواست حضور ﷺ کی خدمت میں لے جائیں اور اسے منظور کروا لائیں۔ حضور نبی کریم ﷺکے دل میں بیٹی کا اتنا پیار اور احترام تھا کہ اکثر اوقات جب بی بی فاطمہؓ ایسی کوئی درخواست یا فرمائش لے کر حاضر خدمت ہوتی تھیں تو حضورﷺ خوش دلی سے اسے منظور فرما لیتے تھے۔ اس کہانی کو قبول کرنے کیلئے میرا دل بے اختیار آمادہ ہو گیا۔ جمعہ کی نماز کے بعد میں اسی بوسیدہ سی مسجد میں بیٹھ کر نوافل پڑھتا رہا، کچھ نفل میں نے حضرت بی بی فاطمہؓ کی روحِ مبارک کو ایصالِ ثواب کی نیت سے پڑھے، پھر میں نے پوری یکسوئی سے گڑگڑا کر یہ دعا مانگی ’’....یا اللہ میں نہیں جانتا کہ یہ داستان صحیح ہے یا غلط لیکن میرا دل گواہی دیتا ہے کہ تیرے آخری رسولؐ کے دل میں اپنی بیٹی خاتونِ جنت کیلئے اس سے بھی زیادہ محبت اور عزت کا جذبہ موجزن ہو گا، اس لئے میں اللہ تعالیٰ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ حضرت بی بی فاطمہؓ کی روح طیبہ کو اجازت مرحمت فرمائیں کہ وہ میری ایک درخواست اپنے والد گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور میں پیش کر کے منظور کروا لیں۔ درخواست یہ ہے کہ اللہ کی راہ کا متلاشی ہوں، سیدھے سادھے مروجہ راستوں پر چلنے کی سکت نہیں رکھتا، اگر سلسلہ اویسیہ واقعی افسانہ نہیں بلکہ حقیقت ہے تو اللہ کی اجازت سے مجھے اس سلسلہ سے استفادہ کرنے کی ترکیب اور توفیق عطا فرمائی جائے۔‘‘اس بات کا میں نے اپنے گھر میں یا باہر کسی سے ذکر تک نہ کیا۔ چھ سات ہفتے گزر گئے اور میں اس واقعہ کو بھول بھال گیا۔ پھر اچانک سات سمندر پار کی میری ایک جرمن بھابھی کا ایک عجیب خط موصول ہوا، وہ مشرف بہ اسلام ہو چکی تھیں اور نہایت اعلیٰ درجہ کی پابند ِ صوم و صلوٰۃ تھیں، انہوں نے لکھا ’’(خط انگریزی میں تھا، اس کا ترجمہ ہے) اگلی رات میں نے خوش قسمتی سے فاطمہؓ بنت رسول ﷺکو خواب میں دیکھا، انہوں نے میرے ساتھ نہایت تواضع اور شفقت سے باتیں کیں اور فرمایا کہ اپنے دیور قدرت اللہ شہاب کو بتا دو کہ میں نے اس کی درخواست اپنے برگزیدہ والد گرامیؐ کی خدمت میں پیش کر دی تھی۔

انہوں نے از راہِ نوازش اسے قبول فرما لیا ہے۔‘‘ یہ خط پڑھتے ہی میرے ہوش و حواس پر خوشی اور حیرت کی دیوانگی سی طاری ہو گئی، مجھے یوں محسوس ہوتا تھا کہ میرے قدم زمین پر نہیں پڑ رہے بلکہ ہوا میں چل رہے ہیں۔ یہ تصور کہ اس برگزیدہ محفل میں ان باپ بیٹی کے درمیان میرا ذکر ہوا، میرے روئیں روئیں پر ایک تیز وتند نشے کی طرح چھا جاتا تھا۔ کیسا عظیم باپ، کیسی عظیم بیٹی! دو تین دن میں اپنے کمرے میں بند ہو کر دیوانوں کی طرح اس مصرع کی مجسم صورت بنا بیٹھا رہا۔
ع مجھ سے بہتر ذکر میرا ہے کہ اس محفل میں ہے‘‘
خواتین و حضرات ! مجھے قدرت اللہ شہاب کی بات سے مکمل اتفاق ہے کیونکہ میرا یقین ہے کہ جناب سیّدہ فاطمہؓ صرف خواتین کے خواب میں تشریف لاتی ہیں، وہ بھی ایسی خواتین جو نیک سیرت ہوں اور پابند صوم و صلوٰۃ ہوں۔ میرے والدین کی وفات کو برسوں گزر گئے تو ایک روز میں نے بہن بھائیوں سے پوچھا کہ والدہ محترمہ خواب میں کم آتی ہیں، تو میری سب سے چھوٹی بہن محترمہ عظمیٰ برلاس جو برطانیہ میں مقیم ہیں، کہنے لگیں کہ ’’....میں نے والدہ محترمہ کو دو مرتبہ خواب میں دیکھا ہے، وہ دونوں مرتبہ جناب سیّدہ فاطمۃ الزہرہؓ کو وضوکروا رہی تھیں....‘‘میں یہ احوال سن کر خوش ہوا کہ ہمارے لئے یہ خوش بختی ہے کہ ہماری والدہ کا شمار جناب سیّدہ فاطمہ ؓ کی کنیزوں میں ہوتا ہے، جسے خاندانِ نبی ﷺ کی محبت نصیب ہو جائے اسے اپنے نصیب پر فخر کرنا چاہئے۔ کل جناب سیّدہ ؓ کا یوم پیدائش ہے اس لئے یہ سب کچھ یاد آ گیا، بقول اصغر عابد ؎
عابدؔ اپنا مرکز و محور، مکہ اور مدینہ ہیں
رہنے دے یہ شور مچاتی کھوکھلی دنیا ایک طرف
تازہ ترین