آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار30؍جمادی الاوّل 1441ھ 26؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

نہ یہ ہرن ہے اور نہ ہی چوہا، دنیا کا سب سے چھوٹا کھر دار جانور

جنگلی حیات کے ماہرین نے ویتنام کے گھنے جنگل سے ایک ایسا جانور دریافت کیا ہے، جس کا جسم ہرن کی مانند اور منہ کسی چوہے جیسا ہے۔ اسی لیے انگریزی میں اس کا نام ماس ڈیئر ہے جبکہ اردو میں اسے چوہا ہرن کہا جاسکتا ہے۔ یہ ویتنامی دارالحکومت، ہو چی من سٹی کے شمال مشرق میں 450 کلومیٹر دوری پر واقع ایک جنگل میں پایا جاتا ہے۔دلچسپی کی بات یہ ہے کہ اس کا تعلق نہ تو چوہوں کی کسی قسم سے ہےاور نہ ہی یہ کسی قسم کا ہرن ہے بلکہ یہ ان سب سے الگ تھگ ایک نوع ہے، جسے اس دنیا کا سب سے چھوٹا کھر دار جانور بھی قرار دیا جاتا ہے۔ یہ صرف ڈھائی کلو تک وزنی ہوتا ہے۔اسے آخری مرتبہ 1990 میں اسی جنگل میں دیکھا گیا تھا لیکن پھر یہ کبھی دکھائی نہیں دیا۔یہ بظاہر معدوم ہوچکا ہے، مگر ان کے زندہ ہونے کی امید پر تلاش بھی مسلسل جاری ہے، لیکن 30 سال کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ جب ویتنام ہی کے سائنسدانوں نے اس جانور کی زندہ حالت میں تصاویر لی۔

OK کا مطلب

اگر یہ کہا جائے کہ انگریزی لفظ OKدنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے الفاظ میں سے ایک ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ بات بات پر OKبولتے ہو ئے آپ نے کبھی سوچا کہ اس کا مطلب کیا ہے ؟ دراصل یہ لفظ پرانی انگریزی کے دو الفاظ” Oll Korrect”کا مخفف ہے، جن کا مطلب ہے “سب ٹھیک ہے”۔ انیسویں صدی کے وسط میں امریکی شہرو ںبوسٹن اور نیویارک میں غیر روایتی الفاظ کا استعمال عام تھا اور بڑے لفظوں کومختصر کر کے بولنا بہت پسند کیا جا تاتھا۔اس دور میں” You know”کی جگہ KYاور” Oll wright” کی جگہ OW جیسے مخفف عام استعمال کئے جاتے تھے۔اگرچہ ان میں سے اکثر وقت کے ساتھ ختم ہو گئے ،مگر ایک سیاستدان کی وجہ سے OKکا استعمال جاری رہا۔

یہ سیاستدان وین بورین تھے جن کا عرف عام “Old Kinderhook”تھا اور ان کے ساتھی اور کارکن انہیں مختصر ًاOKکہتے تھے اورانہوں نے ایک OKکلب بھی بنارکھاتھا۔اگرچہ اس لفظ کا تعلق سیاست سے توختم ہو گیالیکن “سب ٹھیک ہے” یا” ٹھیک” کے معنوں میں اس کا استعمال اب بھی بڑے پیمانے پر کیا جاتا ہے۔

’پرندوں کا بادشاہ’جیجیل‘

جیجیل یعنی ویسڑن ٹراگوپن دنیا کا خوبصورت ترین اور شرمیلے مزاج کا ایک نایاب پرندہ ہے۔ یہ شکاریوں سے آنکھ بچا کر اپنی نسل کے بقا کی اپنی سی کوشش میں ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقے کوھستان میں ویسڑن ٹراگوپن کو جیجیل اور بھارت ہماچل پردیش میں ججورانا کے نام سے پکارا جاتا ہے، جس کا مطلب ’پرندوں کا بادشاہ‘ ہے۔

عموماً پرندوں کا یہ بادشاہ رات کو اور علی الصبح باہر نکلتا ہے۔انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (آئی یو سی این) کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں اس پرندے کی سب سے زیادہ تعداد پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی وادی پالس میں پائی جاتی ہے۔ اس وقت دنیا میں ویسڑن ٹراگوپن کی مجموعی تعداد پچیس سو سے تین ہزار تک بتائی جاتی ہے۔