آپ آف لائن ہیں
ہفتہ17؍ذی الحج 1441ھ8؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

دعا منگی کیس: تاوان کیلئے معاملات پاکستان سے باہر طے کئے، تفتیشی حکام

کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس سے جواں سال طالبہ دعا منگی کے اغوا کے بعد تاوان وصول کرنے تک کے تمام معاملات انٹرنیٹ کے ذریعے پاکستان سے باہر سے طے کیے گئے اور اس واردات کے تانے بانے 7 ماہ قبل بسمہ سلیم اغوا کیس سے 100 فیصد مل رہے ہیں۔

اعلیٰ تفتیشی حکام کے مطابق 19 سالہ دعا منگی کے اغوا کے بعد تاوان طلب کرنے کی یکم دسمبر کو کی گئی پہلی کال سے لے کر 6 اور 7 دسمبر کی درمیانی شب تک ملزمان کا آخری رابطہ واٹس ایپ کے ذریعے بیرون ملک سے کیا گیا۔

پولیس کو شبہ ہے کہ ملزمان کراچی میں اپنی فیلڈ ٹیم سے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے ہی مسلسل رابطے میں تھے۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق اس کیس کا رابطہ کار گروہ دعا منگی کے اہل خانہ سے اردو میں بات کرتا تھا، ملزمان کی ہدایت کے عین مطابق اہلخانہ پولیس اور متعلقہ اداروں سے قطعی طور الگ ہوگئے تھے۔

ذرائع کے مطابق ملزمان کے پہلے رابطے کی انٹرنیٹ آئی پی پاکستان سے باہر کی ہے۔ اغوا کار ملزمان کا رابطہ کار گروہ کس ملک میں بیٹھ کر کام کر رہا ہے؟ اس بارے میں ذرائع نے تفصیلات بتانے سے معذرت کی ہے۔

ذرائع کے مطابق ایک اہم سرکاری ادارے میں افسر اور مغویہ دعا کے ماموں نے بازیابی کے سلسلے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق کئی ملین پاکستانی روپے کے تاوان کی ادائیگی کے بعد دعا منگی کی بازیابی عمل میں آئی ہے۔ رواں سال 11 مئی کو ڈیفنس میں ہی خیابان سحر پر دعا منگی کی ہم عمر لڑکی بسمہ سلیم کو بڑا بخاری کے چائے خانے سے واپس پہنچنے پر گھر کے سامنے سے عین اسی انداز میں کار سوار ملزمان نے اغوا کرلیا تھا۔ جبکہ دعا منگی کو چائے خانہ سے گھر روانہ ہوتے ہوئے کار میں اٹھایا گیا۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق بسمہ سلیم کی رہائی کے لیے تاوان کی ادائیگی کے معاملات بھی انٹرنیٹ پر ہی طے کیے گئے تھے۔ دعا منگی کو بھی بسمہ سلیم کی طرح رات گئے تاوان کی ادائیگی کے بعد رہا کیا گیا ہے۔

19سالہ دعا منگی کو گزشتہ ہفتے کی رات 10 بجے ڈیفنس فیز 6 کے علاقے بڑا بخاری سے ایک ریسٹورنٹ کے باہر سے اغوا کر لیا گیا تھا۔ چار سے زائد ملزمان کار میں سوار تھے جنہوں نے مزاحمت کرنے پر دعا کے ساتھی حارث سومرو کو فائرنگ کرکے زخمی کر دیا تھا۔ شاطر ملزمان دعا کا موبائل فون بھی وہیں پھینک کر فرار ہوئے تھے۔

بعدازاں ملزمان کی جانب سے سوشل میڈیا کے ذریعے دعا کے اہل خانہ سے ڈھائی لاکھ امریکی ڈالر تاوان کی ادائیگی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ دعا منگی ہفتے کو علی الصباح اپنے گھر واپس پہنچ گئی۔ اس کی رہائی کے طریقہ کار کی تفصیلات تو فوری طور پر دستیاب نہیں ہوسکیں تاہم پولیس نے تصدیق کی ہے کہ دعا منگی خیریت سے ہے۔

قومی خبریں سے مزید