آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ3؍ جمادی الثانی 1441ھ 29؍ جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

اردو کانفرنس: انور مقصود کا ’مرزا غالب سے مکالمہ‘


کراچی میں جاری عالمی اردو کانفرنس میں معروف ڈرامہ نگار، مزاح نگار، دانشور اور ادیب انور مقصود نے اپنے مخصوص انداز میں ’مرزا غالب سے مکالمہ ‘سنایا۔

آرٹس کونسل کراچی میں 12ویں عالمی اردو کانفرنس کے آخری روز انور مقصود نے طنز و مزاح کا طوفان برپا کردیا۔

کانفرنس میں انہوں نے مختلف موضوعات کو ہلکے پھکے مزاح کے انداز میں حاضرین کے گوش گزار کیا، جسے شرکاء کی جانب سے بے حد سراہا گیا۔

انہوں نے اپنے مکالمے میں قومی کرکٹ کے چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ مصباح الحق کے ساتھ سابق صدر آصف زرداری کا بھی ذکر کیا۔

انور مقصود نے اپنے مکالمے میں یہ ذکر بھی چھیڑا کہ سیاست دانوں کو ان دنوں کن بیماریوں کی تلاش ہے؟

انہوں نے شاعرہ فہمیدہ ریاض اور فیض احمد فیض کے درمیان مکالمے کو بھی دلچسپ انداز میں پیش کیا، انہیں سننے کے لیے شہریوں کی بڑی تعداد آرٹس کونسل پہنچی۔

انور مقصود کے سیشن میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی، جن میں وزیر ثقافت سید سردار علی شاہ، آئی جی سندھ سید کلیم امام، اداکار قوی خان، ادیبہ حسینہ معین، ادیب رضا علی عابدی اور صوبائی وزیر شہلا رضا سمیت دیگر شامل ہیں۔

شرکاء انور مقصود کے دلچسپ مکالمات سے لطف اندوز ہوئے اجلاس کے آخر میں وزیر ثقافت سندھ سید سردار علی شاہ نے انور مقصود کو پھولوں کا گلدستہ پیش کیا۔

کراچی آرٹس کونسل میں منعقدہ بارہویں عالمی اُردو کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب میں صدر آرٹس کونسل احمد شاہ نے کہا کہ گزشتہ 12برس سے عالمی اُردو کانفرنس کے انعقاد کا سلسلہ کامیابی سے جاری ہے ۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 12برس میں جتنے ادیب، شاعر اور ادبی شخصیات جو کانفرنس کا حصہ تھے، جو اب ہم میں نہیں رہے ان سب کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں ان تمام شخصیات کی کمی عالمی اُردو کانفرنس میں ہمیشہ محسوس ہوتی رہے گی۔

محمد احمد شاہ کا مزید کہنا تھا کہ صرف پاکستان بھر سے نہیں بلکہ پوری دُنیا سے جتنے ادیب، شاعر اور مصنف عالمی اُردو کانفرنس میں شریک ہوئے ہیں، ان سب کو کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، آئندہ سالوں میں بھی علم و ادب کے خزانے لٹاتی اس کانفرنس کا انعقاد کرتے رہیں گے۔

آخر میں انہوں نے اہلیانِ کراچی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کراچی علم و ادب سے محبت کرنے والے زندہ دلوں کا شہر ہے جنہوں نے بڑی تعداد میں اس کانفرنس کا حصہ بن کر اسے کامیابی سے ہمکنار کیا۔

اختتامی اجلاس کے بعد نوجوانوں کا مشاعرہ ہوا جس میں شرکاءکی بڑی تعداد نے شرکت کی اور لوگ رات گئے تک لطف اندوز ہوتے رہے۔

قومی خبریں سے مزید