آپ آف لائن ہیں
اتوار18؍ذی الحج 1441ھ 9؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

حکومت پیوندکاری سے کام چلانا چاہتی ہے

ہم نے گزشتہ 72برسوں میں عجب دور دیکھے ہیں۔ وہ دور بھی دیکھا ہے جب اقتدار بہرہ تھا اور کسی کی بات سنتا ہی نہ تھا۔ وہ دور بھی آیا جس میں اقتدار کان تو رکھتا تھا مگر عقل و ہوش سے بے بہرہ تھا۔ پھر وہ حکمران بھی آئے جنہوں نے انسانوں کو ذلیل کرنے کا نام انسانی عظمت رکھ دیا اور اہلِ وطن کیلئے وہ قہر ِ الٰہی بن گئے اور پھر وہ دور بھی آیا جس میں پاکستان کے اصل مسائل کا چرچا ہوا لیکن یہ سورج بھی زیادہ دیر چمک نہ سکا، گزشتہ ہفتے کی ایک خبر کے مطابق پاکستان کے ایک سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں مجموعی قومی آمدنی کا صرف 2فیصد تعلیم پر خرچ کیا جاتا ہے جو ایشیا میں سب سے کم ہے۔ ہمارے ملک کے مسائل میں سے تعلیم ایک بنیادی مسئلہ ہے جس کے ساتھ دیگر مسائل بھی جڑے ہوئے ہیں جیسے سیاسی، اقتصادی، جمہوری اور صحافتی… آج کا کالم صحافت کے حوالے سے سپرد قلم کررہا ہوں۔ حکومت کے ایک اعلان کے مطابق قومی پریس اپنا کردار ادا کرنے میں پوری طرح آزاد ہے۔ اگر ایسا ہے تو ہمارے اخبارات و جرائد عدم تحفظ اور عدم توازن کا شکار کیوں نظر آرہے ہیں؟ اخبارات کے بارے میں یہ شکایت عام طور پر پائی جاتی ہے کہ وہ افوائیں پھیلاتے اور بے پر کی اُڑاتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان میں تحقیق اور وقوف کا فقدان ہے۔ میرا خیال ہے کہ شکوئوں کا سلسلہ دراز کرنے کے بجائے ان اسباب کا سراغ لگایا جائے جو ہمارے قومی پریس کو عدم تحفظ کا شکار کئے ہوئے ہیں۔ اگر حکومت کی سوچ واضح اور صحت مند ہو اور وہ اچھی روایات قائم کرنا چاہے تو وہ ایسا کرسکتی ہے لیکن ہر حکومت پیوند کاری سے کام چلانا چاہتی ہے جو کہ مسائل کا حل نہیں ہے۔ ابلاغ عامہ کی پالیسی تشکیل دیتے وقت یہ اصول مدنظر رکھا جاتا ہے کہ اخبارات و جرائد کو صحیح ذرائع تک رسائی حاصل ہونی چاہئے۔ ترقی یافتہ ملکوں میں اخبار نویس ہر جگہ پہنچ جاتے ہیں اور قومی مفاد کی ہر خبر باہر لے آتے ہیں۔ ہمارے ہاں ہربات کنفیڈنشل ہے۔ حکومت کے بڑے فیصلوں کے مندراج کنفیڈنشل ہیں۔ سرکاری فائلوں میں اخبارات کے تراشے کنفیڈنشل ہیں۔ دفتر خارجہ کا ہر ہر لفظ کنفیڈنشل ہے۔ جب ہر چیز پردے میں ہو تو پھر اخبارات کیا چھاپیں؟ اور اہل تحقیق کس موضوع پر تحقیقی اور تنقیدی کام کریں؟ اس طرزِ عمل کے نتیجے میں بڑے بڑے قومی فیصلے رازداری سے ہوجاتے ہیں اور قوم کو اس وقت ان کے اثرات کا علم ہوتا ہے جب کوئی بڑا حادثہ یا کوئی خونخوار المیہ وجود میں آجاتا ہے۔ ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرتے ہوئے اور اکیسویں صدی میں داخل ہوتے ہوئے حکومت کو وہ تمام قوانین اور ضابطے تبدیل یا ختم کردینے چاہئیں جو حقیقت تک پہنچنے کیلئے دیوار سکندری بنے ہوئے ہیں۔ آفیشل سیکریٹ ایکٹ برطانوی استعمار نے نوآبادیاتی نظام چلانے کیلئے 1923میں بنایا تھا وہ آزادی کے نئے تقاضوں کے مطابق نظرثانی کا محتاج ہے۔ ابلاغ عامہ کی پالیسی کا دوسرا بنیادی نکتہ یہ ہوسکتا ہے کہ اخبارات و جرائد پر ایگزیکٹو کا کم سے کم کنٹرول ہو۔ پریس اینڈ پبلی کیشنز آرڈیننس میں جس طرح ایگزیکٹو کو بے پناہ اختیارات حاصل ہیں وہ پریس کے صحت مند ارتقا کیلئے نامناسب ہے۔ اخبارات و جرائد کے معاملات بالعموم عام قوانین کے تحت عدالتوں میں طے ہونے چاہئیں۔ ابلاغ عامہ پالیسی کا تیسرا بنیادی اصول یہ ہوسکتا ہے کہ نیکی اور بھلائی کو فروغ ملے اور بدی کو پھیلنے سے روکنے کیلئے باشعور اہتمام کیا جائے سچائی کی زیادہ سے زیادہ اشاعت حکومت کی ذمہ داری ہے۔ حق و صداقت کو چھپانا ایک ظلم عظیم ہے اس ظلم عظیم کی روش بالکل ترک ہوجانی چاہئے کہ اس روش نے حکومتوں اور معاشروں کو بے حد نقصان پہنچایا ہے۔ یہاں میں عام شہری اور ایک کالم نویس کی حیثیت سے قومی پریس کو اتنا مضبوط دیکھنا چاہتا ہوں کہ وہ عوام کے حقوق کی حفاظت میں بڑی سے بڑی طاقت سے بھی ٹکر لے سکے اور آئین کے تحت ملنے والے سیاسی اور جمہوری نظام کی حفاظت کرسکے اور یہ تب ہی ممکن ہے جب حکومت میں تنقید سننے کا حوصلہ اور اپنی اصلاح کرنے کا جذبہ موجود ہو اور ایک صحافی کے قلم کی صداقت کیلئے احترام پایا جاتا ہو کہ اخبار نویس کسی درجے کا بھی ہو امانت دار ہوتا ہے، ہر دو سمتوں سے خبر اور خبر حاصل کرنے کے ذریعوں کی امانت…اور جن تک وہ پہنچانی ہے ان کے ضمیر اور مفاد کی امانت۔ وہ چکی کے دو پاٹوں میں پستا رہتا ہے اسی پسنے میں اس کی سرخروئی ہے۔ یہی اس کے وجود کا جواز ہے۔ یہی اس کی حیات ہے۔ امانت پہنچانے میں ہمارے پاس جو زمین و شعور کی چھلنی ہے بس وہ سلامت رہنی چاہئے کہ اس میں سے سنگ ریزے نہ سرک جائیں۔ اخبارات کو اپنی زندہ و توانا سچائی، روشنی اور ترقی پذیر ملک کی نمائندگی کرنی ہے تو اسے یہ تاریخی اور پیشہ ورانہ کردار انجام دینا ہوگا کہ زندگی سے سرشار صحافت ہوا میں ہاتھ نہیں اچھالتی اسے دل درد مند کو سنبھالنے سے ہی مہلت نہیں ملتی اور اس امانت کو سنبھالنےکی ذمہ داری اس کی رفتار پر بریک لگائے رکھتی ہے جس امانت کو قوم کا ضمیر اور اپنے پڑھنے والوں کی سلامتی کہتے ہیں کہ یہی سچائی ہے یہی روشنی ہے۔