آپ آف لائن ہیں
ہفتہ3؍شعبان المعظم 1441ھ28 ؍مارچ 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

اداکارہ سوارا بھاسکر بھی متنازع شہریت بل کی مخالف

اداکارہ سوارا بھاسکر بھی متنازع شہریت بل کی مخالف


شہریت کے متنازع قانون کے خلاف احتجاج میں بالی ووڈ کے اداکار بھی شامل ہوگئے، ممبئی میں اداکارہ سوارا بھاسکر نے نعرے لگوادیئے، متنازع قانون کے خلاف چنئی اور ممبئی میں متنازع قانون کے خلاف ریلیاں نکالی گئیں۔

ممبئی میں بالی وڈ اداکارہ سوارا بھاسکر نے متنازع شہریت قانون کی مذمت میں ’’ہلہ بول‘‘ کے نعرے لگائے۔

اُدھر اترپردیش کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) اے این سنگھ سیخ نے مسلمانوں کو پاکستان جانے کا طعنہ دیتے ہوئے کہا کہ یہاں کھاتے ہو اور تعریف کسی اور کی کرتے ہو، بھارت میں نہیں رہنا چاہتے تو پاکستان چلے جاؤ۔

یہ بھی پڑھیے: بھارتی کامیڈین نے متنازع قانون کے خلاف نظم لکھ ڈالی

ریاست آسام میں کانگریس کی مودی مخالف ریلی میں راہول گاندھی نے متنازع شہریت قانون پر سرکار کو آڑے ہاتھوں لیا۔ کانگریسی رہنما کا کہنا تھا مودی بھارت کوتقسیم کر رہےہیں۔

بھارت میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف ملک گیر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ ریاست اترپردیش میں پولیس کے بدترین تشدد کے باعث سب سے زیادہ ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: اروندھتی رائے کی مودی سرکار پر کڑی تنقید

آسام میں کانگریس رہنما راہول گاندھی کی قیادت میں پارٹی کے یوم تاسیس پر ’’آئین بچاؤ، بھارت بچاؤ‘‘ مارچ کیا گیا۔

دوسری جانب یکم جنوری کو دہلی گیٹ پر سو سے زائد شہروں کے طلبہ کی جانب سے احتجاج کی تیاریاں عروج پر ہیں، جہاں بھارتی نوجوان مل کر آئین کے تحفظ کو سالِ نو کے عہد کے طور پر دہرائیں گے۔

واضح رہے کہ متنازع شہریت بل 9 دسمبر 2019 کو بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں (لوک سبھا) اور 11 دسمبر کو ایوان بالا (راجیہ سبھا) نے منظورکیا تھا، جس کے بعد بھارتی صدر رام ناتھ کووند کے دستخط کے بعد یہ باقاعدہ قانون کا حصہ بن گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: متنازع قانون کیخلاف احتجاج، نئی دلی میں خواتین کا دھرنا

متنازع بل کے تحت پاکستان، بنگلا دیش اور افغانستان سے بھارت جانے والے غیر مسلموں کو تو بھارتی شہریت دی جائے گی لیکن مسلمانوں کو نہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید