آپ آف لائن ہیں
پیر10؍صفر المظفّر 1442ھ 28؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

’قرۃالعین حیدر‘ علم و ادب کے سبز کنبے کی رُکن

شاہین پروین،ریسرچ اسکالر

قرۃالعین حیدر متوسط مسلم گھرانے میں 20جنوری1927 کو علی گڑھ میں پیدا ہوئیں ۔ان کے والد سجاّدحیدر یلدرم کا شمار اردو کے مشہور فکشن نگاروں میں ہوتا ہے وہ یوپی کے ایسے پڑھے لکھے زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے جن کے افراد، دربار مغلیہ میں سہ ہزاری پنچ ہزاری اور منصب دار وغیرہ رہے تھے ۔ان کے نگڑ دادا سیّد حسن تر ندی وسط ایشیا سے ہندوستان آئے۔ ان کے خاندان میں علم وادب کا سرمایا ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتا رہا’ انکے گھرانے کی عورتیں بھی پڑھی لکھی تھی ۔ یلدرم کی نانی سیدہ ام مریم نے تو قرآن شریف کا فارسی میں ترجمہ بھی کیا تھا۔ قرۃ العین حیدر عرف عینی آپا کے نام سے مشہور ہوئیں۔ ان کی والدہ نذر سجاد بھی اردو کی مشہور افسانہ نگار تھیں۔

قرۃالعین حیدر کی والدہ نے” اخترالنساء”کے نام سے پہلا ناول لکھا ۔اس وقت ان کی عمر 17سال تھی ۔شادی کے بعد انھوں نے نذر سجّاد کے نام سے لکھنا شروع کیا ۔۔انھوں نے اعلی تعلیم حاصل کی۔ دورانِ تعلیم ہی انھیں تصنیف وتا لیف کا شوق پیدا ہوا جس کی و جہ سے وہ سجاد حیدر سے شادی سے قبل ہی ادیبہ بن چکی تھیں ۔ان کی تحریریں اس دور کے جرائد میں شائع ہوتی رہتی تھیں ۔شوہر کی ملازمت کے سلسلے میں انھیں مختلف جگہ رہنے ‘ گھومنے پھرنے اور سیاحت کرنے کابھی موقع ملا۔

قرۃالعین کا فن لا زوال علمی ادبی شمع کا خزانہ ہے ۔ وہ علم وادب کے ساتھ ایک ملٹی ڈائمینشن ذہن کی مالک تھیں’ذی وقار ‘صاحب حیثیت’معزززمیں دار گھرانے کی بیٹی تھیں۔ ان کے گھرانے کے لوگ مغلیہ دربار میں اعلی منصب پر فائز رہے ۔ ابائو اجداد وسط ایشیا سے ہند وستان تشریف لائے تھے ۔اور یہیں سکونت اختیا ر کی۔جن کے دم سے علم و ادب کا ایک سبز کنبہ وجود میں آیا ۔علم وادب ا ن کے خاندان کی وراثت میں موجو د رہا جو نسلاً بہ نسلاً چلتا رہا۔

قرۃ العین حیدر کا بچپن پورٹ بلئیر میں گزرا ۔ ابتدائی اور ثانوی تعلیم، دہرادون، لاہور اور لکھنٔو میں حاصل کی۔ دہرہ دون میںپرائیویٹ سے میٹرک کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیاجب کہ انٹرمیڈیٹ1941 میں ازبلاتھو برن کالج لکھنٔو سے پاس کیا۔ والد کے انتقال کے بعد بھائی کو دہلی میں ملازمت مل گئی تو سب ہی لوگ دہلی آگئے۔ قرۃ العین حیدرکانے آئی۔ پی کالج دہلی یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔ بی۔ اے کرنے کے بعد لکھنٔو یونیوورسٹی سے1947میں ایم ۔اے انگریزی میں کیا۔جدید انگریزی ادب کا کورس 1952میں کیمبرج یونی ورسٹی سے کیا۔ 

اس کے بعد آرٹ کی تعلیم گورنمنٹ اسکول آف آرٹ لکھنٔو سے حاصل کی۔ صحافت کی تعلیم ریجنٹ اسٹریٹ پولی ٹیکنیک لندن سے حاصل کی، اس طرح نو عمری سے ہی ان میں گھومنے پھرنے اور سیرو سیاحت کرنے کا شوق پروان چڑھنے لگا انہیں تصنیف وتخلیق کے ساتھ ساتھ مصّوری کا بے حد شوق تھا ۔مشہور ایل ایم سین سے انھوں نے جاپانیواش تکنیک بھی سیکھی ۔لندن میں پنچ تنتر پر بنائی ہوئی ا ن کی الیسٹریشن کی نمائش بھی ہوئی ۔ا س کے علاوہ انھوں نے اپنی کتابو ں کے سر ورق بھی خود تیار کئے اور بہت سی پینٹنگ بھی بنائیں لیکن یہ صرف شوق تھا، جبکہ تصنیف ان کا جذبہ وجنو ن تھا ۔

تخلیقی سفر چھ سال کی عمر میں شروع کیا تھا ۔ ان کی کہانی پہلی بار بچوں کے رسالے ‘پھول ‘لاہور میں شائع ہوئی ۔ پہلا افسانہ 13سال کی عمر میں ” ایک شام ” جسے وہ طنزیہ اسکرپٹ کہتی تھیں۔ فرضی نام ”لالہ رخ”کے نام سے شائع کرایا ۔ ان کے چچا مشتاق کا مشورہ تھا کہ اپنے نام سے چھپواؤگی تو کسی کو یقین نہیں آئےگا کہ یہ آپ نے لکھا ہے۔ اس کے علاوہ دوسرا افسانہ ” یہ باتیں ” اور” ہمایوں ”1942 میں بنت سجاّد حیدر یلدرم کے نام سے شائع ہوا۔ تیسرا افسانہ ” ارادے” جون 1944 کے ادیب میں شائع ہوا اور اس پر انہیں انعام بھی ملا۔ جب قرۃ العین حیدرکے نام سے اشاعت ہوئی توان کے چچا زاہدی نے کہا ” اب تم افسانہ نگار بن گئیں۔ ‘‘

قرۃ العین حیدرکا بچپن آزادانہ ماحول میں گزرا۔ ان کا خاندان قدامت پرست ہونے کے ساتھ نئے عہد سے متاثر بھی تھا۔ قرۃ العین حیدرکو ابتدا سے ہی اپنے والدین کے ساتھ مختلف جگہوں پر رہنے اور گھومنے پھرنے کا موقع فراہم ہوا۔ ایک جگہ خود و لکھتی ہیں:

”بھانت بھانت کی جگہوں پر رہے، بھانت بھانت کے لوگوں اور انسانوںسے ملےا ور جہاز کے سفر کیے۔ بس تیرتے ہوئے چلے جا رہے ہیں۔بمبئی ‘کلکتہ ‘قاہرہ ‘ترکی ‘مستقل ادھر سے اُدھر گھوم رہے ہیں‘‘۔

قرۃ العین حیدر ایک خوش مزاج اور خوشحال گھرانے کی بیٹی تھیں، ان کے والد علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے رجسٹرار کے عہدے پر فائز تھے لیکن ان کی خوشحال زندگی کو1947 تک آتے آتے زبردست دھکے لگے۔ ایک ان کے والد کی موت اور دوسرا تقسیم ہند کا المیہ۔ ان دونوں المیوں نےان کے ذہن ‘کردار اور قلم پر زبردست اثر ڈالا۔ تقسیم ہند کے بعد ہجرت کا سلسلہ شروع ہوا تووہ خود بھی اس ہجرت کے قافلے میں شریک ہوکر پاکستان چلی آئیں،ان کے درد غم میں برابر کی شریک ہوکر حقیقت کی ا ئینہ سامانی فراہم کرتی ہیں۔ 

پاکستان میں قیام کے دوران وہ محکمہ اطلاعات و نشریات بحیثیت اسیسٹینٹ ڈائریکٹر کام کرتی رہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان انٹرنیشنل ایرلائن (پی آئی اے)میں1955سے 1956 تک انفارمیشن افسر رہیں اور کچھ وقت کے لیے ” پاکستان کوارٹر ” کی قائم مقام ایڈیٹر بھی رہیں ۔ا ن کی ادبی خدمات پر ہندوستان کا سب سے بڑا ادبی اعزاز’’ گیان پیٹھ ‘‘ایوارڈ دیاگیا ،جو ان سے پیشتر اردو میں صرف فراق گورکھپوری ہی کو عطا کیا گیا تھا۔ قرۃ العین حیدر نے ٣١ معروف اور معتبر ایوارڈ اور اعزازات حاصل کئے ۔

ہمارے عہد نو کی وہ جدید فکشن نگار تھیں، جن پر اردو ادب ہمیشہ ناز کرتا رہے گا۔ انہوں اپنے تخلیقی سفر کا آغاز تاریخ کی نبض پر ہاتھ رکھ کر شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے عالمی ادب پر پھیل گئیں۔ ان کی شاہکار تحریرو ںمیںمیرے بھی صنم خانے ‘سفینۂ غم دل ‘ آگ کا دریا، آخر شب کے ہمسفر ،گردش رنگ و چمن، کار جہاں دراز ہے، چاندنی بیگم ناول وغیرہ قابل ذکر ہیں۔جلا وطن ، آئینہ فروش شہر کوراں ، روشنی کی رفتارسینٹ فلورا آف جارجیا کے اعترافات، فقیروں کی پہاڑی، آوارہ گرد، فوٹو گرافر وغیرہ ایسے افسانے ہیں جو ان کی تاریخ و ادب سے دلچسپی کی گواہی دیتے نظر آتے ہیں۔

انہوں نے مشرقی پاکستان (بنگال)کے امیر طبقے کے ہاتھوں غریب محنت کشوں کے استحصال کے خلاف چائے کے باغ جیسی درد ناک کہانی قاریئن کے سامنے پیش کی اوراسی دور میں انھوں نے اگلے ”جنم موہے بٹیا نہ کیجو ”جیسی عہد وآفرین کہانی لکھ کر عورت ذات کی حالت و کیفیت ‘زبوں حالی اور معاشرے کے ایک المیہ کو اس انداز میں تحریر کیا ہے کہ یہ تحریر ادب عالیہ کا لافانی کارنامہ بن گئی ۔ان کے چار افسانوی مجموعے ہیں جن میں پہلا افسانوی مجموعہ” ستاروں سے آگے” ہے۔ جس میں چودہ افسانے شامل ہیں ۔یہ 1947میں شائع ہوا۔ دوسرا” شیشے کے گھر‘‘1954 میں شائع ہو،ا جس میں بارہ افسانے شامل ہیں۔ تیسرا افسانوی مجموعہ ”پت جھڑ کی آواز1966 میں منظر عام پر آیا ،جس میں آٹھ افسانے شامل ہیں۔ چوتھا مجموعہ” روشنی کی رفتار”ہے جو کہ1982 شائع ہو،ا جس میں اٹھارہ افسانےشامل ہیں۔

اس کے علاوہ 12 ایسے افسانے ہیں جو کسی کلیات یا مجموعہ میں شامل نہیں کئے گئے۔ان کا تخلیق سفر کم وبیش ستر سالوں پر محیط ہے۔ ان ستر سالوں میںانہوں نے اپنی تخلیقات میں تاریخی حقائق،انسانی نفسیات، معاشرتی ارتباط کے عوامی اور انسانی رشتوں کی قدر، فطرت کائنات ،وقت کا جبر اور موت کے فلسفے پر پوری زندگی زور دیا۔ ان کے شاہکار افسانوں، ناولوں اور ناولٹوں کا بنیادی موضوع وقت کا جبر، انسان کی بے چارگی ، تنہائی ازلی و ابدی جلاوطنی اور شدید احساس ناکامی ہے اس کے علاوہ عورت کا مقدر بھی ہے۔ ان کا تخلیقی ادب روایت سے آگے جا کر ملک اور غیر ممالک میں بھی قدرومنزلت کی نگاہ دیکھا جاتا ہے اور آگے بھی دیکھا جاتا رہے گا۔

قرۃ العین حیدرکا ناول ” آگ کا دریا ” اردو ادب کا ایک شاہکار ناول ہے۔