• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قیامت کےدن اعمال گنےنہیں تولےجائیں گے،مولاناتقی عثمانی

والسال (پ ر) حدیث کی خدمت کی وجہ سے امام بخاریؒ کو جو خدا تعالیٰ نے مقام عطا فرمایا ہے وہ دنیا میں کسی اور محدث کو نہیں ملا۔ امام بخاریؒ عربی نہیں عجمی تھے، بخارا میں پیدا ہوئے اور بخارا ہی میں رہے، امام بخاریؒ کی زبان بھی عربی نہ تھی، آپ کو عربی پر کوئی اتنا عبور بھی نہ تھا، عربی اپنے اوپر فخر کرتے تھے، وہ کسی غیر عربی کو تسلیم کرنے کو تیار نہ تھے لیکن عربوں نے امام بخاریؒ کے آگے سر جھکا دیا۔ حدیث کی خدمت کے لیے خدا نے عجمیوں کو منتخب فرمایا۔ ان خیالات کا اظہار شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے ابوبکر ٹرسٹ والسال میں ختم بخاری شریف کی تقریب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ معجزہ کر دکھایا کہ جن کی زبان عربی نہیں انہیں عربوں کا امام بنادیا، تمام مسالک کے علما اور محدثین نے اس بات کو تسلیم کیا، امام بخاریؒ کی کتاب قرآن کریم کے بعد زمین پر سب سے زیادہ صحیح کتاب ہے۔ محدثین نے اسے اصح الکتب بعد کتاب اللہ کا ٹائٹل دیا۔ انہوں نے کہا کہ امام بخاریؒ کی زبان فارسی تھی، اسی وجہ سے آپ نے ایک جگہ عربی لفظ کی بجائے فارسی لفظ لکھ دیا ہے۔ مولانا تقی عثمانی نے کہا کہ قیامت کے روز اعمال گنے نہیں جائیں گے بلکہ تولے جائیں گے، انہوں نے کہا کہ ایک آدمی صرف فرائض واجبات ادا کرتا ہے لیکن ان میں وزن ہے، جب کہ دوسرا آدمی ہزاروں نوافل ادا کرتا ہے لیکن اس کی گنتی تو زیادہ ہے مگر اس کے اندر وزن نہیں ہے تو اس کی قیمت زیادہ نہیں، ہمیں چاہیے کہ اپنے اعمال کے اندر وزن پیدا کریں، وزن کس طرح پیدا ہوگا، وہ اخلاص سے ہوگا، جتنا اخلاص ہوگا وہ عمل اتنا ہی وزنی ہوگا جس عمل کے اندر شہرت اور ریاکاری ہوگی وہ حقیقت میں کتنا ہی زیادہ ہو مگر اس کا کوئی وزن اور وقعت نہ ہوگی، انہوں نے کہا کہ آج زندگیوں میں باہم لڑائی، جھگڑے کیوں ہیں، اس کی بنیادی وجہ بدلہ ہے، ہم آج ہر کام بدلے کے لیے کررہے ہیں کہ ہم نے اس کو شادی پر یہ دیا تھا۔ سالگرہ پر یہ تھا مگر انہوں نے بدلے میں ہمیں کیا دیا، سارا جھگڑا اور فساد اسی لیے ہورہا ہے، انہوں نے کہا کہ تمام اعمال خدا کو راضی کرنے کے لیے کیے جائیں اور اخلاص سے کیے جائیں، کسی سے اس کا معاوضہ اور بدلہ مقصود نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ جب مجھ پر قاتلانہ حملہ ہوا تو بہت سارے لوگوں نے تحائف بھجوائے اور نیک تمنائوں کا اظہار کیا۔ ایک طالب علم میرے پاس آیا، اس کے ہاتھ میں صرف ایک مالٹا تھا، اس نے تحفہ کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا کہ حضرت میں غریب آدمی ہوں، میرے پاس صرف یہ ایک مالٹا ہے جو آپ کی خدمت میں پیش کررہا ہوں، میں نے اس سے کہا کہ جس خلوص کے ساتھ آپ نے یہ پیش کیا ہے، خدا کی قسم وہ ہزاروں کے تحفوں سے میرے لیے زیادہ قیمتی ہے۔ خدا تعالیٰ بھی انسان کے اخلاص کو دیکھتے ہیں کہ میرا بندہ کس اخلاص کے ساتھ اعمال کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اکابر علما دیوبند بھی اخلاص کا پیکر تھے۔ ایک مرتبہ مولانا اشرف علی تھانویؒ نے حضرت شیخ الہند کو اپنے ہاں جلسے پر بلایا تاکہ فریق مخالف پر علم کی دھاک بیٹھ جائے، حضرت شیخ الہند نے تقریر فرمائی لیکن فریق مخالف وہاں موجود نہ تھا جب وہ آئے تو آپ نے تقریر ختم کردی، ہم نے عرض کی، حضرت یہ لوگ اب آئے ہیں تقریر کریں، فرمایا میں نے ان ہی کی وجہ سے تقریر بند کردی ہے، کیونکہ اب میری نیت میں اخلاص نہ تھا بلکہ صرف اپنی دھاک بٹھانی مقصود تھی، امام احمد بن حنبلؒ بشر حافی کے جنازہ میں شریک نہ ہوئے، کسی نے پوچھا، اس کی کیا وجہ ہے، فرمایا نیت کو ٹٹولا تو وہ درست نہ تھی۔ آپس میں ایک دوسرے کو ہدیہ دیا کرو، اس سے محبت ہوتی ہے، مگر بدلے کی نیت نہ ہو۔ تقریب میں لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر تین علما کی دستار بندی بھی کی گئی جو اس سال ابوبکر ٹرسٹ سے فارغ التحصیل ہوئے ہیں۔ تقریب میں امام عطاء اللہ خان، مولانا احمدعلی، مولانا محمد رمضان، مولانا محمد لقمان، حافظ ضیاء القاسمی، مولانا اخترالزمان غوری، مولانا محمد قاسم، مولانا ضیاء المحسن طیب، مولانا طارق مسعود، مولانا قاری اظہار احمد، مولانا امداد اللہ قاسمی، مفتی محمود الحسن، مولانا خورشید احمد، قاری محمد یونس، مولانا محمد خالد، مفتی نذیر احمد نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ 

تازہ ترین