آپ آف لائن ہیں
جمعرات2؍رجب المرجب 1441ھ 27؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

نقیب قتل، 5 ملزم اہلکاروں کی درخواستِ ضمانت مسترد


سندھ ہائی کورٹ نے نقیب اللّٰہ قتل کیس میں 5 پولیس اہلکاروں کی درخواستِ ضمانت مسترد کر دی۔

سندھ ہائی کورٹ میں نقیب اللّٰہ قتل کیس میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار اور دیگر کی ضمانت پر رہائی کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔

دورانِ سماعت عدالتِ عالیہ نے 5 پولیس اہلکار ملزمان کی درخواستِ ضمانت مسترد کر دی۔

ملزمان کی درخواستِ ضمانت پر عدالت نے گزشتہ سماعت میں فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیئے: نقیب اللّٰہ محسود کے والد انتقال کر گئے

سندھ ہائی کورٹ نے انسداددہشت گردی عدالت کو نقیب اللّٰہ قتل کیس میں ملزمان کا ٹرائل 3 ماہ میں مکمل کرنے کا حکم بھی دیا۔

گزشتہ سماعت کے موقع پر 17 جنوری کو سندھ ہائی کورٹ نے نقیب اللّٰہ کے بھائی کی راؤ انوار کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر نوٹس جاری کیے تھے۔

نقیب اللّٰہ کے بھائی کے وکیل نے عدالت میں وکالت نامہ جمع کرا یا تھا۔

فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے عدالتِ عالیہ میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ مدعی مقتول نقیب اللّٰہ کے والد محمد خان کا انتقال ہو چکا ہے لہٰذا عدالت خود بھی مقدمہ چلا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیئے: نقیب قتل کیس، راؤ انوار پر فردِ جرم عائد

ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے کہا تھا کہ گرفتار پولیس اہلکاروں کو ضمانت پر رہا نہ کیا جائے، ٹرائل شروع ہو چکا ہے جسے جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی جائے۔

وکیلِ مدعیٔ مقدمہ نے کہا تھا کہ گرفتار ملزمان کو عینی شاہدین شناخت کر چکے ہیں، جیو فینسنگ اور دیگر شواہد سے ثابت ہو چکا ہے کہ نقیب اللّٰہ کو منصوبہ بندی کے تحت قتل کیا گیا، جعلی مقابلے میں نقیب اللّٰہ کو قتل کرنے کے ٹھوس شواہد ہیں۔

عدالت نے اس موقع پر نقیب اللّٰہ کے بھائی عالم شیر کی راؤ انوار کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر نوٹس جاری کیے تھے۔

پولیس اہلکار ملزم اللّٰہ یار، نازک، شکیل فیروز اور دیگر نے عدالت میں ضمانت کے لیے درخواستیں دائر کر رکھی تھیں جن کی ضمانت کی درخواستوں پر عدالت عالیہ نے گزشتہ سماعت کے موقع پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیئے: نقیب اللّٰہ قتل کیس کا اہم چشم دید گواہ لاپتہ

واضح رہے کہ نقیب اللّٰہ محسود کو 13 جنوری 2017ء کو کراچی کے رہائشی علاقے میں ایک جعلی پولیس مقابلے میں قتل کر دیا گیا تھا۔

مقتول نقیب اللّٰہ کے مرحوم والد محمد خان نے سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار اور دیگر پولیس اہلکاروں کی ضمانت پر رہائی کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

قومی خبریں سے مزید