آپ آف لائن ہیں
منگل13؍شعبان المعظم 1441ھ 7؍اپریل2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ایک کہنہ مشق صحافی اور کھیلوں کی دنیا کی ایک ممتاز شخصیت کا میر صحافت، میر خلیل الرحمٰن کو خراجِ عقیدت

جنگ گروپ آف نیوز پیپرز کے بانی ،دنیا ئے صحافت کی قدآور عہد ساز شخصیت ،میر خلیل الر حمٰن اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ان کے ذکر کے بغیر اُردو صحافت کا تذکرہ مکمل ہوہی نہیں سکتا۔ دوسری عالمی جنگ کا حرف اوّل جنگ گروپ کی صورت میں اُردو صحافت کی تاریخ کا ’’حرف آخر ‘‘بن چکا ہے ۔مملکت کا چو تھا ستون صحافت ہے تو نیوز پیپرز میڈ یا کا پہلا ستون، میر صحافت ،میر خلیل الرحمٰن ہیں ۔انہوں نے پہلےاخبار میں لکھنا شروع کیا پھر اخبار نکالنے اور اخبار کو اخبار کی طر ح چلانے میں جو مہارت حاصل کی ،وہ تاریخ صحافت کا ایک در خشاں باب بن گیا ۔

قیام پاکستان کی عظیم جدوجہد کی لمحہ بہ لمحہ داستان کے وہ ناقابل فراموش باب جس میں قلم سے جہد مسلسل سنہری حروف میں رقم ہے ،میر صاحب کے قابل ستائش کر دار سے پُر ہے ۔انہوں نےدہلی کے گرم سیاسی ماحول میں صحافت کا آغازکیا۔ صحافت کے مسلمہ قائد کی حیثیت سے جہاں تازہ آباد کرتے رہے اور دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان کی سب سے بڑی صحافتی ایمپائر بنا ڈالی اور بغیر تقاضا ئے صلہ وستائش اپنے کارہائے نمایاں کے تاریخ میںصحافت رقم کرتے چلے گئے۔ 

میر صاحب نے صحافت کے تمام شعبوں میں اپنی انفرادیت کے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں ان کی جدت پسندی نے اُردو اور انگر یزی صحافت میں نئی نئی راہیں تلا ش کیں۔اُنہوں نے یک دم جست لگانے کے بجائے زینہ بہ زینہ چڑھنے کو تر جیح دی ۔ذرّوں کو یک جاکر کے اینٹ بنائی اور پھر اینٹ پر اینٹ رکھ کر دیوار اٹھا ئی ،لیکن دیوار اُٹھانے سے پہلے بنیادوں کو مستحکم طور پر استوار کیا ۔یہی وجہ ہے کہ جنگ گروپ آف نیوز پیپرز ماضی کی چھوٹی سی پانی کی دھار کی طر ح بہتے بہتے آج ایک لمبے چوڑےپاٹ کا دریا بن چکا ہے اور یہ میر صاحب کی شبانہ روز محنت کا پھل ہے۔

وہ تصنع سے مبرا ،اخباری دنیا کے مرد میدان تھے ۔جذبات کے تابع نہیں تھے ،نہ کبھی ہوش پر جوش کو غالب آنے دیا ،ان کا شمار عامل صحافیوں اور صحافت کے محنت کشوں میں ہوتا تھا ۔اُن کی حیثیت ایک تاریخ ساز صحافی کی تھی ۔وہ خود ساز شخصیت تھے ۔اُنہوں نے کسی مخصوص پارٹی کا نقیب بننے کے بجائے ہمیشہ ملک وملت کا ترجمان بننے کو تر جیح دی ۔جنگ اخبار کے ذریعے ایک طر ف تحریک ِپاکستان کو آگے بڑھایا اور دوسری طر ف قیام ِپاکستان کے بعد ان مقاصد کو ہمیشہ عزیز رکھا جس کی بنیادپریہ ملک وجود میں آیا ۔وہ کسی حزب اقتدار اور حزب اختلاف سے وابستہ نہیں ہوئے ۔

اُن کی وفاداری اس دیس اور اس سر زمین سے رہی ۔اُن کا ہاتھ ہمیشہ پاکستان کے عوام کی نبض پر رہا ۔اُنہوں نے غریبوں کے دلوں کی دھڑکنیں سننے میں بھی کبھی کوتا ہی نہیںکی ،یہی وجہ ہے کہ آج ان کے لگائے ہوئے پودے خواص کے لیے بھی ہیں اور عوام کے لیے بھی ۔اُنہوں نے اپنا خون پسینہ اس شجر سایہ دار و ثمر آور کی آبیاری میں صرف کیا ۔گزرتے وقت کے ساتھ انہوں نے صحافت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا اور جدید ترین آلات کے ساتھ ایسا انقلاب بپا کیا کہ جنگ اخبار نہیں پاکستان کا تر جمان بن گیا ۔

اللہ نے انہیں جو ہر شناس آنکھیں دیں ۔صحافت ہی نہیں ،قومی زندگی کے دیگر شعبوں میں بھی ایسے لوگ خال خال ہی ہوں گے جو’’وژن‘‘کی نعمت سے میر صاحب کی طر ح سر فراز کیے گئے ہوں ۔انہوں نے سیاست دانی یا سیاست گری کی کبھی کوشش نہیں کی۔ وہ جمہوریت ،آمریت نماجمہوریت اور جمہوریت نما آمریت سب کو ہنس کر جھیل گئے ۔

میر صاحب نے ادارہ ٔ جنگ کو اپنے خون جگر سے پروان چڑھایا،جو دہلی سے منتقل ہوکر کراچی آیا اور پھر اس کا دائرہ بڑھتا ہی گیا ۔اس کے مراکزمشرق سے مغرب تک پھیلتے رہے۔ یہ میر خلیل الر حمٰن کی مرد شناسی تھی کہ انہوں نے بہت سے ممتاز اہل قلم کو جنگ میں لکھنے کی تر غیب دی اور جنگ اخبار صحافت کا خوش رنگ گُل دستہ بنتا چلا گیا ۔اُنہوں نے اپنے نئے نئے خیالات اور تجربات سے صحافت کی مسلسل خدمت کی ۔صحافت کی سنگلا خ وادیوں میں نت نئے گل بوٹے کھلانے کے ساتھ ساتھ علم وادب اور دین ودانش کی خدمت بجالانے سے بھی غافل نہیں رہے۔ 

میرصاحب کی مسلسل جدوجہد ،انتھک محنت ،دورس نظریں، انتظامی صلاحیت ،پیشہ ورانہ مہارت اورہر طبقے اور نظریہ کے افراد کو خوش اسلوبی سے برتنے کے ہنر نے انہیں بے مثال کام یابیوں سے بہرہ مند کیا۔ اُنہوں نے ایک چراغ سے ہزاروں چراغ جلائے ،جو صحافیوں کے روپ میں پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کی شخصیت کے اتنے پہلو ہیں کہ صرف ’’سر خیاں ‘‘ بند کرنے کے لیے بھی کوئی کوزہ تلاش کرنا مشکل ہے کہ حقیقتاًنصف صدی کا قصّہ ہے، دو چار برس کی بات نہیں۔

دنیا کے اس خطے میں جب بھی صحافت کی تاریخ لکھی جائے گی، میر صحافت ،میر خلیل الر حمٰن کا نام سنہرے الفاظ سے در ج کیا جائے گا۔ وہ صحافت کا ایک تاریخ سازعہد تھے ۔میر صاحب 25 جنوری 1992 کو دنیا سے رخصت ہوئے۔آج ان کی برسی کے موقع پر کچھ یادیں ،کچھ باتیںاورایک کہنہ مشق صحافی، نصر اللہ خان،مر حوم اور کھیلوں کی دنیا کی ایک ممتاز شخصیت منیر حسین، مرحوم کا میر صحافت کو خراج عقیدت نذر قارئین ہے ۔

اسپیشل ایڈیشن سے مزید