• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

’منشیات کا کاروبار‘ پولیس چھاپوں کے باوجود بھی ہورہا ہے

جھڈو پولیس اسٹیشن کی حدود میں ختم ہونے والے سال 2019 کے دوران جرائم کی شرح میں خاصا اضافہ رہاہے۔ منشیات فروشی کا کاروبارعروج پر رہا۔ اس سال متعدد نئے منشیات فروش بھی منظر عام پر آئے اور انہوں نے نشہ آور اشیاء کو شہر بھر میں عام کرنے میں واضح کردار ادا کیاہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ 2020کے دوران شہر میں جرائم کی شرح کیا رہتی ہے اور پولیس منشیات فروشوں کو کیفر کردار تک پہنچانے اور جرائم کی بیخ کنی میں کیا کردار ادا کرتی ہے؟

 جھڈو پولیس اسٹیشن کے ذرائع سے ملنے والے اعدادوشمار کے مطابق پورے سال میں شراب بنانے اور بیچنے والے ملزمان کے خلاف 30, دیسی گٹکا اور بھارتی سفینہ پر بالترتیب 22 اور 18، مین پوری پر 5 اور چرس کے سپلائرز کے خلاف 6 مقدمات درج کئے گئے۔ اسی سال جوا خانوں پر 5 چھاپے مارے گئے اور منشیات فروشوں کے خلاف مقدمات درج کئے گئے۔ 

البتہ جوجرائم پیشہ عناصرہنوز مفرور ہیں ان کا کوئی حساب کتاب اور اعدادوشمار نہیں ہے۔ جھڈو پولیس اسٹیشن کی حدود میں موجود دیسی شراب تیار کرنے کی سیکڑوں بھٹیاں کوئی نئی چیز نہیں ہیں، بلکہ عرصہ دراز سے زرعی زمینوں کے اطراف میں کیکر کے جھنڈ اور دیہاتی طرز کے کچے مکانات میں دیسی شراب تیار کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مقامی پولیس پر جب حکام بالا کی جانب سے دباؤ ڈالا جاتا ہے، تب وہ نمائشی انداز میں زور و شور کے ساتھ کارروائیوں کا سلسلہ شروع کرتے ہیں اور پھر ’’سب اچھا ہے‘‘ کی رپورٹ دے کر دوبارہ خاموشی اختیار کرلی جاتی ہے۔ سال 2019 کے دوران بھارت سے اسمگل شدہ سفینہ گٹکے کے گھناؤنے دھندے میں جتنا اضافہ دیکھا گیا ہے، اس قدر تیزی کسی دوسرے کاروبار میں دیکھنے میں نہیں آئی۔ ذرائع کے مطابق سفینہ گٹکا کاکا روبار پراپرٹی بزنس سے بھی زیادہ پرکشش ثابت ہواہے اور سالوں کی بجائے چند مہینوں کے اندر اس کاروبار میں لگائی جانے والی رقم دوگنی کرنے کے لالچ میں علاقے کے بڑے بڑے سرمایہ دار سفینہ گٹکے پر سرمایہ کاری پر کر رہے ہیں۔ 

شہر کی بعض بااثر شخصیات نے سفینہ گٹکے کے منفعت بخش کاروبار سے بدنام زمانہ منشیات فروشوں کو بے دخل کرکے اپنی اجارہ داری قائم کرلی ہے۔ پولیس ذرائع نے انکشاف کیا کہ سفینہ پر سرمایہ کاری کرنے والےدس بڑے سرمایہ کاروں میں ایک شخص بھی عام منشیات فروش نہیں ہے ۔ سفینہ پر سرمایہ کاری کرنے والے نام نہاد معززین ایک طرف سیاسی نمائندوں سے ذاتی تعلقات رکھتے ہیں تو دوسری طرف پولیس میں بھی اوپر تک انہوں نےروابط قائم کر رکھے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے نچلے درجے کے اہلکار ہمہ وقت وائٹ کالر کرمنلز کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ان کے آگے پیچھے نظر آتے ہیں۔

انہی وجوہات کی بنا پر جھڈو پولیس اسٹیشن پر 2019 میں منشیات فروشوںکے خلاف 81 ایف آئی آرز کا اندراج ہونے کے باوجود بھی نشہ آور اشیاء کی فروخت بند نہیں کروائی جا سکی ہے۔ علاقے میں مافیا بنے ہوئے وائٹ کالر کرمنلز اس قدر طاقت ور اور اثر رسوخ کے حامل ہیں کہ ان سے ’’عدم تعاون ‘‘ پر ایس ایچ او کا تبادلہ کروانا یا اسے جبری طبی رخصت پربھجوانا ان کے لیے بہت ہی معمولی بات ہے۔ 

شہر کے سنجیدہ حلقے سفینہ گٹکے کو پاکستانی عوام پر دشمن ملک بھارت کی گھناؤنی سازش اور مہلک وار قرار دیتے ہیں، جس کے ذریعے بھارت پاکستانی عوام کو کینسر جیسے مرض میں مبتلا کررہا ہے جب کہ دوسری جانب اس کاروبار کے توسط سے پاکستان سے بھاری زرمبادلہ دشمن ملک جارہا ہے۔ سیاسی عناصر کی سرپرستی اورمحکمہ پولیس کی کالی بھیڑوں کی ملی بھگت پر حکومت اور متعلقہ ادارے بھی روایتی بیان بازی سے آگے نہیں بڑھ رہے ہیں۔ اس صورت حال کی وجہ سے سماجی جرائم میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور 2020میں بھی یہ سلسلہ رکتا نظر نہیں آتا۔

تازہ ترین
تازہ ترین