آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل30؍ جمادی الثانی 1441ھ 25؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

مسئلہ کشمیر پر ترک صدر کی حمایت حوصلہ افزا ہے، عالمی برادری ذمہ داری پوری کرے کمیونٹی رہنما، طیب اردوان کے دورہ پاکستان کا خیرمقدم

بریڈ فورڈ (محمد رجاسب مغل) پاکستانی، کشمیری کمیونٹی رہنماوں اور تنظیموں نے ترک صدر رجب طیب اردوان کے دورہ پاکستان اور کشمیریوں کی بھرپور ترجمانی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترک صدر کی پاکستان آمد امت مسلمہ سے ان کی محبت کا اظہار ہے۔ پاکستان اور ترکی کے تعلقات تاریخی، اسلامی اور برادرانہ ہیں۔ خلافت عثمانیہ کی حفاظت کے لیے برصغیر کے مسلمانوں نے بھر پور آواز اٹھائی اور آج بھی خلافت عثمانیہ جو ریاست مدینہ کے اصولوں پر تھی کی بحالی کے لیے کوششیں کر رہی ہے پاکستان کے وزیراعظم بھی پاکستان کو ریاست مدینہ جیسی ریاست بنانے کا عزم رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ترک صدر کے دورہ پاکستان سے ملائیشیا کوالالمپور سربراہی کانفرنس جو ادھوری رہ گئی تھی کی تکمیل کے کئے سنگ میل بھی ثابت ہو گی مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھی مشترکہ مضبوط موقف اس بات کی دلیل ہے کہ ترک پاکستان کے رشتے مضبوط ہیں اس موقع پر جموں و کشمیر تحریک حق خودارادیت انٹرنیشنل

کے چیئرمین راجہ نجابت حسین نے ترک صدر کا کشمیر کے بارے میں مسلسل حمایت کا خیرمقدم کرتے ہوئے رجب طیب ایردوان کی کشمیریوں سےاظہار ہمدردی اور اظہار یکجہتی کو سراہا۔ جموں و کشمیر کے عوام مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ترک صدر کی حمایت کے لئے انتہائی مشکور ہیں ترک صدر کی جانب سے کشمیرکے حوالے سے دو ٹوک حمایت انتہائی حوصلہ افزا ہے، راجہ نجابت حسین نے کہاکہ طیب اردوان نے ہمارے معاملے کی صحیح نمائندگی کی ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان اور ترکی کی حکومت جموں و کشمیر کے لوگوں کی خواہش کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لئے عالمی برادری کی توجہ مبذول کرائے گی عالمی برادری کو مسئلہ کشمیر پر اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہئے۔ گزشتہ روز رجب طیب اردوان نے اپنے سرکاری دورے کے دوران پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ کو بتایا کہ مسئلہ کشمیر تنازع جبر سے نہیں بلکہ انصاف اور مساوات کی بنیاد پر حل ہوسکتا ہے۔ ان کے یہ بیانات جموں و کشمیر، جو ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے متنازع خطے کا ایک لاک ڈاؤن ہے کے بارے میں سات ماہ کے بعد سامنے آئے ہیں، جس میں انسانی حقوق کے گروپوں اور عالمی اسلامی برادری کے ذریعہ وسیع پیمانے پر فیصلہ کیا گیا ہے۔ پاکستان کی پارلیمنٹ سے اپنے ریکارڈ چوتھے خطاب میں اردوان نے شمال مغربی شام کے شہر ادلب کی صورتحال کے بارے میں کہا کہ ترکی کے صوبے کے ڈی اسکیلیشن زون میں حالیہ اقدامات کا مقصد اسد حکومت کو بیرل بموں کے استعمال سے 40 لاکھ مظلوم افراد کی ہلاکت سے روکنا ہے۔ سابق لارڈ مئیر محمد عجیب، سابق لارڈ مئیر کونسلر خادم حسین، سابق لارڈ مئیر کونسلر محمد اقبال، چوہدری محمد مالک، الحاج علی اکبر چشتی، تحریک حق خودارادیت کے دیگر رہنمائوں سردار عبدالرحمٰن خان سابق لارڈ مئیر راجہ غضنفر خالق برٹش مسلم وومن فورم کی صبیحہ خان، کنیز اختر، کشمیر سالڈیریٹی گروپ کے چوہدری رنگ زیب، ناصر آمین، طارق بٹ چوہدری خالد، تحریک انصاف کے آصف خان، چوہدری غالب رضا ایڈوکیٹ اور دیگر رہنماوں نے ترک صدر کے دورہ پاکستان اور کشمیر کے حوالے سے دو ٹوک حمایت کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید کا اظہار کیا کہ اس سے عالمی برادری توجہ دیتے ہوئے کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو رکوانے اور اور کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کو حق خودارادیت دلانے میں اپنا کردار ادا کرے گی۔

یورپ سے سے مزید