آپ آف لائن ہیں
پیر12؍شعبان المعظم 1441ھ 6؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

گزشتہ ہفتے ہنگو کی ایک سات سالہ معصوم بچی کو جنسی درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد پہلے چاقو کے وار سے قتل کرنے کی کوشش کی گئی لیکن بعد میں اُسے گولیاں برسا کر قتل کر دیا گیا۔

اس واقعے کا حوالہ دے کر سوشل میڈیا پر کسی نے پیپلز پارٹی اور دیسی لبرلز کے ایک مخصوص طبقے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ ہنگو کی اس بچی کے ماں باپ اور خاندان کو جاکر سمجھائیں کہ اُن کی بچی کے ساتھ زیادتی کرنے اور پھر اُسے درندگی کے ساتھ جان سے مارنے والے کے بھی کچھ انسانی حقوق ہیں، جس کی وجہ سے اُسے سرِعام پھانسی نہیں دی جا سکتی۔

اور یہ بھی کہ اگر اُسے سرِعام پھانسی دی تو یہ نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو گی بلکہ ’’تہذیب یافتہ دنیا‘‘ بھی ہمارے بارے میں کہے گی کہ یہ کیسے لوگ ہیں۔

یعنی جن درندوں نے مدیحہ اور اس جیسی دوسری کئی معصوم بچیوں اور بچوں کو درندگی کا نشانہ بنایا اور اُنہیں قتل بھی کیا، اُنہیں نشانِ عبرت نہ بنایا جائے کیونکہ اگر اُنہیں سرعام لٹکایا گیا تو اس سے دنیا ہمارے بارے میں کیا سوچے گی کہ پاکستان میں انسانی حقوق پر عمل نہیں کیا جا رہا۔

حال ہی میں جب قومی اسمبلی نے ایسے درندوں کو سرِعام پھانسی دینے کی قرارداد پیش کی تو پیپلز پارٹی کے رکنِ قومی اسمبلی اور سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے اس قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے یورپی یونین کے قوانین کی بات کی جبکہ دو حکومتی وزرا‘ فواد چوہدری اور ڈاکٹر شیریں مزاری نے بھی انسانی حقوق اور مغرب کی تہذیب کا حوالہ دے کر اس اقدام کو ردّ کیا۔

ہنگو کی بچی کے ساتھ درندگی کا واقعہ قومی اسمبلی کی طرف سے پاس کی گئی قرارداد کے بعد رونما ہوا۔ سوشل میڈیا کے مطابق اسی دوران کراچی میں ایک اسکول کی بچی کو درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد پھانسی دے کر (پنکھے کے ساتھ لٹکا کر) قتل کر دیا گیا۔ سوشل میڈیا میں اس بچی کی پھندے سے لٹکی لاش کی تصویریں بھی شیئر کی گئیں۔

ایک خبر کے مطابق 2017ء میں بچوں سے زیادتی کے تقریباً ساڑھے تین ہزار واقعات رونما ہوئے جن میں بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کا جرم بھی شامل تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ان واقعات میں کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے اور اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ایسے معاشرے میں جہاں درندگی کے واقعات تو تھمنے کا نام نہیں لیتے۔

وہاں کوئی درندہ نشانِ عبرت بنتا بھی دکھائی نہیں دیتا۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ قصور کی معصوم زینب کے ساتھ ہونے والے ظلم کے واقعہ کے کوئی دو سال بعد اُس کے نام سے زینب الرٹ نامی قانون تو بنا دیا گیا لیکن اُس میں بھی زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید رکھی گئی اور پھانسی کو اس قانون میں شامل نہیں کیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے دو مرتبہ فروغ نسیم کو کابینہ کے اجلاس کے دوران کہا کہ وہ بچوں، بچیوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے مجرموں کے لیے پھانسی کی سزا چاہتے ہیں لیکن جو قانون پاس ہوا اُس میں ایسے مجرموں کو سرِعام لٹکانے کی سزا تو کیا، پھانسی کی سزا بھی نہیں رکھی گئی۔

کہا یہ جا رہا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری جو قومی اسمبلی کی ہیومن رائٹس کمیٹی کے چیئرمین ہیں، پھانسی کی سزا یعنی سزائے موت کے خلاف ہیں۔ اب یہ عمران خان صاحب کو چاہیے کہ پتا کرائیں کہ ایک ایسے قانون کی تحریک انصاف اور اُن کی حکومت نے کیوں حمایت کی جس کے مطابق بچوں، بچیوں سے زیادتی کے مجرموں کو پھانسی کی سزا کے بجائے کم از کم دس سال اور زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا دی جائے گی۔

کیا متعلقہ وزیر نے وزیراعظم کا موقف اپنایا یا انسانی حقوق کے نام نہاد چیمپینز، پیپلز پارٹی، کچھ دیسی لبرلز اور یورپی یونین کا کیس لڑا؟ کیا خان صاحب نے اپنی وزیر ہیومن رائٹس اور اپنے وزیر قانون سے پوچھا کہ ایک ایسا قانون کیسے پاس ہو گیا جو اُن کے وژن کے برعکس تھا؟ کہیں ایسی صورتحال تو نہیں کہ عمران خان کی اُن کے وزیر بھی نہیں سنتے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

تازہ ترین