آپ آف لائن ہیں
پیر12؍شعبان المعظم 1441ھ 6؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

بار کونسل کے مطالبے پر مستعفی ہوا، انور منصور

بار کونسل کے مطالبے پر مستعفی ہوا، انور منصور


اسلام آباد (نمائندہ جنگ‘ایجنسیاں) اٹارنی جنرل انور منصور خان نے پاکستان بار کونسل کے مطالبہ پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے ، انہوں نے اپنا استعفیٰ صدر پاکستان کو بھجوا تے ہوئے ان سے فوری طور پر اسے منظور کرنے کی استدعا کی ہے جبکہ وزیراعظم عمران خان نے پارٹی ترجمانوں کو سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے عدلیہ کا احترام سب سے مقدم ہے۔ کسی بھی قسم کی بیان بازی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی‘ڈسپلن کی خلاف وزری پر سخت کارروائی ہوگی۔

ادھر وفاقی حکومت نے ججز کے خلاف اٹارنی جنرل کے مؤقف سے لاتعلقی کا بیان سپریم کورٹ میں جمع کرادیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق اٹارنی جنرل آفس کے پیڈ پر لکھے گئے استعفیٰ میں انور منصور خان نے موقف اختیار کیا ہے کہ میں نے نہایت افسوس کے ساتھ نوٹ کیا ہے کہ پاکستان بار کونسل،جس کا میں اس وقت چیئرمین ہوں،نے کل ایک پریس ریلیز کے ذریعے مجھ سے بطور اٹارنی جنرل مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے اس لئے میں بطور اٹارنی جنرل اپنے عہدہ سے مستعفی ہورہا ہوں اور آپ سے اسے فوری طور پر منظور کرنے کی استدعا ہے۔

دریں اثناء وزیر اعظم نے پارٹی ترجمانوں کو سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے عدلیہ کا احترام سب سے مقدم ہے۔ کسی بھی قسم کی بیان بازی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی‘ڈسپلن کی خلاف وزری پر سخت کارروائی ہوگی۔ 

ذرا ئع کے مطا بق عمران خان سے جمعرات کے روزقانونی ٹیم کے ارکان نے ملاقات کی جس میں فروغ نسیم، بابر اعوان، بیرسٹر علی ظفر اور شہزاد اکبر شامل تھے، ملاقات میں مختلف قانونی امور بالخصوص اٹارنی جنرل کو ہٹانے پر مشاورت کی گئی ۔ 

وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے ججز کے خلاف اٹارنی جنرل کے موقف سے لاعلمی اور لاتعلقی کا اظہار کردیا۔وزارت قانون نے تحریری جواب عدالت میں جمع کراتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل کے موقف سے وفاقی حکومت کا کوئی تعلق نہیں، انہوں نے حکومتی ہدایات کے بغیر عدلیہ کے حوالے سے موقف اپنایا، وفاقی حکومت عدلیہ کا بہت احترام کرتی ہے اور آئین کی بالادستی و عدلیہ کی آزادی پر مکمل یقین رکھتی ہے۔

وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان،صدر عارف علوی،میری اور معاون برائے احتساب شہزاد اکبر کی جانب سے سپریم کورٹ میں جواب جمع کرایا گیا ہے۔

اہم خبریں سے مزید