آپ آف لائن ہیں
منگل6؍شعبان المعظم 1441ھ 31؍مارچ 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ایک قبر کو کھود کر اس میں دوسری میّت دفن کرنا

تفہیم المسائل

سوال: کراچی میں ایک عورت کی میّت کو اس کے اہل خانہ نے اسی کے شوہر کی قبر میں دفن کر دیا جو دس سال پہلے وفات پا گیا تھا،حالانکہ قبرستان میں متبادل جگہ موجود تھی ،صرف مین جگہ کا جواز بنا کرفوت شدہ شوہر کی قبر کشائی کرکے اس میں تدفین کر دی،اس میں حکم شرعی کیا ہے آیا تدفین درست ہے، اگر نہیں تو کیا دوسری میّت کو نکالا جائے یا اسی حال پر چھوڑ دیا جائے؟

جواب: تدفین کو خواہ کتنا ہی عرصہ گزر چکاہو ، شریعتِ مطہرہ میں قبر کھولنا ناجائز وحرام ہے ،کیونکہ تدفین کے بعد میّت اللہ تعالیٰ کے سپرد کردی جاتی ہے اور وہی اس کے حال کو بہتر جانتا ہے اور تبدیلی اَحوال پر بھی اسی کو قدرت واختیار حاصل ہے۔فتویٰ اسی پر ہے کہ میّت کو دفن کرنے کے بعد پھر قبر کو کھودنا جائز نہیں،البتہ کسی کو غصب شدہ زمین میں دفن کیا گیایا دفن کے وقت کسی کا مال قبر میں گر پڑا یا کسی لاش کا پوسٹمارٹم کرناہے تو ایسی صورت میں قبر کھودنے کی اجازت ہے، تنویر الابصار مع الدرالمختار میں ہے :’’قبر پر مٹی ڈال دینے کے بعد میّت کو قبر سے نہیں نکالا جائے گا،سوائے اس کے کہ کسی انسان کا حق اس سے متعلق ہو ،مثلاً :غصب شدہ زمین میں دفن کیا گیا ہو یا حقِ شفعہ کی بنا پر کسی نے لے لی ہو،تو زمین کے مالک کو اختیار ہوگا کہ میّت کو قبرسے نکلوادے یا زمین برابر کردے یعنی قبر کا نشان مٹادے ، (جلد:3، ص:135۔ 136، بیروت)‘‘۔علامہ کمال الدین محمد بن ہُمام ؒلکھتے ہیں: ’’بلاضرورت ایک قبر میں دو میتیں دفن کرنا جائز نہیں اور کسی مجبوری کے بغیردوسری میت دفن کرنے کے لیے (پہلی) قبر کھودنے کی اجازت بھی نہیں ہے ،سوائے اس کے کہ پہلی میت بالکل مٹی ہوگئی اور صرف ہڈیاں بچی ہوں یا اسی قبر میں دفن کرنا مجبوری ہو توہڈیاں ایک طرف جمع کرکے ان اور میت کے درمیان مٹی کی آڑ قائم کردیں،(فتح القدیر،جلد 2)‘‘۔

علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں: ’’حلیہ‘‘میں ہے: خصوصاً جب اس میں ایسی میت ہو جو بوسیدہ نہ ہوئی ہو اور جاہل گورکن ان قبروں کو کھود ڈالتے ہیں ،جن میں میتیں بوسیدہ نہیں ہوتیں اور اجنبی لوگوں کو ان پر دفن کردیتے ہیں ،اس عمل کا منکر ہونا ظاہر ہے،یہ کوئی ایسی ضرورت نہیں جو اس اَمر کو مباح کردے کہ دو یا زیادہ میتوں کو ابتداء ً ایک قبر میں جمع کردیاجائے ۔مقصود یہ ہوکہ اس کے قریبی رشتے دار کے ساتھ دفن کیاجائے یا اس مقبرہ میں جگہ کی تنگی ہے جبکہ دوسرے قبرستان میں جگہ موجود ہے ، اگرچہ وہ قبرستان ایساہو کہ وہاں دفن کرنے سے برکت حاصل کی جاتی ہو چہ جائیکہ یہ اور اس جیسے امور کے لیے قبر کواکھیڑنے اورایک میت کو دوسری میت پر داخل کرنے کو مباح قراردیا جائے ،جب کہ پہلی میت بوسیدہ نہ ہوئی ہو ،ساتھ ہی ساتھ اس میں پہلی میت کی حُرمت کی پامالی اوراجزا کو الگ الگ کرنا لازم آتاہو ،اس سے بچو۔

(…جاری ہے…)

اقراء سے مزید