جدید لہجے کے شاعر جون ایلیا نے ایک عالمِ وارفتگی میں کہا تھا؎
جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں
مَیں اپنے شہر کا سب سے بڑا فسادی ہوں
اِس ایک سادہ سے شعر میں یہ دلچسپ حقیقت سمو دی گئی ہے کہ زیادہ تر فسادات حقیقتِ حال کی صحیح تصویر کشی ہی سے پیدا ہوتے ہیں۔ کوئی شخص ہماری کسی خامی کی نشان دہی کرے تو ہمارے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے۔ اگلے وقتوں میں تو بادشاہ سلامت سر اُڑا دینے کا حکم صادر کر دیتے تھے۔ مَیں ایک حساس صحافی کی حیثیت سے اِن دِنوں جو کچھ دیکھ رہا ہوں، اُسے بیان کرنے کا یارا نہیں۔ ایک تاریخ طلوع ہو رہی ہے اور ایک تاریخ ڈوب رَہی ہے۔ ایسے معاہدے بھی دیکھنے میں آ رہے ہیں جو خِطوں کی تقدیر بدل دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ اپنے ہی دیس میں ہمارے اربابِ اختیارات ایسے ایسے تجربات کرتے نظر آتے ہیں جن سے روح کانپ اُٹھتی ہے۔ یہ سماں بھی گاہے گاہے آنکھوں کے سامنے اُبھرتا ہے؎
پھول کھلتے ہیں تو ہم سوچتے ہیں
تیرے ملنے کے زمانے آئے
یہ جو فروری کا مہینہ گزرا ہے، اس کے بطن سے عجب عجب طوفان جنم لے رہے ہیں۔ زندگی سے لبالب طوفان اور زندگی کی بساط لپیٹ دینے والے طوفان۔ آپ کو یاد ہو گا کہ 24فروری کو امریکی صدر ٹرمپ دو رَوزہ دورے پر بھارت آئے اور سیدھے اُس شہر میں لنگر انداز ہوئے جو 2002میں بھارتی مسلمانوں کا مقتل بنا تھا۔ اس شہر کا نام ’احمدآباد‘ ہے جو ریاست گجرات میں واقع ہے، جس کا وزیرِاعلیٰ فاشسٹ مودی تھا۔ احمدآباد کے وسیع و عریض اسٹیڈیم میں ایک لاکھ کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے مودی کی تعریف و توصیف میں طویل قصیدہ پڑھا کہ وہ ’چائےوالا‘ سے اُٹھ کر دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے وزیرِاعظم بن گئے ہیں۔ ان کے عہد میں ہر سُو مذہبی آزادی ہے۔ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنی اپنی عبادت گاہوں میں آزادی سے جاتے اور ایک دوسرے کے ساتھ بھائیوں کی طرح رہتے ہیں۔ اُنہوں نے یہ مژدہ بھی سنایا کہ ہم دونوں ملک اسلامی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے اور فوجی، سیکورٹی اور تجارتی روابط کو فروغ دیں گے۔
دنیا کی واحد سپرپاور کے طاقتور صدر نے چاپلوسی اور فریب کاری کی ڈپلومیسی اختیار کر کے ایک عالم کو حیرت میں ڈال دیا۔ وہ جن دنوں بھارت کے دورے پر آئے، مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن پر چھ ماہ سے زائد گزر چکے تھے اور اَسّی لاکھ کشمیری موت و حیات کی کشمکش سے دوچار ہیں۔ متنازع مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر جس کا اقوامِ متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے حقِ خودارادیت تسلیم کیا تھا، اسے مودی نے غیرآئینی طور پر بھارت میں ضم کر لیا تھا۔ کشمیری عوام کا جذبۂ حریت کچلنے کے لیے اُن پر پون صدی سے درندے چھوڑے ہوئے ہیں۔ مقصد یہ کہ نسل کشی کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر میں غیرکشمیری اکثریت میں آ جائیں اور زمینوں، جائیدادوں اور کاروبار کے مالک بن جائیں۔ جب عالمی طاقتوں نے بھارت کے اِن انسانیت سوز اقدامات کے خلاف مضبوط آواز نہ اُٹھائی، تو ہندو توا کے جنون میں پلے ہوئے مودی نے ایک مدت سے بھارت میں آباد مسلمانوں کو شہریت سے محروم کرنے کے لیے قانونِ شہریت میں ترمیم کر ڈالی جس کے خلاف ہندو آبادی کا باشعور طبقہ اور تمام اقلیتیں اُٹھ کھڑی ہوئیں اور یونیورسٹیوں اور کالجوں کی طالبات نے مزاحمتی تحریک کی قیادت سنبھال لی۔ جب امریکی صدر ٹرمپ احمدآباد سے دہلی آئے، تو اِس سے پہلے آر ایس ایس کے غنڈوں اور پولیس فورس نے مظاہرین پر گولیاں برسانا شروع کر دی تھیں۔ بھارت کا دارالحکومت خون میں نہا رہا تھا اور ٹرمپ صاحب اعلان فرما رہے تھے کہ بھارت میں امن و امان قائم ہے اور تمام اقلیتیں سکون سے زندگی بسر کر رہی ہیں۔ اُنہوں نے یہ سوانگ اِس لیے رچایا کہ وہ بھارت کو تین ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ فروخت کرنا اور بھارت کے ساتھ تجارت میں تیس ارب ڈالر کا خسارہ کم کرنے کے منصوبے لے کر آئے تھے۔ اُنہوں نے یہ مژدہ بھی سنایا کہ اقوامِ متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں بھارت کی مستقل رکنیت کیلئے امریکہ حمایت جاری رکھے گا اور اسے نیوکلیئر سپلائر گروپ کی ممبرشپ بھی دلائے گا۔
بلاشبہ بھارت کی سرزمین سے صدر ٹرمپ نے پاکستان کے حوالے سے بعض ایسے اعلانات بھی کیے جن سے بھارتی میڈیا کی اُمیدوں پر وقتی طور پر اوس پڑ گئی اور پاکستان میں ’بزرجمہوروں‘ کے چہرے خوشی سے تمتما اُٹھے۔ امریکی صدر نے کہا پاکستان اور امریکہ کے تعلقات نہایت اچھے ہیں، وزیرِاعظم عمران خان میرے بہت اچھے دوست ہیں جبکہ پاکستان کی بہادر مسلح افواج نے دہشت گردی کے خلاف عظیم الشان کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ہم ان کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں جس کے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ یہ بھی ارشاد فرمایا کہ مسئلۂ کشمیر ایک نہایت سنگین مسئلہ ہے جس کا حل بہت ضروری ہے اور مَیں ثالثی کے لیے تیار ہوں۔ صدر ٹرمپ کے خیالات کا ذرا گہرائی سے جائزہ لیا جائے، تو یہ حقیقت اُبھر کر سامنے آتی ہے کہ اِن کا مقصد پُرکشش الفاظ کے ذریعے پاکستان کو خوش کرنا اور افغانستان سے امریکی افواج کے بحفاظت انخلا میں اس کی حمایت کو قائم رکھنا تھا۔ دوسرا مقصد پاکستان کے گُن گا کر بھارت کو دباؤ میں لانا اور اُسے یہ احساس دلانا تھا کہ امریکہ کے پاس دوسرے آپشنز بھی ہیں۔ دیکھا جائے تو شاطر ٹرمپ نے بھارت کے دورے میں پاکستان کو ذرہ برابر فائدہ پہنچنے نہیں دیا۔ مقبوضہ کشمیر سے لاک ڈاؤن ختم کرنے کے لیے مودی سے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔شعلوں میں جلتےہوئے دہلی کے حالات کی مذمت بھی نہیں کی اور پاکستان کے دورے پر آنے کا کوئی عندیہ بھی نہیں دیا اور اسے گرے لسٹ سے نکالنے کا ذرہ برابر یقین نہیں دلایا، بس فصاحت کے دریا بہائے جاتے رہے۔ فروری کے مہینے میں ہی ’دوحہ ڈیل‘ کا تاریخی واقعہ پیش آیا۔ اس کے پیچ و خم میں کیا کیا اسرار چھپے ہیں، اُن کا تفصیلی ذکر اگلے کالم میں ہو گا۔