• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کراچی(رپورٹ/رفیق بشیر)کرونا وائرس کی شدت کے بعد اس کے سدباب کے لئےسخت حکومتی اقدمات کے بعد بازاروں میں اشیا خوردونوش کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے ۔جبکہ یوٹیلٹی اسٹور پر بھی اشیا خودونوش کی قلت سامنے آئی ہے۔اشیا خوردونوش کی اچانک قلت کی وجہ رسد و طلب کا ہے۔کورونا وائرس کے خوف میں نے لوگوں نے بڑے پیمانے پر اشیا خورونوش کی خریداری کی ۔جبکہ جس تیزی سے خریداری ہوئی اتنی ہی تیزی سے سپلائی نہ ہوسکی۔جس کی وجہ تھوک منڈیوں کے بند ہونا ہے۔شہر میں خوردہ دکانیں کھلی ہیں جبکہ تھوک دکانیں گزشتہ دوروز سے بند ہیں ۔صارفین نے حکومت سے گزارش کی ہے کہ جس اشیا کی خوردہ دکانیں کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔اسطرح تھوک دکانوں کے کھولنے کی بھی اجازت دی جائے ۔تاکہ بلب و رسد کا مسلہ پیدا نہ ہو۔اس وقت طلب زیادہ اور رسد کم ہے۔رسد و طلب میں بہت زیادہ گیپ آنے کے باعث اشیا خورونوش کی نہ صرف قلت پیدا ہوئی ہے بلکہ قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔ جبکہ دوسری جانب حکومت کے اقدامات کے نفاذ کے لئے علاقائی انتظامیہ حرکت میں نہیں آئی ۔اور نہ ہی کسی مجسٹریٹ نے بازاروں میں جا کر صورتحال کا جائزہ لیا۔اس وقت چھوٹے بڑے تمام بازار ۔دکانیں اور مارکیٹیں علاقہ پولیس کی ہدایات پر ہیں ۔کہیں پر پولیس نے کھلے بازار نظر انداز کردئیے اور کہیں پر حکومت کے اقدامات پر سختی سے عمل کرایا ہے۔یوٹیلٹی اسٹورز پر بھی دو روز میں بڑے پیمانے پر خریداری ہوئی ۔جبکہ یوٹیلٹی اسٹورز پر بھی سپلائی کا نظام اچانک روک جانے پر یوٹیلٹی اسٹورز پر بھی اشیا کی شدید قلت پیدا ہوگیی ہے۔
تازہ ترین