آپ آف لائن ہیں
اتوار11؍شعبان المعظم 1441ھ 5؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پنجاب میں نمازِ جمعہ کے لیے ہدایات جاری

اوقاف آرگنائزیشن پنجاب نے صوبے بھر میں کورونا وائرس سے بچنے کے لیے نمازِ جمعہ کے لیے ہدایات جاری کر دیں۔

اس حوالے سے اوقاف آرگنائزیشن پنجاب کا اپنے اعلامیے میں کہنا ہے کہ نماز جمعہ کے اجتماعات میں عمر رسیدہ، بیمار اور بچے نہ جائیں۔

اوقاف آرگنائزیشن پنجاب کا یہ بھی کہنا ہے کہ نمازِ جمعہ کے اجتماع میں کم از کم ایک صف کا فاصلہ رکھا جائے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز سندھ حکومت نے کورونا وائرس کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے صوبے میں نماز کے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی ہے۔

سندھ حکومت کے مذکورہ فیصلے کا اطلاق 27 مارچ سے 5 اپریل تک رہے گا، تاہم مساجد میں صرف 3 سے 5 افراد باجماعت نماز ادا کریں گے، نمازِ جمعہ کے اجتماعات میں بھی اتنی ہی تعداد میں نمازی ہوں گے۔

ترجمان وزیرِ اعلیٰ سندھ مرتضیٰ وہاب کے مطابق سندھ حکومت نے مساجد میں نماز کے اجتماعات پر پابندی کا فیصلہ تمام مکاتب فکر کے علماء کی مشاورت سے کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے: ہر نماز میں 4 سے 5 نمازی ہوں گے، ترجمان سندھ حکومت

واضح رہے کہ کورونا وائرس کے خطرے کے پیشِ نظر وفاقی حکومت نے بھی نماز کے اجتماعات کو محدود کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ مساجد تو کھلی رہیں گی تاہم باجماعت نماز اور نمازِ جمعہ کے اجتماعات محدود کیے جائیں گے۔

اس حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے بتایا کہ مساجد کھلی رہیں گی، اذان بھی ہوگی، تاہم جمعے کا خطبہ مختصر کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر مذہبی امور نے بتایا کہ علمائے کرام نے کورونا وائرس سے متعلق اقدامات کا اختیار صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو دے دیا ہے۔

نورالحق قادری کا کہنا تھا کہ مشاورت سے فیصلہ ہوا ہے کہ نماز جمعہ کو محدود کیا جائے گا، باجماعت نماز میں مسجد کی انتظامیہ اور محدود تعداد میں نمازی مسجد آئیں گے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تمام مسالک کے علماء کے فتوؤں کی روشنی میں فیصلے کیے گئے ہیں۔

انہوں نے دیگر اسلامی ممالک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب میں نمازِ جمعہ اور مساجد کو بند کیا گیا ہے جبکہ بغداد، کربلا اور دیگر ممالک میں مختلف مزارات بھی بند کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے: سندھ میں نماز کے اجتماعات پر پابندی

نورالحق قادری نے یہ بھی کہا کہ دین سکھاتا ہے کہ مسجد سے زیادہ ایک ساجد اور نماز سے زیادہ ایک نمازی کی اہمیت ہے۔

ادھر پاکستان علماء کونسل اور ملک بھر کے علماء و مشائخ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، پیر نقیب الرحمٰن، مولانا اسد زکریا قاسمی، مولانا سید ضیاء اللّٰہ شاہ بخاری، مولانا محمد خان لغاری اور ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے سندھ حکومت کی طرف سے مساجد بند نہ کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

ان علماء کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کی طرف سے نمازِ باجماعت اور جمعۃ المبارک کے اجتماعات کے سلسلے میں فیصلہ پاکستان علماء کونسل اور کراچی میں کل ہونے والے علما کے اجلاس کے اعلامیے کی روشنی میں کیا گیا ہے۔

علمائے کرام نے یہ بھی کہا کہ علماء کے اجلاس کے اعلامیے کی شق نمبر 5 میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اگر حکومت طبی وجوہات کی بناء پر نمازیوں کی تعداد پر کوئی پابندی لگاتی ہے تو یہ شرعی معذوری ہوگی اور لوگ نماز گھر میں ادا کریں اور کسی بھی قسم کی شر پسندی پھیلانے والوں سے دور رہیں۔

قومی خبریں سے مزید