• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

موسمِ گرماکی آمد کے ساتھ ہی متعدّد عوارض سَر اُٹھانے لگتے ہیں، جن کی لپیٹ میں عموماًبڑوں سے زیادہ بچّے آتے ہیں،خصوصاً کم عُمر نوزائیدہ بچّے۔موسم تیزی سے تبدہل ہو رہا ہے۔سردی کے رخصت ہوتے ہی گرمی اور پھر شدید گرمی کے باعث اچانک ہی کئی وبائی اور غیر وبائی امراض پُھوٹ پڑیں گے، لہٰذا والدین، خصوصاً ماؤں کے لیے ایک گائیڈ لائن کے طور پر موسمِ گرما میں ہونے والے بچّوں کے امراض کے حوالے سے ایک تفصیلی مضمون سوال و جواب کی صُورت پیشِ خدمت ہے۔

س: موسمِ گرما کےخاص امراض کون سے ہیں اور وہ کون سے عوامل ہیں، جو ان کے پھیلاؤ میں مددگار ثابت ہوتے ہیں؟

ج: موسمِ گرما کےخاص امراض میںسرِفہرست گیسٹرو ، ٹائیفائیڈ اور ہیضہ ہیں،جب کہ بعض اوقات بچّے پسینے اور جسم پر میل جمنے کی وجہ سے جِلدی بیماریوں کا بھی شکار ہوجاتے ہیں۔جیسے خارش، پھوڑے پھنسیاں وغیرہ۔ان عوارض کے پھیلاؤ کی دو بنیادی وجوہ ہیں۔

کم پانی پینا اور دوسرا اُبال کر نہ پینا ۔ موسمِ گرما میں عام دِنوں کی نسبت زیادہ پانی پینا چاہیے، تاکہ پسینہ بہنے کی صُورت میں پانی اور نمکیات کی کمی واقع نہ ہو۔ مگر دیکھا گیا ہے کہ بچّےہی نہیں ،عموماً بڑے بھی اپنی جسمانی ضرورت کے مطابق پانی نہیں پیتے۔ حالاں کہ بہت زیادہ اُچھل کود، بھاگ دوڑ اور کھیل کود کی وجہ سےبچّوں کے جسم سے پسینے کا زیادہ اخراج ہوتا ہے۔پھرزیادہ تر گھرانوں میں پانی اُبال کر استعمال نہیں کیاجاتا۔ نیز، بچّے خاص طور پر ہاتھوں کی صفائی کا خیال نہیں رکھتے ۔یوں کئی جراثیم ہاتھوں کے ذریعے جسم میں داخل ہوکر اُنہیں بیمار کردیتے ہیں۔

س: ٹائیفائیڈ، ہیضے اور گیسٹرو کی علامات کیا ہیں؟

ج:ٹائیفائیڈ، "Salmonella typhi" نامی بیکٹریا کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے، جو آلودہ، گندے پانی میں پایا جاتا ہے اور مُنہ کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر، خون کے ذریعے پورے جسم میں پھیل جاتا ہے۔اس کی علامات تیزبخار، جسم، پیٹ اور سَر میں درد،کبھی کبھار دست یا ڈائریا،بھوک ختم ہوجانا یا کم لگنا،قے اور متلی وغیرہ ہیں۔ہیضہ ایک متعدی مرض ہے، جو ایک بیکٹریا "Vibrio Cholera"کے ذریعے پھیلتا ہے۔ 

ہیضےکی عام علامات اسہال، قے، پیٹ میں شدید درد، نقاہت وغیرہ ہیں۔ گیسٹرو کی ابتدائی علامات میں طبیعت بوجھل اور گِری گِری سی محسوس ہوتی ہے۔ بعد ازاں پانی پینے یا کچھ کھانے سے فوراً قے اور دست شروع ہوجاتے ہیں۔ اگر مرض شدّت اختیار کرلے تو خون بھی خارج ہوسکتا ہے، جو خطرے کی علامت ہے۔ ان تینوں وبائی امراض کے لاحق ہونے کا بنیادی سبب غیر معیاری، ناصاف پانی اورباسی کھانا ہے۔

س:ماحولیاتی تبدیلیوں کے سبب دُنیا بَھر اور خصوصاً ایشیائی مُمالک میں گرمی کا دورانیہ خاصا بڑھ گیا ہے، تو اس پس منظر میں اپنی عادات، رویّوں اور بچّوں کی نگہداشت میں کیا تبدیلی لائی جائے؟

ج: اگر موسم کی مناسبت سے احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں ، حفظانِ صحت کےاصولوں پر عمل اورصفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھا جائے،تو خواہ گرمی کا دورانیہ طویل ہو یاکم ، کسی طبّی مسئلے سے دوچار ہوئے بغیر بھی پورا موسم باآسانی گزرسکتا ہے۔

س:نومولودبچّوں کو ڈائریا، خسرے اور دیگر موسمی امراض سے بچانے کے لیے ایک ماں کو کیا کرنا چاہیے؟

ج: سب سے پہلے توماں اپنی صحت کا خاص خیال رکھے، متوازن غذا استعمال کرے اورپانی زیادہ پیے۔ ہاتھوں کی صفائی پر خصوصی توجّہ دے،خاص طور پر بچّے کو گود میں اٹھانے، ہاتھ لگانے اور کھانا بنانے سے پہلے لازماً ہاتھ دھوئے۔ چھوٹے بچّے کی صفائی ستھرائی کا تو خاص خیال رکھنا ہی ہے، لیکن بڑے بچّوں کو درست طریقے سے ہاتھ دھونا ضرور سکھائیں۔

پانی اُبال کر استعمال کریں، لیکن زیادہ دیر تک اُبالنے کی ضرورت نہیں۔ایک اُبال کے بعد چولھا بند کردیں۔نیز، گھر خاص طور پر باورچی خانے کی صفائی ستھرائی بھی بہت ضروری ہے۔

س:بچّوں کی بہتر نشوونما کے لیے ڈبّے والا خشک دودھ بہتر ہے یا کُھلا، نیز اکثر والدین بچّوں کوپھلوں کی بجائےتازہ جوسز پلاتے ہیں،تو کیا یہ صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں؟

ج:کُھلا دودھ مفید ہے، مگر عموماًدودھ گرم کرتے ہوئے بالائی نکال دی جاتی ہے، جس سے تقریباً چالیس فی صد کیلوریز ختم ہوجاتی ہیں۔ اسی طرح چکنائی بھی(جس میں مختلف وٹامنز پائے جاتے ہیں)تقریباً ضایع ہی ہوجاتی ہے،لہٰذا جب دودھ اُبال رہے ہوں، تو وقفے وقفے سے اُسے ہلاتے رہیں، تاکہ بالائی بننے ہی نہ پائے اور دودھ میں شامل ہوتی رہے۔ 

اس طرح کا دودھ بچّوں کے لیے زیادہ مفید اور صحت بخش ثابت ہوتا ہے۔ ڈبّوں کے دودھ میں بھی عموماً یہی خصوصیات ہوتی ہیں، جب کہ پیکٹس والےدودھ زیادہ تر مصنوعی ہی ہوتے ہیں، ان میں غذائیت نہیں پائی جاتی، صرف ذائقے کے لیے مختلف کلرز اور فلیورز شامل کردیئے جاتے ہیں۔ 

رہی بات جوسز کی، تو جب پھلوں سے جوس نکالا جاتا ہے، تو ستّر فی صد غذائیت(جس میں فائبر، وٹامنز اور منرلز شامل ہوتے ہیں)ضایع ہوجاتی ہے۔ حالاں کہ یہ جوس تازہ ہوتاہے، مگر ایسڈک ہوجانے سے گلے پر اثر انداز ہوکر سوزش کا باعث بن جاتا ہے، لہٰذا جس حد تک ممکن ہو، بچّوں کو تازہ پھل کھلائیں، تاکہ جسم و دماغ کو تقویت پہنچے۔ 

علاوہ ازیں، گرمیوں میں لسّی کا استعمال بھی فائدہ مند ہے کہ یہ تقویت دینے کے ساتھ گرمی کا اثر بھی زائل کرتی ہے۔ ڈبّے والے جوسزمیں تیزابیت پائی جاتی ہے، جب کہ انہیں ایک خاص مدّت تک محفوظ رکھنے کے لیے جو کیمیکلز استعمال کیے جاتے ہیں، وہ پیٹ اور حلق کے لیے مضر ہیں اور سانس کی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔

س:بچّوں کو ہیٹ اسٹروک سے کس طرح محفوظ رکھا جا سکتا ہے؟

ج: ہیٹ اسٹروک سے محفوظ رکھنے کے لیے سب سے ضروری پانی کا زائد استعمال ہے۔ اگر بچّے باہر جا رہے ہوں، تو سَر ڈھانپ کر نکلیں یا چھتری لے لیں۔دھوپ میںکھیل رہےہوں،تو انہیں بار بار پانی یا پتلی لسّی پلائیں۔ اگر بچّے کو بہت زیادہ گرمی لگ رہی ہو یا ہیٹ اسٹروک کا خدشہ ہو، تو اُس کے جسم پر پانی ڈالیں، پنکھے کے نیچے یا ایئر کنڈیشنڈ کمرے میں لٹادیں، تاکہ جسمانی نظام میں پیدا ہونے والی گرمی ختم ہوسکے۔

س: انرجی ڈرنکس کے استعمال کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے،کیا ان کے بھی کچھ مضر اثرات ہیں۔نیز، بچّے آئس کریم، قلفیاں وغیرہ بھی کھانےسے باز نہیں آتے، تو اس کا کیا توڑ کیا جائے؟

ج:انرجی ڈرنکس توانائی کا ماخذ نہیں، بلکہ کئی بیماریوں کی جڑ ہیں۔ کئی مُمالک میںاسکولز کے اسٹالز پر انرجی ڈرنکس رکھنا قانوناً جرم قرار دے دیا گیاہے۔بچّوں کو انرجی ڈرنکس کی جگہ لسّی پلائیں،پھل کھلائیں، اُبلا ہوا ٹھنڈا پانی استعمال کروائیں۔ جہاں تک آئس کریم کی بات ہے،تو چوں کہ یہ دودھ سے بنی ہوتی ہے اور گرمی میں دودھ میں بہت جلد بیکٹیریا پیدا ہوجاتے ہیں۔ 

پھر یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ یہ کس قسم کے برتن میں کس طرح کے دودھ اور پانی سے تیار کی گئی ہے،لہٰذا احتیاط ہی بہتر ہے۔ تاہم، جوآئس کریم حفظانِ صحت کے اصولوں کے عین مطابق تیار کی گئی ہو ، تو ہفتے، ڈیڑھ ہفتے بعد کھانےسے نقصان نہیں ہوتا۔یاد رہے، غیر معیاری آئس کریمز میں بھی ٹائیفائیڈ کے جراثیم پائے جاتے ہیں۔

س: ایئر کنڈیشن کا استعمال بھی بہت بڑھ گیا ہے،بچّوں کے لیے کتنادرجۂ حرارت مناسب ہوتاہے؟

ج:بچّوں ہی نہیں، بڑوں کے لیے بھی ایئرکنڈیشنڈ کمرے کادرجۂ حرارت معتدل ہونا چاہیے۔خاص طور پربچّوں کابار بارآنا جانا لگا رہتا ہے،تو اے سی 25یا پھر26 نمبر پر رکھا جائے، تاکہ یک دَم سردی اور گرمی کے مضر اثرات سے محفوظ رہا جاسکے اور قوتِ مدافعت بھی برقرار رہے۔

س: کیا یہ ضروری ہے کہ بچّہ بیمار ہو، تب ہی ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے؟

ج: جس طرح کار یا موٹر سائیکل اچھی حالت میں رکھنے کے لیے باقاعدہ سروس کروائی جاتی ہے، تو اسی طرح انسان کے جسم کی بھی ایک ’’ٹائم آف سروس‘‘ ہے،لہٰذا بڑوں ہی کا نہیں، چھوٹے بچّوں کا بھی خواہ کوئی شکایت ہو نہ ہوطبّی معائنہ ضروری ہے۔ پیدایش کےپہلے سال میں آٹھ وزٹ ہوتے ہیں۔ اس کے بعد چھے ماہ میں یا ایک سال میں بچے کا چیک اَپ کروالیا جائے۔ 

اس معائنےمیں دیکھا جاتا ہے کہ بچّے کا عُمر کی مناسبت سے وزن بڑھ رہا ہے یا نہیں، دانت کس طرح نکل رہے ہیں یا کوئی اور طبّی مسئلہ تو نہیں ہے۔ بسا اوقات ایک معمولی سے تکلیف کے پیچھے کوئی بڑا مسئلہ چُھپا ہوتا ہے۔ جیسے جگر بڑھا ہوا ہے، وٹامنز کی کمی ہے یا کوئی اور بیماری ہے،تو اس معائنے سے سب کچھ سامنے آجاتا ہے۔

س:موبائل فونز اور مختلف اسکرینز کے استعمال سے بھی بچّوں کی نشوونما متاثر ہوتی ہے؟

ج: بدقسمتی سے موجودہ دَور میں کم عُمر بچّوں میں بھی موبائل فون اور ویڈیو گیمز کا رجحان بڑھ رہا ہے۔اس کے استعمال سےبینائی کم زور ہوجاتی ہے۔ بول چال پر بھی اثر پڑتا ہے، کیوں کہ بچّے کئی کئی گھنٹےبولتے نہیں، بس موبائل فون پرکارٹونز دیکھتے یا پھر گیمز کھیلتے ہیں۔ ایسے بچّے اپنی دُنیا میں مگن رہتے ہیں اور گردن، کمر یا ہڈیوں کے امراض میں بھی مبتلا ہوسکتے ہیں۔ ذہنی صحت متاثر ہوتی ہے، تو نفسیات اور رویّوں کے مسائل بھی سامنے آتے ہیں۔

اس وقت بچّوں کی سب سے بڑی بیماری یہ گیجٹس ہی ہیں۔ ترقّی یافتہ مُمالک میں چھے سال سے کم عُمر بچّوں کے لیے ان کا استعمال ممنوع ہے اورچھےسال کی عُمر کے بعد بھی ایک ٹائم بار متعین کیا گیاہے، جس کے تحت جسمانی سرگرمی کے بعد ان اسکرینز کے استعمال کی آدھے، پون گھنٹے کی اجازت دی جاتی ہے۔یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ اگر بچّے جسمانی سرگرمیاں انجام نہیں دیں گے، تو اس کے اثرات ان کی جسمانی و ذہنی نشوونما پر ضرور مرتّب ہوں گے۔

س:گرمیوں کی تعطیلات میں عموماً بچّوں کےدِن بھر کا شیڈول بدل جاتا ہے، تو اس حوالے سے والدین کی کیا ذمّے داری ہونی چاہیے ؟

ج:بیش تر والدین اس معاملے پر کچھ خاص توجّہ نہیں دیتے۔ اگر بچّہ دیر تک سورہا ہے، تو سونے دیتے ہیں۔رات گئے جاگ رہا ہے، تو کوئی فکر نہیں ۔ حتیٰ کہ صوم و صلوٰۃ کے معاملے میں بھی سختی نہیں برتی جاتی۔ یاد رکھیے، آموزش کا عمل کم عُمری ہی سے شروع ہوجاتا ہے اور پھر بقیہ تمام عُمر اس کی بہتری میں صَرف ہوتی ہے، لہٰذا روزانہ اپنے شیڈول سے گھنٹہ، ڈیڑھ گھنٹہ بچّوں کے لیے ضرور مخصوص کر یں،اس دوران ان کے ساتھ بیٹھ کر وقت گزاریں، کوئی کہانی، واقعہ سُنائیں، خاندان،رشتے داروں سےمتعلق باتیں کریں۔ انہیں کھیلنے کودنےکا موقع دیں، پارک یا پھر کہیں تفریح کے لیے لے جائیں۔ چھٹیوں میں بھی ان کے سونے جاگنے،کھانے پینے، کھیلنے کودنے،لکھنے پڑھنے کے اوقات مقرر کریں اور نماز کی پابندی کروائیں۔اس سے بچّوں کے ذہنوں پر خوش گوار اثرات مرتّب ہوتے ہیں۔

س: موسمِ گرما میں مختلف عُمر کے بچّوں کا لباس کس طرح کا ہونا چاہیے، خصوصاً نومولود بچّوں کا؟

ج:چوں کہ نوزائیدہ بچّےگرمی یا سردی کا اظہار نہیں کرپاتے، تو زیادہ تر والدین اُن کے لیے زیادہ فکر مند رہتے ہیں اور گرمی کی نسبت، سردی میں زیادہ پریشان ہوتے ہیں اور اکثر انہیں بہت زیادہ کپڑوں میں لپیٹ دیتے ہیں۔مگریاد رکھیے، بچّوں کا چھینکنا، سردی لگنےکی نشانی ہرگز نہیں ۔ چھینکوں کی ایک وجہ ناک کا صاف نہ ہونا ہے۔ اگر بچّوں کی ناک صاف رکھی جائے،تو یہ شکایت نہیں ہوگی۔ 

اگر بچّہ رو رہا ہو، تو یہی سمجھا جاتا ہے کہ اسے بھوک لگی ہے یا پیاس، پیٹ میں درد ہےیا ریاح،لیکن اس طرف کسی کا دھیان ہی نہیں جاتا کہ اُسے کتنے کپڑوں میں لپیٹ رکھا ہے۔انسان کے جسم میں حرارت اُسی طرح پیدا ہوتی ہے، جس طرح انجن چلنے سے گاڑی گرم ہوتی ہے، لہٰذا بچّے کے جسم سےحرارت باہر نکالنی ہے، ہوا میں پھیلانی ہے، نہ کہ جسم ہی میں رہنے دی جائے۔ 

بچّوں کے جسم سے یہ حرارت سَر اور جسم کے کھلے حصّوں کے ذریعے نکلتی ہے اور اکثر اسی سبب بخار ہوجاتا ہے۔ بچے کو سردی میں پسینہ نہیں آنا چاہیے، اگر آرہا ہو، تو اس کا مطلب ہے کہ اُسے ایک خاص حد سے زیادہ کپڑے پہنا دیئے گئے ہیں۔

علاوہ ازیں، یہ احتیاط بھی ضروری ہے کہ بچّے کو پنکھے کے نیچے نہ لٹائیں۔ اس کا سَر ماتھا اور ہاتھ چیک کریں، اگر ٹھنڈے نہیں ہیں، تو اُسے گرمایش کی ضرورت نہیں ہے۔

اگر ٹھنڈے محسوس ہو رہے ہوں، تو ہلکا سا لحاف اوڑھا دیں۔ رہی بات موسمِ گرما کی تو اس میں بچّوں کوایسے ڈھیلے ڈھالے،ہلکے رنگوں کے سوتی ملبوسات پہنائیں،جو جسم کا درجۂ حرارت برقرار رکھنے کے ساتھ دھوپ کی شعاؤں سے بھی تحفّظ دیں۔

گرمیوں میں جسم سے پسینے کی شکل میں پانی خارج ہوتا ہے، تو پانی زیادہ پلائیں، لیکن چھے ماہ کی عُمر کے بچّوں کو ماں کے دودھ کے ساتھ پانی نہیں پلانا چاہیے۔ اگربچّہ اوپر کا دودھ پی رہا ہو، توپھر وقفے وقفے سے کچھ پانی پلادیا جائے۔نیز، اگر بڑی عُمر کا بچّہ جسمانی طور پر کم زور ہو، تو اُسے بھی زیادہ پانی کی ضرورت ہو گی۔

س: بچّوں کو وبائی امراض سے محفوظ رکھنے کے لیے کیا احتیاطی اقدامات کیے جاسکتے ہیں؟

ج:کوشش کریں کہ تازہ کھانا بنائیں،جب کہ کھانا کُھلی فضا میں رکھنے کی بجائےفریج میں رکھیں،کیوں کہ گرمیوں میں باہر کھانا رکھنے سے بیکٹیریا پیدا ہوجاتے ہیں۔بچّوں کہ سمجھائیں کہ وہ اسکولوں کے باہر ٹھیلے پر فروخت ہونے والی چیزیں قطعاً نہ کھائیں۔انہیں اسکول لنچ کے لیے باسی کھاناہرگز نہ دیںکہ اس سے عموماً گیسٹرو،ٹائیفائیڈ یا ہیضے کی شکایت ہوجاتی ہے۔پھل دھو کر کھانے کی عادت ڈالیں اور گلے سڑے پھل کھانے نہ دیں۔

بچّوں کو انڈا ضرور کھلائیں۔دیکھا گیا ہے کہ اکثر مائیں صبح ناشتے میں بچّوں کو ہاف فرائی ہاف بوائل یا کچا پکا انڈکھلاتی ہیں، جو درست نہیں ،کیوں کہ مرغیوں کی فیڈ عموماً غلیظ چیزوں سے بنتی ہے ،جس میں جراثیم بھی ہوتے ہیں۔ 

خصوصاً ٹائیفائیڈ کے جراثیم انڈوں میں بھی سرایت کر جاتے ہیں۔ زردی میں توضرور ہو سکتے ہیں، لہٰذا بچّوں کو کچی زردی کھلانے سے اجتناب برتیں اور زردی اچھی طرح پکا کر کھلائیں۔ صفائی ستھرائی کا خاص اہتمام کریں، گھر میں گندگی، مکھیاں، کاکروچ وغیرہ پیدا نہ ہونے دیںاور گھر کے آس پاس بھی صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھا جائے،جب کہ بچّوں کی ویکسی نیشن لازماً کروائیں۔

(مضمون نگار، معروف ماہرِامراضِ اطفال اور ایشیا پیسیفیک پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن کے صدر ہیں)

تازہ ترین