آپ آف لائن ہیں
پیر14؍ ربیع الثانی1442ھ 30؍ نومبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ڈاکٹر میری موت کے اعلان کیلئے تیار تھے: بورس جانسن

وزیرِ اعظم بورس جانسن  کا انٹرویو کے دوران انکشاف 


بر طانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے میری موت ہو جاتی تو ڈاکٹروں کے پاس پورا منصوبہ تھا، ڈاکٹر میری موت کے اعلان کے لیے بھی تیار تھے۔

برطانوی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے بورس جانسن نے کہا کہ یہ ایک تلخ لمحہ تھا، اس کی تردید نہیں کروں گا، علاج کرنے والے ڈاکٹروں کے پاس ایسی حکمتِ عملی تھی کہ اگر سابق سوویت رہ نما اسٹالن کی طرح میرا اچانک انتقال ہو جائے تو وہ کیا کریں۔

انہوں نے کہا کہ میری طبیعت اچھی نہیں تھی، معلوم تھا کہ ہنگامی منصوبے تیار ہیں، ڈاکٹروں کے پاس انتظامات تھے کہ صورتِ حال خراب ہو گئی تو کیا کرنا ہے۔

بورسن جانسن نے کہا کہ میں نے کسی بھی موقع پر نہیں سوچا تھا کہ میں مرنے والے ہوں، مایوسی اس با ت پر تھی کہ طبیعت بہتر کیوں نہیں ہو رہی۔

برطانوی وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ اس تجربے نے بیماری سے لڑنے اور ملک کو معمول پر لانے کے لیے زیادہ پرعزم بنا دیا۔

برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن اپنے علاج اور صحت یابی کو یاد کر کے جذباتی ہو گئے، انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر غور کرنے لگے کہ میرے جسم میں نلکی لگائی جائے یا وینٹی لیٹر پر ڈالا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ پہلے میں اپنی حالت کی سنگینی سے انکار کرتا رہا، طبیعت کی خرابی محسوس کرنے کے باوجود کام جاری رکھنے کی کوشش کی۔

یہ بھی پڑھیئے: بورس جانسن کی منگیتر کے ہاں بچے کی پیدائش

بورس جانسن نے بتایا کہ میں پہلے اسپتال نہیں جانا چاہتا تھا، آکسیجن کی سطح کم ہونے پر ڈاکٹر اسپتال جانے پر زور دے رہے تھے۔

برطانوی وزیرِ اعظم نے یہ بھی کہا کہ اب سوچتا ہوں کہ ڈاکٹر اسپتال جانے کے مشورے میں حق بجانب تھے۔

55 سالہ بورس جانسن نے 27 مارچ کو کورنا وائرس کی ہلکی علامات کا اظہار کیا تھا، 5 اپریل کو جانسن کواسپتال اور 24 گھنٹے کے اندر آئی سی یو منتقل کیا گیا تھا، انہیں 3 دن آکسیجن لگی رہی، جبکہ 12 اپریل کو برطانوی وزیرِ اعظم کو اسپتال سے فارغ کیا گیا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید