آپ آف لائن ہیں
اتوار13؍ذیقعد 1441ھ 5؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کرونا وائرس چین میں تباہی کے بعد جب امریکا پہنچا تو، اس کے اثرات بہت تیزی سے امریکی عوام پر پڑنا شروع ہوئے، جس کے ساتھ،امریکا میں مقیم پاکستانی بھی اس وبا کا شکار ہنے لگے۔ اب تک کی غیر تصدیق شدہ اطلاعات کے مطابق پاکستانیوں کی سب سے بڑی تعداد نیویارک میں اس وبا کا شکارہوئی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق نیویارک، نیو جرسی، کنکٹیکٹ اور میساچوسیٹس میں اب تک 300 سے زائد پاکستانی افراد موت کا شکار ہوچکے ہیں۔ اس کے علاواہ دیگر امریکی ریاستوں کا تخمینہ لگایا جائے تو یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے، یعنی کورونا وائرس سے بیرون ملک مرنے والے پاکستانیوں کی تعداد خود پاکستان میں مرنے والوں کی تعداد سے زیادہ ہے۔ 

اس پر آشوب دور میں پاکستانی صحافی برادری اور سماجی تنظیموں کے نمائندے، حکومت پاکستان سے نوحہ کناں ہیں،بیشتر پاکستانی سوشل میڈیا پر اپنی دکھ بھری داستان سناتے ہوئے بھی نظر آرہے ہیں،جن میں انہوں نے اپنی تکلیف پر حکومت پاکستانی کی بے حسی کی روداد وطن میں مقیم پاکستانی بھائیوں سے شئیر کی ۔

ان ہی میںنیویارک میں مقیم صحافی طیبہ چیمہ نے بھی اپنی پُر نَم آنکھوں کے ساتھ حکومت پاکستان سے شکوہ کیا کہ امریکا میں ہمارے ہموطنوں پرکورونا وائرس کی صورت میں ایک قیامتِ صغرا برپا ہے اور پاکستانی حکومت خاموش ہے۔ نیویارک میں مقیم صحافی آفاق فاروقی کے مطابق پاکستانی سرکار اور اس کے اہلکار جن لوگوں کو نظر انداز کررہے ہیں یہ وہ ہی بیرون ملک میں مقیم پاکستانی ہیں جو 70 سال سے قوم کی ایک آواز پر ہر آڑے وقت میں نہ صرف قوم کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں بلکہ ہر طرح کی معاونت بھی کرتے ہیں۔ 

انکا کہنا ہے یہ ہر دلعزیز لوگ قوم سے تسلی کے صرف دو لفظ چاہتے ہیں ناکہ کو ٸئی مالی امدادکے منتظر ہیں۔ سفارت خانہ پاکستان سے گلہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اِنہیں دیگر لوگوں سے ساتھ نا صرف یہ گلا ہے کہ پاکستانی قونصلیٹ نیویارک نے اس مشکل وقت میں اپنے ہم وطنوں کی خبر گیری نہیںکی بلکہ امریکامیں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو بھی بے یارومددگار چھوڑ دیا۔ اس کے برعکس میامی میں مقیم ساؤتھ فلوریڈا کمیونٹی کے ممتاز رہنما امین نوی والا کا کہنا ہے کہ نا صرف ہیوسٹن قونصلیٹ پاکستان سے ہاشمی اور سہیل خٹک ان سے رابطے میں ہیں بلکہ یہاں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی مالی معاونت کے ساتھ ان کے کھانے پینے کا بھی بندوبست کر رہےہیں۔ دوسری طرف ساؤتھ فلوریڈا کی رفاحی اور سماجی تنظیمیں اپنی مدد آپ کے تحت بلا کسی رنگ ونسل، تمام ضرورت مندوں کی مدد میں مصروفِ عمل ہیں۔ 

یہاں ICNA, Islamic Relief, Friends of Humanity, IFSF کے ذمہ دارشہرکے مختلف مقامات پر غذائی اجناس تقسیم کر رہے ہیں۔ امریکا کی سب سے بڑی نمایا ںتنظیمآئی سی این اےکے ریجنل ڈائریکٹر عبدالرؤف خان نے بتایا کے ان کی تنظیم اپنی معاون تنظیموں کے ساتھ مل کر امریکا کے ایسٹرن زون میں اب تک تقریباً تیس ہزار لوگوں کو چھے لاکھ پاؤنڈ راشن تقسیم کر چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا ہم یہ خدمت بلِا کسی رنگ نسل اور مذہب کی تفریق کے کررہےہیں۔ 

اس کے ساتھ ساتھ ہر قسم کی ہنگامی صورتِحال سے نمٹنے کے لیے ساؤتھ فلوریڈا کے مقبول سیاسی رہنما ڈیموکریٹ امتیاز احمد محمد جوکہ 2020 کے امریکی انتخابات میں امیدوار بھی ہیں۔ فلوریڈا اسٹیٹ کی ایمرجنسی مینجمنٹ سروسز کے ڈائریکٹر جیریڈ ماسکوٹز اور دیگر سٹی کمشنرز سے مکمل رابطےمیں ہیں۔ 

بلادی سے مزید