آپ آف لائن ہیں
پیر 9؍ شوال المکرم 1441ھ یکم جون 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پاکستان کرکٹ میں کرپشن: وزیراعظم کو اعلیٰ سطحی تحقیقات کرانا پڑے گی

یہ 1999کی بات ہے نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں دوستوں کے ساتھ ایک نشست میں میچ فکسنگ پر کھل کر اظہار خیال ہورہا تھا۔چند صحافیوں اور کچھ کرکٹرز کے ساتھ بحث میں سی آئی اے کراچی کے ایک مشہور ایس ایس پی بھی شریک ہوگئے۔وہ پولیس افسر کسی کام سے اسٹیڈیم میں آئے تھے۔یہ وہی دور ہے جب لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس ملک محمد قیوم میچ فکسنگ کی تحقیقات کررہے تھے۔جب پولیس افسر سے کسی دوست نے میچ فکسنگ کی حقیقت جاننے کی کوشش تو انہوں نے کہا کہ بھائی پولیس کے پاس جب بھی کوئی ملزم آتا ہے ہم اسے پھول پیش کریں گے تو کوئی بھی اپنا جرم نہیں مانے گا۔لیکن پولیس کے خوف اور تھرڈ ڈگری کے استعمال سے بڑے بڑے ہمارے سامنے سچ بولنے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔

اگر ان کرکٹرز کو ہمیں دے دیا جائے تو میں دعوے سے کہتا ہوں کہ چند منٹوں میں قوم کے سامنے سنسنی خیز حقائق سامنے آجائیں گے ۔میں نے اس عہدے پر رہ کر یہ ضرور دیکھا کہ کرکٹ کرپشن نے پاکستانی کرکٹ کے کپڑوں کو آلودہ کیا ہے اور اوپر سے نیچے تک بڑے بڑے کھلاڑیوں کے ہاتھ پاوں گند میں ڈوبے ہوئے ہیں۔وہ پولیس افسر آج ریٹائر ہوچکے ہیں لیکن21 ،22سال بعد جب کرکٹ کرپشن کی کہانیاں سامنے آرہی ہیں تو مجھے ان صاحب کی یاد آتی ہےکہ واقعی حکومت کو اعلی سطحی کمیشن بناکر ایف آئی اے سے کرپشن کی تحقیقات کرانی چاہیے۔کیا واقعی سلیم ملک بے گناہ ہیں؟ 

عطاء الرحمن کا منظر پر آنا اور سابق چیئرمین خالد محمود کا بیان اس بات کا تقاضہ کرتا ہے کہ آج بھی نہ کوئی کرکٹر جرم مانتا ہے اور نہ وہ اپنے کئے پر پشیمان ہے۔سلیم ملک سے عمر اکمل تک سب نئی کہانی بتا کر نئے سازشی مفروضے بیان کرتے ہیں۔حقیقیت یہ ہے کہ دال ہی نہیں پوری ہانڈی کی کالی ہے۔ پی سی بی کے چیئرمین خالد محمود کا کہناہے کہ ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش،بھارت اور آسٹریلیا کے میچ مشکوک تھے میچوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔پاکستان بنگلہ دیش سے کسی صورت ہار ہی نہیں سکتا تھا لیکن ہار گیا ۔ بھارت کیخلاف انیس سو ننانوے ورلڈکپ کا میچ پاکستانی ٹیم نے “فیئر “ نہیںکھیلا تھا ۔آسٹریلیا کیخلاف ورلڈکپ فائنل میں پاکستان نے “فیئر گیم” نہیں کھیلا تھا۔

سابق فاسٹ بولر عطا الرحمن نے میرے سامنے اعتراف کیا تھا کہ وسیم اکرم نے انہیں فکسنگ کی پیشکش کی تھی۔ عطا الرحمن نے اس حوالے سے حلف نامہ بھی عدالت میں جمع کرایا تھا لیکن پھر وہ اچانک عدالت میں اپنے بیان سے مکر گئَے عطاالرحمن کے مکر جانے پر ایک کھلاڑی نے ان پر دبائوڈالاتھا۔انہوں نے کہا کہ عطا الرحمن خوفزدہ تھے کہ عدالت میں بیان دینے پر وہ مشکل میں پڑجائیں گے ۔عطاالرحمن کا وسیم اکرم کے معلق فکسنگ کا الزام سچ تھا لیکن وہ سچ سے مکر گئے ۔خالد محمود نے یہ نہیں بتایا کہ 1998کے دورہ جنوبی افریقا میں انہوں نے چیف ایگزیکٹیو ماجد خان کی مخالفت کے باوجود وسیم اکرم کو جنوبی افریقا کیوں بھیجا۔1999کے ورلڈ کپ میں جب پاکستانی ٹیم فائنل ہار گئی تو پورے ملک میں ایک طوفان برپا تھا۔خالد محمود کراچی پہنچے ۔

میں نے کراچی پریس کلب کے اسپورٹس کنونیئر کی حیثیت سے انہیں میٹ دی پریس میں مدعو کیا اس پریس کانفرنس میں خالد صاحب نے کہا کہ پاکستان کے فائنل ہارنے پر جس طرح شو ر ہورہا ہے ایسا شو ر تو1971میں بنگلہ دیش بننے پر بھی نہیں ہوا تھا۔خالد صاحب کے میٹ دی پریس کو اخبارات نے شہ سر خیوں میں شائع کیا اور 24گھنٹے میں وہ چیئرمین کے عہدے سے فارغ ہوگئے ان کی جگہ مجیب الرحمن کو نیا چیئرمین بنایا گیا۔

خالد محمود آج جو انکشاف کررہے ہیں انہوں نے اس پریس کانفرنس میں ایسی کوئی بات نہیں کی اسی طرح سلیم ملک اور عطاء الرحمن آج جو باتیں کررہے ہیں انہوں نے جسٹس قیوم کمیشن میں ایسی کوئی بات نہیں کی۔لاک ڈاون میں جب دنیا میں کرکٹ نہیں ہورہی پاکستان منفی خبروں کے حوالے سے اسپورٹس کے صفحات میں شہ سر خیوں میں ہے۔یاد رہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلیم ملک ایک ہفتے کے دوران دو بار میڈیا کو جاری کی گئی ویڈیوز کے ذریعے کرکٹ میں واپسی کی اپیل کرچکے ہیں۔ اپنی دوسری ویڈیو میں انھوں نے شائقین سے معافی بھی مانگی ہے اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو غیر مشروط تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلیم ملک کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے میچ فکسنگ کی ہی نہیں تو اعتراف کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ان کی جانب سے جاری کردہ ویڈیوز سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ انہوں نے میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے معافی مانگی ہے۔ ان کے مطابق یہ تاثر بالکل غلط ہے۔حال ہی میں جیو نیوز میں شاہ زیب خان زادہ کو انٹرویو میں سلیم ملک نے انوکھی منتطق پیش کی۔ سابق کپتان سلیم کا کہنا ہے کہ جس وقت انہیں کپتان بنایا گیا ، اس وقت ٹیم میں سیاست تھی ، وسیم اکرم اور وقار یونس کے دو گروپ تھے ۔ اور یہ دونوں کپتان بننا چاہتے تھے ۔ میرےکپتان بننے کے بعد پاکستان ٹیم نے میچ جیتنا شرو ع کئے تو سب ان کے خلاف اکھٹا ہوگئے ۔ 

میرے خلاف مہم چلائی۔ سلیم ملک کا کہنا ہے کہ جس جس نے ان پر الزام لگائے آج وہ سب کہتے ہیں کہ میرے ساتھ زیادتی ہوئی اور غلط کیا گیا ۔لیکن راشد لطیف نے انہیں آئینہ دکھاتے ہوئے کہا کہ جسٹس قیوم انکوائری میں کہے ایک ایک لفظ پر قائم ہوں ۔راشد نے میچ فکسنگ الزام میں سزا یافتہ سلیم ملک کی بات کو مسترد کردیا ۔سلیم ملک نے کہا تھا کہ الزام لگانے والے آج کہتے ہیں اس وقت غلط ہوا۔ راشد لطیف نے قیوم کمیشن کی انکوائری میں سلیم ملک کے میچ فکسنگ میں ملوث ہونے پر اہم بیان دیا تھا۔سلیم ملک سے جب یہ کہا گیا کہ فکسنگ میں سزا یافتہ کرکٹر کے لیے واپسی کی شرط یہی ہے کہ وہ آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کے تحت پہلے اپنے جرم کا اعتراف کرے اور اس کے بعد ان کی بحالی کا پروگرام شروع ہوگا، جس پر سلیم ملک کا کہنا تھا کہ عدالت انہیں کلیئر کر چکی ہے۔ 

عدالت نے ان پر عائد تاحیات پابندی اٹھانے کا حکم 2008 میں دیا تھا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ان کی واپسی میں تاخیری حربے استعمال کرتا رہا ہے اور ’اب اس نے آئی سی سی کی جانب سے ملنے والے ٹرانسکرپٹ کی بات کی ہے۔سلیم ملک نے سوال کیا کہ اگر آئی سی سی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو ان سے متعلق کوئی ٹرانسکرپٹ دیا تھا تو اس نے وہ مسودہ عدالت میں پیش کیوں نہیں کیا؟سلیم ملک نے کہا کہ انہیں پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس طرح کا کوئی بھی ٹرانسکرپٹ نہیں دیا لیکن اگر انہیں اس طرح کا کوئی مسودہ دیا گیا تو وہ یقیناً آئی سی سی یا پاکستان کرکٹ بورڈ کے سامنے پیش ہو کر جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے 2013 میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو 25 صفحات کا ایک ٹرانسکرپٹ دیا تھا جو دراصل سلیم ملک کی انگلینڈ میں کسی مشکوک شخص کے ساتھ گفتگو تھی اور ایک سٹنگ آپریشن کے ذریعے بالکل اسی انداز میں ریکارڈ کی گئی تھی جیسے ا سپاٹ فکسنگ میں سزا یافتہ مظہر مجید کے ساتھ ہوا تھا،سلیم ملک کا کہنا ہے کہ یہ ان کی بڑی کامیابی تھی کہ عدالت نے انہیں کلیئر کرتے ہوئے تاحیات پابندی اٹھالی تھی جس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کو ان کا روکا ہوا پراویڈنٹ فنڈ بھی جاری کرنا پڑا تھا۔

سلیم ملک نے جسٹس ملک محمد قیوم رپورٹ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اس رپورٹ کی بات کرتے ہیں وہ اسے غور سے پڑھیں کیونکہ اس میں واضح طور پر جن کھلاڑیوں کے بارے میں سفارشات دی گئی تھیں ان پر عملدرآمد نہیں ہوا اور وہ سارے کرکٹرز کسی نہ کسی حیثیت میں کرکٹ میں واپس آئے اور صرف ان کے ساتھ زیادتی کی گئی اور انہیں نشانہ بنایا گیا۔سلیم ملک کا کہنا ہے کہ پچھلے چند روز سے ان کی جانب سے میڈیا میں بیانات کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے اس میں پس پردہ کوئی محرک نہیں اور نہ ہی انہیں کسی نے کوئی اشارہ دیا ہے۔ 

ان کے مطابق انضمام الحق اور ثقلین مشتاق نے ان کے لیے مثبت سوچ اختیار کرتے ہوئے جو باتیں کیں تو ان میں بھی دوبارہ حوصلہ پیدا ہوگیا کیونکہ طویل عرصے سے اپنا کیس لڑتے لڑتے وہ دلبرداشتہ ہوگئے تھے اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ انصاف ہو۔سابق پاکستانی کرکٹر سلیم ملک کا نام تین تحقیقاتی رپورٹس میں شامل ہوا۔ تو کیا یہ سب کچھ اتنا آسان ہے کہ اس کے بعد سلیم ملک کسی نہ کسی حیثیت میں کرکٹ میں واپس آسکتے ہیں؟ اور کیا ان کی واپسی کے لیے ’اعتراف جرم‘ ضروری نہیں؟سلیم ملک انصاف کی بات کررہے ہیں اسی دوران ایک اور سابق ٹیسٹ کرکٹر عمراکمل کو اسپاٹ فکسنگ کی پیشکش رپورٹ نہ کرنے پر تین سال کی پابندی عائد کردی گئی۔عمر اکمل ابھی ان کی مشکلات کم نہیں ہوسکی ہیں۔

انٹر نیشنل کرکٹ کونسل کا کہنا ہے کہ عمر اکمل نے سابق ٹیسٹ بیٹسمین منصور اختر کے خلاف اسپاٹ فکسنگ کے جو الزامات لگائے تھے اس کی تحقیقات ابھی جاری ہیں جبکہ 2015 ورلڈ کپ کا کیس شواہد نہ ہونے کی وجہ سے ختم کرکے فائل بند کردی گئی ہے۔واضع رہے کہ منصور اختر کیس میں عمر اکمل کو الزام ثابت کرنا ہوگا۔عمر اکمل نے منصور اختر پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے مجھے کنیڈین لیگ میں اسپاٹ فکسنگ کی پیشکش کی تھی۔ 

آئی سی سی ترجمان کا کہنا ہے کہ منصور اختر کا کیس ابھی چل رہا ہے اور اس بارے میں مزید تبصرہ نہیں کرسکتے۔عمر اکمل نے ایک نجی ٹی وی کو انٹر ویو میں کہا تھا کہ مجھے 2015کے ورلڈ کپ میں بھارتی سٹے بازوں نے پیشکش کی تھی اس بارے میں ترجمان راج شیکھر راو نے کہا کہ آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ نے تحقیقات کا آغاز کیا لیکن ناکافی شواہد کے باعث یہ کیس آگے نہ بڑھ سکا اور ختم کردیا گیا لیکن منصور اختر سے انٹر ویو کے بعد اس کیس پر تحقیقات جاری ہیں۔نمائندہ جنگ کو باوثوق ذرائع نے بتایا کہ 19فروری کی رات کو کراچی کے ہوٹل میں عمر اکمل نے پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ کے حکام کی موجودگی میں کیمرے کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ مجھے دو الگ الگ سٹے بازوں نے دو مختلف اوقات میں میچ فکسڈ کرنے کی پیشکش کی تھی۔عمراکمل کو پتہ تھا کہ ان کے اعترافی بیان کی ریکارڈنگ ہورہی ہے اس کے باوجود انہوں نے اپنی غلطی مانی اور اعتراف جرم کیا۔

لیکن حیران کن پہلو جسٹس ریٹائرڈ میراں کے سامنے پیشی کے دوران سامنے آیا جب انہوں نے وکیل کے بغیر اپنا کیس خود لڑا اور جج کے ساتھ ایسی بحث میں الجھ گئے کہ جج نے مسلسل وضاحتوں سے تنگ آکر انہیں تین سال کی پابندی لگادی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ عمر اکمل اپنے کیس میں اپیل کسی اور جج کے سامنے کریں گے۔تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد پی سی بی اپیل کمشنر کا تقرر کرے گا۔عمراکمل پر الزام تھا کہ انھوں نے مبینہ طور پر مشکوک افراد یا ایک فرد کی طرف سے کیے گئے رابطوں کے بارے میں بورڈ یا اس کے اینٹی کرپشن یونٹ کو مطلع نہیں کیا تھا۔ پی سی بی کے اینٹی کرپشن یونٹ نے عمر اکمل کے مشکوک افراد سے رابطے پکڑے تھے اور ان کے سامنے ان رابطوں کی تفصیلات رکھ دی گئی تھیں۔

بورڈ کے قانونی مشیر تفضل حیدر رضوی نے عمراکمل کو دی گئی تین سالہ پابندی کے فیصلے کے بارے میں بتایا ہے کہ ڈسپلنری پینل نے عمراکمل کو بہت موقع دیا کہ وہ واضح انداز میں اپنی بات کرسکیں لیکن عمراکمل نے یہ ضرور تسلیم کیا کہ ان سے غلطی ہوئی ہے لیکن وہ مبہم انداز میں اس کی وضاحت پیش کرتے رہے۔ سابق ٹیسٹ کرکٹرز شعیب اختر اور رمیز راجہ نے میچ فکسنگ کو مجرمانہ فعل قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس بارے میں جلد از جلد قانون سازی کی جائے تا کہ کرپٹ کھلاڑیوں کو ملکی قوانین کے تحت سخت سزائیں دی جاسکیں۔شعیب اختر اور رمیز راجہ کا یہ ردعمل ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان کرکٹ بورڈ نے بیٹسمین عمراکمل پر مشکوک افراد کی جانب سے رابطے کی اطلاع کرکٹ بورڈ کو نہ دینے کی پاداش میں تین سال کی پابندی عائد کی ہے جبکہ دوسری جانب میچ فکسنگ میں تاحیات پابندی کا سامنا کرنے والے سابق کپتان سلیم ملک کرکٹ میں واپسی کے لیے اپیل کر رہے ہیں۔

کون سچا ہے اور کون جھوٹا اس کا فیصلہ تاریخ کرے گی۔ لیکن کرکٹ کھیلنے اور کرکٹ کو سنجیدہ انداز میں رپورٹ کرنے والے جانتے ہیں کہ یہ معاملہ سادہ اور آسان نہیں ہے۔1992میں عمران خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں نے جیتے ہوئے میچ ہارے اور دولت دونوں ہاتھوں سے سمیٹی۔جسٹس قیوم رپورٹ ہو یا جسٹس بھنڈاری کمیشن کی تحقیقات،جسٹس فخر الدین جی ابراہیم کی رپورٹ ہو یا جسٹس اعجاز یوسف کی سفارشات ہوں ،ہر رپورٹ میں سنسنی خیز اور ہوش اڑا دینے والے انکشافات ہیں۔

عمران خان نے کپتان رہ کر ان کرکٹرز کو کرپشن سے روکا،اب وہ ملک کے سربراہ ہیں اور ایسی قانون سازی کرنے کی ضرورت ہے جو جنٹلمین کے اس کھیل سے گند کا صفایہ کرسکے۔عمران خان کو جس کھیل نے شہرت دی آج وہی کھیل ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں وزیر اعظم پاکستان اعلی سطحی تحقیقات کا اعلان کریں اور قانون سازی کریں تاکہ دودھ کا دودھ، پانی کا پانی ہوسکے اور مستقبل میں کوئی ایسی حرکت نہ کرے جس سے یہ کھیل اور ملک داغ دار ہو۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید