آپ آف لائن ہیں
منگل 15؍ذیقعد 1441ھ 7؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کورونا ٹیسٹ کرنے والی موبائل ایپ کی تیاری

اسمارٹ فون ڈیولپرز نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ جلد ایسی موبائل ایپ تیار کرنے والے ہیں جو ڈیوائس کے اندر ایک مائیکرو فون استعمال کرکے سانس لینے کی آواز میں ہونے والی تبدیلی کا جائزہ لے کر کورونا وائرس کی تشخیص کرسکے گی۔ 

یونیورسٹی آف پٹسبرگ کے محققین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تجربہ کامیاب ہوگیا تو پھر ان کی تحقیق سے یہ فائدہ ہوگا کہ بہت ہی کم خرچ میں پوری آبادی کا ٹیسٹ کرکے وائرس لاحق ہونے کا پتہ چلایا جاسکے گا۔

یہ بھی پڑھیے: بغیر علامات والے افراد نے کورونا وائرس زیادہ پھیلایا، ماہرین

 یہ ایپ ابھی منصوبہ بندی کے مراحل میں ہے، لہٰذا ایپ اسٹور میں اس کی دستیابی میں ابھی کچھ وقت لگے گا۔ ٹیم کا کہنا ہے کہ پہلے انہیں ایک نئی  صوتی لہر کی قسم ڈیزائن کرنا ہے۔ اس ٹیکنالوجی میں مصنوعی ذہانت کو استعمال کرکے آنے والی انسانی ائیرویز کی آواز کا جائزہ لے کر یہ اندازہ کیا جائے گا کہ کیا یہ کورونا وائرس کے مریضوں کی آواز سے مشابہہ ہے یا نہیں۔ 

ڈیولپرز نے دعویٰ کیا ہے کہ  جب یہ ایپ تیار ہوجائے گا تو پھر اس میں موجود ہارڈویئر اور  نارمل اسمارٹ فون کے کمپیوٹنگ پاور کو استعمال کرکے منہ یا ناک سے کسی بھی قسم کا مواد لینے کے بجائے مشتبہ مریض کے گھر پر ہی آواز سے اس کے نیگیٹو یا پازیٹو ہونے کا پتہ لگایا جاسکے گا۔ 

موجودہ ٹیسٹنگ کے طریقہ کار میں اگر کسی کا کووڈ 19 ٹیسٹ درکار ہو تو اس شخص کی ناک اور حلق کے پچھلے حصے سے سواب لینا ہوتا ہے جسے پھر ایک لیب میں ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: کورونا سے سیاہ فاموں میں اموات گوروں سے چارگنا زیادہ ہے

سواب گھر پر بھی لیا جاسکتا ہے لیکن پھر اسے پوسٹ کے ذریعے ٹیسٹنگ کے لیے بھجوانا پڑیگا۔ اس تحقیقی ٹیم کے سربراہ وائے گاؤ کہتے ہیں کہ اس پروجیکٹ یا ایپ میں ہم ایک نئی موبائل سینسنگ اور منصوعی ذہانت پر مبنی تیکنیک کا استعمال کرینگے۔

اس تکنیک سے گھر پر ہی کووڈ 19کا مرض لاحق ہونے کا پتہ چلایا جاسکے گا، اور یہ سب کچھ بہت تیزی سے اور موثر انداز میں ممکن ہوگا اور وائرس میں مبتلا مریض کا پتہ چل جائے گا۔

خاص رپورٹ سے مزید