آپ آف لائن ہیں
بدھ21؍ذی الحج1441ھ12؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال:۔ میں سرکاری ملازمت سے وابستہ ہوں، ملازمت کچھ ایسی ہے کہ میں 13 دن ڈیوٹی کرتا ہوں اور 7 دن چھٹی پر ہوتا ہوں۔ملازمت کی جگہ میرے گھر سے 200 کلومیٹر دور ہے ۔ جہاں ملازمت کرتا ہوں وہاں ہاسٹل میں رہتا ہوں ۔ میرا سارا سامان (بستروغیرہ )یہاں پر ہے۔ اس ضمن میں سوال یہ ہے کہ میں ڈیوٹی کے دنوں میں نماز پوری پڑھوں یا قصر؟ (احتشام الرحمن)

جواب:۔ اگر کوئی شخص کاروبار یا ملازمت کے لیے اپنے مقام سے سوا ستتر کلو میٹر یا اس سے زیادہ دور جاتا ہو اور جہاں کاروبار یا ملازمت کرتاہو ،وہاں پندرہ دن سے کم ٹھہرتا ہو تو ایسا شخص مسافر ہوگا اور قصر کرے گا، لیکن اگر ایک بار بھی پندرہ دن یا اس سے زیادہ کی نیت سے وہاں ٹھہراہوتووہ جگہ اس کی وطن اقامت کہلائے گی، یہ شخص وہاں مقیم کہلائے گا اور پوری نماز پڑھے گا۔ 

لہٰذا اگر آپ اپنی جائے ملازمت میں تیرہ دن ہی رہتے ہیں اور ایک مرتبہ بھی پندرہ دن یا اس سے زیادہ کی نیت سے وہاں نہیں ٹھہرے ہیں تو آپ قصر پڑھیں گے۔(ہندیہ1/ 139، کتاب الصلوٰۃ،الباب الخامس عشر فی صلاۃ المسافر، ط: رشیدیہ۔البحرالرائق:۲/136۔ کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر۔ط: سعید)