آپ آف لائن ہیں
پیر 9؍ شوال المکرم 1441ھ یکم جون 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ٹیم جیت کی راہ پر گامزن نہ ہوئی تو تاریخ پی سی بی کے تین بڑوں کو معاف نہیں کرے گی

احسان مانی نے20ماہ پہلے ملک میں سب سے طاقت ور ادارے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کا چارج سنبھالاتھا۔ستمبر2018سےاب مئی2020 میں ان کی پرواز بلندیوں کی جانب ٹیک آف کر چکی ہے۔احسان مانی نے سبحان احمد سمیت کئی پرانے افسران کو ملازمت سے فارغ کرکے مکمل انتظامی کنٹرول انگلینڈ سے آنے والے چیف ایگزیکٹیو وسیم خان کو سونپ دیا ہے۔ڈائر یکٹر ہائی پرفارمنس ندیم کی تقرری وسیم خان کی مرضی سے ہونے والی اب تک کی آخری بڑی لیکن اہم تقرری ہے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم انتظامیہ میں مکی آرتھر،سرفراز احمد اور انضمام الحق کو گھر بھیج کر اب ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق ڈرائیونگ سیٹ پر ہیں۔احسان مانی نے پی سی بی ہیڈ کوارٹر میں وسیم خان اور پاکستانی ٹیم میں مصباح الحق کو سیاہ اور سفید کا مالک بنایا ہوا ہے۔بیس ماہ میں جس قدر بڑے پیمانے پر آپریشن کلین اپ ہوا ہے اس کے بعد اگر پاکستان کرکٹ بورڈ کے معاملات درست نہ ہوئے ،پاکستانی ٹیم دنیا کی صف اول کی ٹیم نہ بنی تو پھر احسان مانی کے پاس اس کا کوئی جواز نہیں ہوگا۔مرضی کے فیصلے کرنے کے بعد اب اگر ٹیم جیت کی راہ پر گامزن نہ ہوئی تو پھر احسان مانی ،وسیم خان اور مصباح الحق کو تاریخ شائد کبھی معاف نہ کرسکے۔سرفراز احمد تو جیسے مصباح الحق کی ہٹ لسٹ پر تھے انہیں مکھن میں سے بال کی طرح تیسرے فارمیٹ ون ڈے کی کپتانی سے بھی فارغ کردیا گیا اور بابر اعظم کو ون ڈے کا نیا کپتان اور ٹیسٹ میں اظہر علی کا نائب مقرر کردیا گیا۔

سرفراز احمد کی کپتانی میں پاکستان نے آخری چھ ون ڈے انٹر نیشنل جیتے تھے لیکن شائد ان اعداد و شمار کو نہ مصباح نے دیکھا اور نہ احسان مانی کی نظر سے گذرے۔ اس موقع پر2023کے ورلڈ کپ کی تیاریوں کو جواز بناکر ون ڈے کے کپتان کی تقرری اس لحاظ سے حیران کن ہے کہ اگلے چھ ماہ تو پاکستان کرکٹ ٹیم کو کوئی ون ڈے انٹر نیشنل سیریز ہی نہیں کھیلنی۔2015کے ورلڈ کپ میں مصباح الحق سابق کپتان سرفراز احمد کے ساتھ جو سلوک کررہے تھے اب بھی ان کے فیصلوں میں نفرت کا اظہار دکھائی دے رہا ہے۔چیف سلیکٹر قومی کرکٹ ٹیم نے کہا کہ وہ کپتانی کی مدت میں توسیع ملنے پر اظہر علی اور بابراعظم کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ یقیناََ یہ ایک اچھا فیصلہ ہے کیونکہ اس سےاسکواڈ میں ان کا کردار واضح ہوگا جس سے دونوں کھلاڑیوں کو اپنے کھیل میں بہتری لانے کا موقع ملے گا، یقین ہے دونوں کھلاڑی اب مستقبل کی بہتر منصوبہ بندی کریں گے ۔مصباح الحق کہتے ہیں کہ محمد رضوان وکٹ کیپنگ میں ان کی فرسٹ چوائس ہیں۔رضوان کو پی ایس ایل میں ان کی فرنچائز نےنہیں کھلایا، لیکن مصباح انہیں مسلسل موقع دے رہے ہیں حتیکہ سینٹرل کنٹریکٹ میں انہیں پروموشن دے دی۔مصباح الحق نے کہا کہ ٹیم کے ایک باقاعدہ رکن کی حیثیت سے محمد رضوان کو کیٹیگری بی میں ترقی دی گئی ہے جبکہ سرفراز احمد کو بھی کیٹیگری بی میں رکھا گیا ہے کیونکہ وہ مستقبل کے حوالے سے ہماری منصوبہ بندی کا حصہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ 12 ماہ میں ہمیں بہت مشکل کرکٹ کھیلنی ہے جہاں سرفرازکےتجربےاورعلم کی ضرورت ہوگی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے نئے کھلاڑیوں کو کنٹریکٹ کے بارے کیا گیا فیصلہ صحیح ہے یا غلط اس کا فیصلہ تو آنے والے دنوں میں ٹیم کی کارکردگی دیکھ کر ہی کیا جا سکے گا۔ لیکن پی سی بی کے اعلان کے بعد فیصلے پر مداحوں اور ماہرین نے اپنا فیصلہ ابھی ہی سے سنا دیا ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کے نئے سینٹرل کنٹریکٹ کے اعلان میں بابر اعظم کو ایک روزہ کرکٹ ٹیم کا نیا کپتان مقرر کیا اور ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لینے والے فاسٹ بولر محمد عامر اور وہاب ریاض کے علاوہ میڈیم فاسٹ بولر حسن علی کو اس مرتبہ سینٹرل کنٹریکٹ نہیں دیاگیا۔

اس اعلان کے بعد سینٹرل کنٹریکٹ حاصل کرنے والوں، بی سے ایک کیٹگری میں ترقی پانے والے پاکستانی کھلاڑیوں کے نام تو سو شل میڈیا پر ٹرینڈ کر تا رہا۔ ان میں فواد عالم کانام بھی شامل ہے۔سوشل میڈیا پر ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر ہونے کے ناطے مصباح الحق کو لوگ کھری کھری سنا رہے ہیں۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے سیزن 2020-21 کے لیے 18 کھلاڑیوں پر مشتمل سینٹرل کنٹریکٹ کااعلان کردیا ۔ یکم جولائی سے نافذ العمل سینٹرل کنٹریکٹ میں نسیم شاہ اور افتخار احمد کو شامل کیا گیا ہے۔افتخار احمد کو کس کارکردگی پر کنٹریکٹ دیا گیا شائد اس کی وضاحت پی سی بی ہی کرسکتا ہے۔افتخار احمد نے گذشتہ سیزن میں پاکستان کی جانب سے 2 ٹیسٹ اور 2 ون ڈے اور7 ٹی ٹونٹی بین الاقوامی میچوں میں شرکت کی۔ 

اس دوران ٹی ٹونٹی کرکٹ میں ان کی کی اوسط اور اسٹرائیک ریٹ دیگر تمام بیٹسمینوںسے بہتررہا لیکن بیٹنگ کارکردگی واجبی رہی۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے سیزن 2020-21 کے لیے اظہرعلی کوقومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم جبکہ بابراعظم کوقومی ٹی ٹونٹی اور ایک روزہ کرکٹ ٹیموں کی قیادت سونپ دی ہے۔اس دوران پاکستان کومختلف دو طرفہ سیریز میں9 ٹیسٹ، 6 ون ڈے اور 20 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز کھیلنے کے علاوہ ایشیا کپ اور آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈکپ 2020 میں شرکت کرناہے،سینٹرل کنٹریکٹ میں شامل نسیم شاہ کو ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں کم عمر ترین بولرکی حیثیت سے میچ کی ایک اننگز میں پانچ وکٹیں اور ہیٹ ٹرک کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ 

انہوں نے یہ اعزازات سری لنکا اور بنگلہ دیش کے خلاف بالترتیب کراچی اور راولپنڈی میں ٹیسٹ میچوں کے دوران حاصل کیے۔اسی طرح نسیم شاہ کے بولنگ پارٹنر شاہین شاہ آفریدی کا شماران4 کھلاڑیوں میں ہوتا ہے جنہیں نئے کنٹریکٹ میں ترقی دی گئی ہے۔ بائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر نے گذشتہ سیزن کے دوران ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کی تھیں۔گذشتہ سیزن میں 18 ٹیسٹ اور 2 ٹی ٹونٹی وکٹیں حاصل کرنے والےشاہین شاہ آفریدی کو اےکیٹیگری میں شامل کرلیا گیا ہے۔مصباح الحق نے کہا کہ وہ شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ کو عمدہ کارکردگی کا صلہ ملنے پر خوش ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ بلاشبہ دونوں فاسٹ بولرپاکستان کرکٹ کا مستقبل ہیں اور اگر یہ دونوں فٹ رہتے ہیں تو یہ ایک طویل عرصہ دنیائے کرکٹ پر راج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مصباح الحق نے مزید کہا کہ دونوں کھلاڑیوں کی ترقی یقینی طور پرََ وقار یونس کی بھی حوصلہ افزائی کا سبب بنے گی جو ایک طویل عرصہ سے ان دونوں کھلاڑیوں کی کارکردگی نکھارنے کی کوشش کررہے ہیں۔عابد علی(تین ٹیسٹ میچوں میں 174 رنز اور ایک ون ڈے میچ میں 74رنز )، محمد رضوان (گذشتہ پا نچ ٹیسٹ میچوں میں 212 رنز اور وکٹوں کے پیچھے16شکار، گذشتہ پانچ ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچوں میں 50 رنز اوروکٹوں کے پیچھے 2 شکار )اور شان مسعود (گذشتہ پانچ ٹیسٹ میچوں میں 396 رنز)کو بی کیٹیگری میں ترقی دے دی گئی ہے۔ 

پی سی بی نے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے نوجوان کھلاڑیوں کے لیےنئی ایمرجنگ پلیئر کیٹیگری تشکیل دی ہے۔ جس میں ابتدائی طور پر باصلاحیت نوجوان بیٹسمین حیدر علی اور نوجوان فاسٹ بولرمحمد حسنین اور حارث رؤف کو شامل کیا گیا ہے ۔ ڈومیسٹک سیزن 2019-20 میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرکے قومی کرکٹ ٹیم میں جگہ بنانے یا بین الاقوامی کرکٹ کے دروازے پر دستک دینے والے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے پی سی بی ان کے ڈومیسٹک کنٹریکٹ میں آمدن کو بڑھانے پر غور کررہا ہے۔ وہاب ریاض اور محمد عامر سینٹرل کنٹریکٹ میں جگہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ٹیسٹ کرکٹ چھوڑنے کی سزا انہیں کنٹریکٹ نہ دے کر دی گئی۔ 

تاہم تینوں کھلاڑی بدستور قومی کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کے لیے دستیاب ہوں گے۔فہرست میں شامل امام الحق، سرفراز احمداور یاسر شاہ کی ایک ایک درجہ تنزلی ہوئی ہے۔مصباح کہتے ہیں کہ دو نوجوان فاسٹ بولروں نسیم شاہ اور محمد حسنین کو سینٹرل کنٹریکٹ میں جگہ دینے کے لئے محمد عامر اور وہاب ریاض کو سینٹرل کنٹریکٹ نہیں دیا گیا۔یہ سخت فیصلہ تھامیں نے ایک دن پہلے دونوں کو اس بارے میں آگاہ کردیا تھا۔عامر،وہاب ریاض،شعیب ملک ،محمد حفیظ اور کامران اکمل سمیت کو ئی بھی کھلاڑی پاکستان ٹیم میں جگہ بناسکتا ہے۔لیکن عثمان خان شنواری اور فخر زمان جیسے چلے ہوئے کارتوسوں پر کئی باصلاحیت کھلاڑیوں کو نظر انداز کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔

مصباح الحق نے کہا کہ سلیکٹرز نے محمد عامر، وہاب ریاض اور حسن علی کو سینٹرل کنٹریکٹ نہ دینے سے متعلق مشکل فیصلہ لیا تاہم حسن علی نے انجری کے سبب گذشتہ سیزن کے زیادہ تر حصے میں شرکت نہیں کی جبکہ محمدعامر اور وہاب ریاض کی جانب سے بھی محدود طرز کی کرکٹ پر توجہ دینے کے اعلان کے بعد یہ فیصلہ درست ہے۔ مصباح الحق نے کہا کہ محمد عامر اور وہاب ریاض سینئر اور تجربہ کار بولروںہیں اور وہ مستقبل میں بھی قومی کرکٹ ٹیم کے انتخاب کے لیے دستیاب ہوں گے، یہ دونوں کرکٹرز نوجوان پیس بیٹری کی رہنمائی بھی احسن انداز میں کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

مصباح الحق کہا کہ اس فہرست میں بیٹسمینوں اور بولروں کا ایک جامع پول بنایا گیا ہے جس سے ہمیں کھلاڑیوں کا ورک لوڈ مینج کرنے میں مدد ملے گی تاہم اس دوران سلیکٹرز ڈومیسٹک سیزن 2020-21 میں کھلاڑیوں کی کارکردگی کا بغور جائزہ لیتے رہیں گے اور اگر انہیں یہ محسوس ہو اکہ کسی کھلاڑی کو جلد از جلد قومی ٹی میں لانے کی ضرورت ہے تو وہ اس سےمتعلق فیصلہ کرنے میں دیر نہیں کریں گے۔پاکستان کرکٹ ٹیم کوآئندہ سیزن میں پاکستان کو آئرلینڈ کے خلاف 2 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچوں پر مشتمل سیریز (جولائی) ، انگلینڈ کے خلاف 3 ٹیسٹ اور 3 ٹی ٹونٹی (جولائی تا ستمبر)، جنوبی افریقا کے خلاف3ون ڈے اور 3 ٹی ٹونٹی میچز کی سیریز (اکتوبر)، زمباوے کے خلاف 3 ایک روزہ اور 3 ٹی ٹونٹی میچز پر مشتمل ہوم سیریز (نومبر)، نیوزی لینڈ کے خلاف 2 ٹیسٹ اور 3 ٹی ٹونٹی میچز کی سیریز (دسمبر)اور جنوبی افریقہ کے خلاف 2 ٹیسٹ اور 3 ٹی ٹونٹی پر مشتمل ہوم سیریز (جنوری 2021)، زمباوے کے خلاف 2ٹیسٹ اور 3 ٹی ٹونٹی میچز کی سیریز(اپریل 2021) میں کھیلنی ہے۔ ان دو طرفہ سیریز کے علاوہ پاکستان کو ایشیا کپ ٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ اور آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈکپ 2020 میں شرکت کرنا ہے۔

تمام سیریز مشکل ہیں ایک مصباح الحق نے جن جن کھلاڑیوں پر اعتماد کا اظہار کیا ہے انہیں اپنے آپ کو منوانے کے ساتھ ساتھ پاکستانی ٹیم کو بھی بہتر مقام پر پہنچانا ہوگا۔ٹی ٹوئینٹی میں27ماہ عالمی نمبر ایک رہنے کے بعد پاکستانی ٹیم چوتھے نمبر پر آگئی ہے۔ٹیسٹ اور ون ڈے کی کارکردگی میں بھی پاکستان کی کارکردگی اوسط درجے کی ہے۔مصباح الحق نے اپنی مرضی سے فیصلے کر لئے ہیں لیکن یہ فیصلے ٹیم کو کہاں لے کر جائیں گے اس کا جواب وقت دے گا۔