آپ آف لائن ہیں
جمعہ29؍محرم الحرام 1442ھ 18؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پچھلے دو روز مظلوم مسلمانوں کی محبت میں ہونے والی کانفرنسوں میں گزر گئے۔ اگرچہ یہ کانفرنسیں مظلوم فلسطینیوں کے لیے یومِ القدس کے حوالے سے تھیں مگر ان میں کشمیر، بھارت اور برما سمیت کئی علاقوں کا ذکر ہوا، اُمتِ مسلمہ کی بےبسی کی باتیں ہوئیں۔ پہلی کانفرنس کا انعقاد اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن علامہ افتخار حسین نقوی نے کیا۔ اس کانفرنس سے اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز، سابق وزیر میر باز کھیتران، اسلام آباد کے ڈپٹی میئر ذیشان علی نقوی سمیت عبداللہ گل اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ ثاقب اکبر اور اس خاکسار نے دونوں کانفرنسوں میں دل کی باتیں کیں۔ دوسری کانفرنس مجلسِ وحدت المسلمین نے منعقد کی۔ اس کانفرنس کی تیاری کے لیے اس جماعت کے مرکزی سیکرٹری سیاسیات اسد نقوی نے دن رات محنت کی۔ وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری نے حالات و واقعات کی روشنی میں اُمتِ مسلمہ کے لیے تین ٹیسٹ کیسوں کی بات کی۔ کانفرنس میں سینیٹ کے سابق چیئرمین سید نیئر حسین بخاری نے مسلمان دنیا کو بلاکوں میں تقسیم کرنے کی مخالت کی۔ (ن) لیگ کے سینیٹر جنرل (ر) عبدالقیوم نے عسکری زاویوں سے جائزہ لیا کہ مسلمان دنیا کو مسائل کیوں درپیش ہیں۔ مسلم لیگی رہنما صدیق الفاروق نے قرآن پاک کی آیات کا حوالہ دیا اور اُمتِ مسلمہ کی کمزوریوں کی نشاندہی کی۔ مجلسِ وحدت المسلمین کے سربراہ راجہ ناصر عباس جعفری نے مشرقِ وسطیٰ کی حقیقی تصویر پیش کی۔ انہوں نے حاضرین کو بتایا کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں کیوں ناکام ہوا؟ انہوں نے اپنے دوست شہید جنرل قاسم سلیمانی کو راستے سے ہٹانے کے اسباب بھی بتائے۔ راجہ ناصر عباس نے خاص طور پر یمن، فلسطین، شام، اردن، لبنان، لیبیا اور ایران عراق سمیت کچھ عرب ملکوں کا تذکرہ کیا۔ اس کانفرنس سے ممتاز عالم دین مفتی گلزار احمد نعیمی نے بھی خطاب کیا۔ اس کانفرنس میں رکھی گئی دو تصاویر مرکز نگاہ بنی رہیں۔ ان دونوں تصاویر کے پسِ منظر ہیں، ایک تصویر میں امام خمینی اور موجودہ ایرانی رہبر آیت اللہ خامنہ ای تھے تو دوسری تصویر میں جنرل قاسم سلیمانی اور ان کے ساتھ شہید ہونے والے عراقی کمانڈر ابو مہدی المہندس۔ یہ دونوں تصاویر یہ پیغام دے رہی تھیں کہ مظلوم فلسطینیوں کے لیے چالیس برس قبل امام خمینی نے جس یوم القدس منانے کا اعلان کیا تھا، موجودہ ایرانی رہبر اس پر قائم ہیں۔ اسی طرح عرب نوجوانوں کے ہیرو جنرل قاسم سلیمانی جس راستے پر شہید ہوئے، جنرل قاآنی بھی اسی مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

خواتین و حضرات! مقررین نے کشمیر اور فلسطین کے حوالے سے جہاں اُمتِ مسلمہ کو جگانے کی کوشش کی وہیں عالمی اداروں کے دہرے کردار کو بھی ہدفِ تنقید بنایا مگر میرے نزدیک کچھ سوالات ہیں جو میں نے شرکا سے بھی کئے۔ کیا مسلمانوں کی پستی کے ذمہ دار خود مسلمان نہیں ہیں؟ مسلمانوں پر فلسطین، شام، برما، پورے بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں جو ظلم ہو رہا ہے کیا کئی مسلمان ملک ظالمانہ قوتوں کا ساتھ نہیں دے رہے؟ کیا یہ درست نہیں ہے کہ اگر ہم تاریخ کو دیکھیں تو ہمیں کئی ظالمانہ کردار ملتے ہیں، ظلم کا ساتھ دینے والوں کے علاوہ ظلم کی وکالت کرنے والے بھی ملتے ہیں حالانکہ ہمارا مذہب ہمیں حکم دیتا ہے کہ مظلوم کی مدد کرو، ظالم کے بڑھتے ہوئے قدموں کو روکو، ظلم کے خلاف جہاد کرو، کیا یہ درست نہیں کہ اُمتِ مسلمہ کے اندر چودہ سو برس پہلے ظالم اور مظلوم پیدا ہو گئے تھے، کیا اس وقت لوگوں نے ظلم کا ساتھ نہیں دیا تھا، کیا اس وقت لوگ ظلم کے وکیل نہیں بنے تھے؟ کیا یہ بات درست نہیں کہ مسلمان رہنمائوں کو شہید کرنے والے اسی امت میں سے تھے۔ ایسے ماضی کو ذہن میں رکھ کر موجودہ حالات پر نگاہ کرنی چاہیے، کیا یہ بات درست نہیں کہ ارضِ فلسطین پر ایک ناجائز ریاست کا بن جانا مسلمانوں کی کمزوری ہے؟ کیا بھارت کا کشمیر پر غاصبانہ قبضہ اُمتِ مسلمہ کی کمزوری نہیں؟ کیا یہ درست نہیں کہ آج جب کوئی مسلمان مجاہد شہید ہوتا ہے تو ہم اگلے دن پوسٹر پکڑ کر احتجاج کرتے ہیں یا پھر شمعیں روشن کر دیتے ہیں۔ میرے خیال میں پوسٹر ہمیشہ کمزور لوگ اٹھاتے ہیں، طاقتوروں کے ہاتھوں میں پوسٹر نہیں تلوار ہوتی ہے۔ یاد رکھیے کہ فاتح کی خامیاں نہیں ہوتیں جبکہ مفتوح کی خوبیاں بھی خامیاں بن جاتی ہیں۔

کیا یہ بات درست نہیں کہ مسلمان ملکوں میں بسنے والے عام لوگوں کو تین جنگیں کرنا پڑ رہی ہیں۔ پہلی جنگ وہ اپنے ضمیر سے کرتے ہیں کہ انہوں نے ظالم کا ہاتھ کیوں نہ روکا؟ سرحدوں نے مسلمانوں کو قیدی بنائے رکھا، سچے مسلمان آپس کی لڑائیوں سے گریز کرتے ہیں مگر مسلمان، مسلمانوں سے لڑ رہے ہیں۔ مسلمان عوام کو ظالم کا ساتھ دینے والے اپنے حکمرانوں سے متعلق بھی سوچنا پڑتا ہے۔ انہیں یہ بھی غصہ آتا ہے کہ مسلمان ملک کیوں خاموش ہیں؟ کیا یہ درست نہیں کہ ہم نے ایک جسم والے سچ کو فراموش کردیا؟ کیا مسلمانوں کو بطورِ امت توبہ نہیں کرنی چاہئے کہ امت نے رسولؐ کے خاندان سے اچھا سلوک نہیں کیا تھا، کیا یہ درست نہیں کہ مسلمانوں کو بزدلی چھوڑ دینی چاہئے۔ بقول سلیم کوثر:

ستم کی رات کو جب دن بنانا پڑتا ہے

چراغِ جاں سرِ مقتل جلانا پڑتا ہے