آپ آف لائن ہیں
جمعہ18؍ذیقعد 1441ھ 10؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ریاستی، حکومتی، عوامی سطح پر تعلیم کبھی ہماری ترجیح نہیں رہی، جس کے نتائج بھی ہم بھگت رہے ہیںلیکن یہ رونا پھر کبھی رو لیں گے کیونکہ آج مجھے بختیار قصوری کی ایک تحریر کی ہائی لائٹس آپ کے ساتھ شیئر کرنا ہیں۔ قصوری صاحب لکھتے ہیں۔

’’17سال کی عمر کے بچوں کے اسکول کھول دینے چاہئیں کیونکہ اس ایج گروپ کے حوالہ سے کورونا وائرس کا رسک حقیقتاً اور عملاً صفر ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا شہر نیویارک ہے اور اس اتنے بڑے شہر میں ایک بھی ایسی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی جس میں کورونا کے شکار کی عمر 17 سال تک ہو سوائے ان کے جنہیں دل کے امراض یا ذیابیطس وغیرہ کا سامنا تھا۔

صرف 3ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں جن کے اسباب ’’غیرکرونائی ‘‘ تھے یعنی ان ہلاکتوں کا کورونا سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

 البتہ گزشتہ 3ہفتوں میں نیو یارک کے اندر بچوں میں جو ہلاکتیں ہوئیں تو دراصل ان کا سبب بھی اک RARE قسم کی بیماری تھا جسے KAWAJAKI کہتے ہیںاور اس کی وجہ سے انسانی انتڑیاں سوج جاتی ہیں اور یہ بھی قابلِ غور ہے کہ نیویارک کی میڈیکل کمیونٹی KAWAJAKI اور کورونا وائرس میںکسی قسم کا کوئی تعلق تلاش نہیں کرسکی۔

سویڈن میں بھی جہاں کورونا وائرس کی وجہ سے کبھی سکول بند نہیں ہوئے، 9 سے 19 سال کی عمر تک کے بچوں میں ایک ہلاکت بھی رپورٹ نہیں ہوئی البتہ 9 سال سے کم عمر کے ایک بچے کی ہلاکت سامنے آئی جس کے متعلق کوئی نہیں جانتا کہ اس بچے کو کوئی اور مرض تولاحق نہیں تھا۔

یہ بھی ہم سب جانتے ہیں کہ دنیا بھر میں کورونا بارے معلومات ابھی تک نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جدید میڈیکل سائنس بھی اس سے زیادہ کچھ نہیں کہتی کہ بالغوں کی نسبت بچے اس وائرس سے بہت کم متاثر ہوئے ہیں (نیویارک ٹائمز صفحہ 4 ،13 مئی 2020) سب سے اہم یہ کہ اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ کورونا وائرس سرے سے PANDEMIC ہی نہ ہو بلکہ اس کی بجائے ENDEMIC ہو جو ویکسین کی تیاری کے بعد بھی ملیریا وغیرہ کی طرح ایسے ہی موجود رہے جیسے ویکسین کے باوجود ملیریا بدستور موجود ہے۔

دوسری طرف یہ بحث ہی خاصی فضول ہے کہ انسانی صحت اور معیشت میں سے زیادہ ضروری اور اہم کیا ہے اور پاکستان میں شاپنگ مالز، مارکیٹیں اور پبلک ٹرانسپورٹ وغیرہ کھولنا زیادہ ضروری ہے یاسکولوں کا کھولنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ کامن سینس کی بات ہے کہ اگر شاپنگ مالز، بازار اور پبلک ٹرانسپورٹ وغیرہ پر بندش نہیں ہےتو اسکولوں کو بند رکھنے کی کیا منطق ہے؟ 

کیا یہ بات مضحکہ خیز اور عقلِ سلیم کے قطعاً الٹ نہیں کہ بالغوں یعنی والدین کو تو کورونا ’’سمیٹنے‘‘ اور پھر آگے ’’بانٹنے‘‘ کے لئے آزاد چھوڑدیاگیاہے جبکہ بچے جنہیں خطرہ ہی کوئی نہیں ان کے اسکول بند رکھے جارہے ہیں۔ کیا اس بات کا انتہائی قوی امکان نہیں کہ ’’بڑے‘‘ یہ خطرناک تحفہ بچوں تک لے جائیں گے؟ کیا شاپنگ مالز، بازاروں، ٹرینوں، ویگنوں، بسوں، رکشوں میں ٹھنسے ہوئے لوگوں کے بچے ان سے دور جزیروں پر بستے ہیں؟

یہ حقیقت بھی دھیان میں رہے کہ گھروں، محلوں، گلیوں میں مٹر گشت کرتے بچے کئی حوالوں سے کہیں زیادہ غیر محفوظ ہیں کیونکہ پرائیویٹ اسکولوں کا ڈسپلن اپنی جگہ حقیقت ہے تو دوسری طرف اس ایج گروپ کے لئے آن لائن ایجوکیشن بھی کوئی مناسب متبادل ہرگز نہیں ہے۔ 

علاوہ ازیں آئس لینڈ اور نیدر لینڈ کے ریسرچرز نے بھی ایک ایسے کیس کی نشان دہی نہیں کی جس میں بچے اس وائرس کو اپنے گھروںتک لے جانے میں کیریئر بنے ہوں، تو سمجھ نہیں آتی کہ سب کچھ یا تقریباً سب کچھ کھول کر اسکولوں کو بند رکھنے کے پیچھے کون سی دانش کارفرما ہے۔ 

خاص طور پر اگر اسکولوں میں REPRODUCTIVE فیکٹرایک فیصد یا اس سے بھی کم ہو۔ جرمنی کی مثال دیکھیں جہاں بچوں اور اساتذہ کے ٹیسٹوں کے بعد اسکول کھل گیا حالانکہ وہاں REPRODUCTIVE FACTOR، 1.13فیصد پایا گیاتھا۔لمز (LUMS) جیسے ادارہ کے ڈین آف ایجوکیشن طاہر اندرابی کا کہنا ہے کہ پنجاب کے 70000 پرائیویٹ اسکولوں میں جہاں اوسطاً 20اساتذہ پر مشتمل اسٹاف ہوتا ہے۔

کرائے کی عمارتوں سے اوپریٹ کر رہے ہیں اور کرایوں سے لے کر اسٹاف کی تنخواہوں تک پر سوالیہ نشان لگ رہے ہیں کیونکہ طالب علموں کی اکثریت فیسیں ادا نہیں کر رہی۔ 

سرکاری اسکولوں کا تو کب سے ستیاناس ہو چکا اور اب پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی بندش کا خطرہ بھی پیدا ہو رہا ہے۔ پنجاب میں 53000سرکاری اسکول ہیں یعنی تقریباً 1.4 ملین خاندان صرف پنجاب میں متاثر ہوسکتے ہیں۔ بقول طاہر اندرابی خواتین کی بہت بڑی تعداد پرائیویٹ اسکولوں میں خدمات سرانجام دے رہی ہے۔ 

اک عمومی تاثر کے بالکل برعکس حقیقت یہ ہے کہ ان اسکولوں کی فیسیں بھی عام آدمی کی پہنچ میںہیں مثلاً مضافات میں اوسطاً 550 روپے اور شہری علاقوں میں 800 روپے تک۔قصہ مختصر اگر حکومت کو واقعی بچوں کی تعلیم میں کوئی دلچسپی ہے تو شاپنگ مالز، بازاروں، پبلک ٹرانسپورٹ وغیرہ کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں کو بھی کھول دینا چاہیے۔ 

حکومت کو کورونا سے جنگ کے لئے ملکی و غیر ملکی ڈونرز سے خطیر رقمیں ملی ہیں تو حکومت کو چاہیے کہ اس رقم کا ایک حصہ اسکولوں میں ٹیسٹوں وغیرہ جیسی سہولتوں کے لئے بھی مختص کرے۔ 

سرکاری اسکول تو پہلے ہی رینگ اور سسک رہے ہیں اور اگر لاک ڈائون کے نتیجہ میں پرائیویٹ اسکولوں کا بھی وہی حشر ہوگیا تو اک نیا بحران (بیروزگاری سمیت) بھی جنم لے سکتا ہے۔ 

حکومت کے لئے ایک اور آپشن یہ بھی ہے کہ وہ پرائیویٹ اسکولوں پر پڑے کرایوں اور تنخواہوں کے بوجھ کو بانٹنے کےلئے بھی قدم بڑھائے تاکہ صورتحال کو بد سے بدتر ہونے سے پہلے سنبھالا جاسکے کیونکہ وقت پر لگایا جانے والا ایک ٹانکا بعد میں لگائے جانے والے کئی ٹانکوں سے بچا لیتا ہے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998)