آپ آف لائن ہیں
پیر21؍ذیقعد 1441ھ 13؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

میرے ایک جاگیردار دوست ہیں جو بہت بڑے گدی نشین بھی ہیں اور اپنے بارے میں ان کی بہت سوچی سمجھی رائے یہ ہے کہ وہ بہت محنتی ہیں۔ ان کی روز مرہ کی مصروفیات یہ ہوتی ہیں، دوپہر کو ایک بجے سو کر اٹھتے ہیں، بستر پر لیٹے لیٹے چار کپ چائے پیتے ہیں، اس کے بعد اخبارات کا پلندہ اور ایک پیکٹ سگریٹ ہاتھ میں تھامے غسل خانے میں داخل ہوتے ہیں، تقریباً ڈھائی بجے غسل خانے سے برآمد ہوتے ہیں، اب بظاہر یہ لنچ کا ٹائم ہوتا ہے لیکن وہ ناشتہ فرماتے ہیں۔ ناشتے کے بعد گاڑی میں بیٹھتے ہیں اور اپنے دفتر چلے جاتے ہیں جہاں ان کا عملہ واپس گھروں کو جانے کی تیاری میں مشغول ہوتا ہے۔ منیجر کو اپنے کمرے میں بلاتے ہیں اور اس سے دن بھر کی کارگزاری کی بریفنگ لیتے ہیں، اس کے بعد منیجر چھٹی کر جاتا ہے اور صاحب ٹیلی فون کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں، اس کے بعد رات گئے تک دفتر میں دوستوں کے ساتھ نائو نوش کی محفل سجتی ہے جہاں ’’بقائمی ہوش و حواس‘‘ لمبے لمبے سیاسی تجزیے ہوتے ہیں۔ اپنی جاگیر اور بہت سے دیگر پھیلے ہوئے کاروبار کے حوالے سے مستقبل کی پلاننگ بھی ہوتی ہے، رات کو تقریباً بارہ بجے ’’لنچ‘‘ بھی یہیں کیا جاتا ہے اور موصوف صبح چار بجے گھر پہنچ کر ’’ڈنر‘‘ کرتے ہیں۔ اگلے روز دوپہر کو ایک بجے لمبی انگڑائی لے کر بیدار ہوتے ہیں تو ان کے جسم کا ایک ایک حصہ دکھ رہا ہوتا ہے جس کی وجہ وہ اپنی غیر معمولی محنت بتاتے ہیں۔ اس محنت کے حوالے سے ایک روز میری ان سے خاصی طویل گفتگو ہوئی جس کی تلخیص درج ذیل ہے۔

’’تمہارے نزدیک محنت کی تعریف کیا ہے؟‘‘

’’میرے خیال میں محنت ہر اس عمل کو کہتے ہیں جس کا پھل انسان کو ملے‘‘۔

’’اور یہ جو بیچارے مزدور سارا دن کڑکتی دوپہر میں تمہارے لئے کام کرتے ہیں انہیں اس محنت کا جو پھل ملتا ہے وہ پھل زیادہ سے زیادہ گنڈیریاں یا شہتوت ہی ہوتے ہوں گے!‘‘’’اسی لئے تو میں کہتا ہوں کہ یہ ہڈحرام لوگ ہیں، یہ محنت کرنا ہی نہیں چاہتے، انہیں اس کا پھل کیسے ملے گا؟‘‘’’تم محنت کسے کہتے ہو؟‘‘

’’محنت وہ ہے جو میں کرتا ہوں‘‘۔’’وہ کیسے؟‘‘

’’میں روزانہ نو دس گھنٹے سوتا ہوں، تمہارے خیال میں یہ کوئی آسان کام ہے؟ پسلیاں درد کرنے لگتی ہیں!‘‘’’یہ تو تم ٹھیک کہتے ہو ، اس کے علاوہ؟‘‘

’’اس کے علاوہ رات گئے تک دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر ملکی مسائل پر غور کرنا اور ان کا حل تلاش کرنا، اس سے زیادہ محنت کا کوئی کام ہے؟‘‘

’’نہیں، واقعی نہیں ہے... اتنی محنت کے بعد تو تم کوئی مزید محنت کرنے کے قابل رہتے ہی نہیں ہو گے‘‘۔

’’ہونا تو یہی چاہئے لیکن چونکہ میں فارغ نہیں بیٹھ سکتا، اس لئے گرمیوں میں یورپ وغیرہ چلا جاتا ہوں اور پھر وہاں سے امریکہ وغیرہ جانا پڑتا ہے۔ تمہیں تو پتا ہی ہے آٹھ آٹھ دس دس گھنٹے کی مسلسل فلائٹس اور پھر جیٹ لیگنگ، یہ سب کچھ تبھی برداشت ہو سکتا ہے اگر انسان شروع ہی سے محنت کا عادی ہو!‘‘

’’تمہاری اس بات میں واقعی کوئی شبہ نہیں۔ میں تو تم جیسے بڑے زمینداروں، صنعتکاروں اور بزنس مینوں کی یہ زندگی دیکھتا ہوں تو مجھے تم لوگوں پر رحم آتا ہے تم تو حیوانوں سے بدتر زندگی بسر کر رہے ہو۔ اتنی محنت تو وہ بھی نہیں کرتے‘‘۔

’’اگر تم اس وقت میری تعریف نہ کر رہے ہوتے تو میں تم سے تمہارے آخری جملے پر شدید احتجاج کرتا۔ ویسے یہ تعریف تو تمہارا حسن ظن ہے ورنہ میں اس قابل کہاں ہوں اور ہاں اپنے دانشور دوستوں کو بتائو کہ ہم غریب ’’کاشتکاروں‘‘ کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا نہ کیا کریں، ہم سے زیادہ محنتی بھلا کون ہوگا لیکن ہمارے خلاف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ محنت دوسرے کرتے ہیں اور اس کا پھل ہم کھاتے ہیں۔ ان سے پوچھو کہ یہ بات اگر صحیح بھی ہے تو اصل چیز تو پھل کھانا ہے نا، اور وہ ہم کھا رہے ہیں اور بغیر محنت کے پھل کھانے کیلئے جتنی محنت کرنا پڑتی ہے اس کا اندازہ تم جیسے ہڈ حراموں کو ہو ہی نہیں سکتا‘‘۔

میں اس کی اس بات پر کچھ دیر کیلئے خاموش رہا، پھر میں نے کہا ’’تم اپنی صرف محنت ہی اتنی دیر سے گنوا رہے ہو، تم نے اپنی سب سے بڑی خدمت کا تو ذکر ہی نہیں کیا وہ یہ کہ تم صرف ایک بڑے جاگیردار ہی نہیں، بہت بڑے گدی نشین بھی تو ہو، تمہارے ان بزرگوں جنہوں نے ہندوستان میں اسلام کی روشنی پھیلائی، تمہارے بزرگوں کے سالانہ عرس پر لاکھوں لوگ مختلف شہروں سے جمع ہوتے ہیں اور تمہاری درگاہ پر حاضری دیتے ہیں!‘‘

’دراصل تم مجھے صحیح طرح جانتے نہیں، جس کی وجہ سے تم نے یہ سوال کیا، بات یہ ہے کہ ﷲ تعالیٰ کا حکم ہے کہ اپنی نیکیوں اور دوسروں کے عیبوں پر پردہ ڈالو، مگر اب تم نے بات چھیڑ ہی دی ہے تو پھر سن لو، یہ جو غریب لوگ میرے پاس آتے ہیں ان میں سے کسی کا بچہ بیمار ہوتا ہے، کوئی بیروزگار ہوتا ہے، کسی کو پولیس تنگ کر رہی ہوتی ہے، غرضیکہ ہر طرح کے مسئلے کے حل کے لئے یہ میرے پاس چلے آتے ہیں‘‘۔

’’تو پھر کیا تم بیمار بچے کی دوا کیلئے پیسے دیتے ہو، بیروزگاروں کے روزگار کا انتظام کرتے ہو، لوگوں کے رکے ہوئے جائز کام کرواتے ہو، کیا کرتے ہو؟‘‘

’’نہیں، میں ان میں سے کچھ بھی نہیں کرتا، صرف ان کیلئے دعا کرتا ہوں اور اس دعا کی میں کوئی فیس نہیں لیتا۔ یہ فی سبیل اللہ ہوتی ہے مگر یہ غریب لوگ بہت غیرت مند ہوتے ہیں، یہ کسی کا احسان لینا گوارا نہیں کرتے، چنانچہ جاتے ہوئے میرے قدموں میں نذرانے کی رقم چھوڑ جاتے ہیں۔

’’اور تم وہ لے لیتے ہو؟‘‘’’ہاں کیونکہ اگر میں وہ رقم نہ لوں تو ان کی تسلی ہی نہیں ہوتی، وہ سمجھتے ہیں کہ اس صورت میں دعا قبول نہیں ہو گی!‘‘

اس گفتگو کے بعد مجھ میں مزید کوئی بات کرنے کا ’’حوصلہ‘‘ نہ رہا، تاہم اس کے لئے میرے اندر سے ایک آواز سنائی دی، ’’دُر فٹے منہ تیرا بےغیرتا!‘‘