آپ آف لائن ہیں
منگل22؍ذیقعد 1441ھ 14؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اللہ برصغیر کو جنگ سے محفوظ رکھے، خاص طور پر ایٹمی جنگ سے۔ بھارت کا جنگی جنون خوفناک ہو چکا ہے مگر اس سے زیادہ حیرت انگیز خبر یہ ہے کہ وفاقی کابینہ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ 1985ء سے تمام شوگر ملز کا آڈٹ کیا جائے گا اور بدعنوانی کے کیسز نیب اور ایف آئی اے کو بھیجے جائیں گے۔

بے یقینی کے عالم میں بار بار یہی خیال آتا ہے کہ کہیں بلی کے گلے میں گھنٹی تو نہیں باندھی جا رہی۔ موجودہ حکومت نے کئی ایسے فیصلے کئے جن کا پہلے تصور نہیں کیا جا سکتا تھا۔ میں تو غلام سرور خان کے اس بیان پر بھی حیران تھا کہ ’’جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کےخلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے بلکہ جن جن کے نام شوگر کمیشن رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، سب کے خلاف‘‘۔ مبینہ طور پر خسرو بختیارکے بھائی کے گروپ کے متعلق تفصیلی چھان بین کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

جس نے سات برسوں میں 4شوگر ملیں، 5پاور جنریشن کمپنیاں، 3ٹریڈنگ کمپنیاں، ایک غیر ملکی کمپنی، ایک ایتھانول کا مینو فیکچرنگ یونٹ اور 2078کنال زرعی زمین جیسے اثاثے بنائے ہیں۔ جہانگیر ترین کے خلاف بھی کارروائی کا عندیہ دیا گیا ہے مگر جہانگیر ترین کے خلاف کام کرنے والا حکومتی گروہ اُن سے خوف زدہ بھی ہے۔

وہ گروہ عمران خان کو مشورے دے رہا تھا کہ ان تمام افراد کو بڑے بڑے عہدوں سے فارغ کر دیا جائے جو جہانگیر ترین کے بہت زیادہ قریبی ہیں۔ یعنی پھر اکھاڑ پچھاڑ شروع کی جائے۔ نئے وزیروں کے لئے اچھے لوگوں کی فائلیں تو منگوا لی گئی ہیں۔

وفاق میں بھی کچھ تبدیلیاں متوقع ہیں مگر پہلے پنجاب۔ کئی جانے والے وزیروں کے نام تو وائرل بھی کئے جا چکے ہیں۔ حکومتی حلقے اس اکھاڑ پچھاڑ کا سبب وزرا کی بری کارکردگی کو قرار دے رہے ہیں مگر میرے خیال میں پچاسی سے آڈٹ کے حکم نامہ کے بعد فوری ایکشن ممکن نہیں۔ پچاسی سے اب تک اسی نوے ملوں کے آڈٹ کے لئے کتنا وقت درکار ہے یہ تو کوئی آڈٹ آفیسر ہی بتا سکتا ہے۔

پرانی روایت کے مطابق تو یہ دورانیہ نسلوں پر پھیل سکتا ہے۔ کچھ مخالفین کہہ رہے ہیں کہ یہ فیصلہ معاملات کو طوالت دینے کے لئے کیا گیا ہے کہ فوری کسی شوگر مل کے مالک کے خلاف کارروائی نہ شروع ہو سکے۔ اس امکان سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ نیب والے حکومت یا اُس کے اتحادیوں میں سے کسی اہم شخصیت کو کسی وقت بھی گرفتار کر سکتے ہیں۔شہباز شریف کی گرفتاری سے پہلے ضمانت بھی بہت کچھ کہہ رہی ہے۔

شہباز شریف یہ بات کئی لوگوں کو کہہ چکے ہیں کہ میری بات چیت چل رہی تھی۔ کابینہ کے نام فائنل ہو رہے تھے کہ اچانک معاملات راستے میں رک گئے۔ کہتے ہیں وزیراعلیٰ سندھ کی نیب میں پیشی کے بھی کئی معاملات طے شدہ تھے۔ نیب نے ستر کے قریب کیسز کی فائلوں کو پہیے لگا دیے ہیں یعنی نیب کی حوالات کے تمام کمرے پھر سے آباد ہونے والے ہیں۔

بیورو کریسی میں بھی تبدیلیوں کا شور ہے۔ کچھ ڈی سی اوز، کچھ سیکریٹریز کے بدلنے کی افواہیں گرم ہیں۔ نون لیگ کا فارورڈ گروپ وجود میں آ چکا ہے۔ کسی بھی لمحے پریس کانفرنس ہو سکتی ہے۔ یقیناً ان کے ساتھ بھی وعدے سعید کئے گئے ہوں گے۔ اس گروپ میں بنیادی طور تو وہی ہیں جو کئی ماہ پہلے عمران خان سے ملے تھے بہرحال اطلاعات یہی ہیں کہ ان کی تعداد پچیس سے بڑھ چکی ہے۔

پی ٹی آئی کی حکومت کے لئے فارورڈ گروپ لائف لائن سے کم نہیں۔ حکومت کو بلیک میل کرنے والی سیاسی پارٹیوں کی حیثیت ختم ہو جائے گی۔ خاص طور پر قاف لیگ کا بہت نقصان ہوگا۔ ویسے بھی اب چوہدری پرویز الٰہی کے پاس آ پشنز کم رہ گئے ہیں۔ موجودہ حکومت کو ملنے والی ایک اطلاع کے مطابق چوہدری صاحبان بھی اختلافات کے دور میں داخل ہو گئے ہیں۔

مخالفین مشہور کر رہے ہیں کہ چچا زاد بھائیوں کے درمیان کئی مسائل بھی چل رہے ہیں۔ اس وقت منظر نامہ پر واضح ترین انداز میں دکھائی دینے والے پرویز الٰہی ہیں اور بعض رپورٹس کے مطابق مستقبل میں چوہدری گروپ یعنی قاف لیگ کی باگ ڈور مونس الٰہی کے پاس ہوسکتی ہے۔

دوسری طرف افواہ ہے کہ پرویز الٰہی کے کزن اسے اپنا حق سمجھتے ہیں۔چوہدری ظہور الٰہی ان کے دادا تھے ۔ پی ٹی آئی کے حلقے یہ بھی کہتے ہیں کہ کسی زمانے میں چوہدری پرویز الٰہی قاف لیگ کو پی ٹی آئی میں ضم کرنے کیلئے تیار تھے۔ان کے خیال میں اس طرح وہ بڑی آسانی سے وزیر اعلیٰ پنجاب بن سکتے تھے مگر خاندان میں اس پر اتفاق نہ ہوسکا ۔افواہ ہے کہ آج کل پھر اس موضوع پر خاندان میں بحث مباحثہ زوروں پر ہے۔

نیب نے اگر چوہدری برادران کے خاندان کے کسی فرد کو گرفتار کیا تو اس کا مطلب قاف لیگ اور پی ٹی آئی میں کھلم کھلا جنگ ہو گی۔اتحاد ٹوٹ جائے گا ۔جس کے قوی امکانات ہیں۔ الیکشن کمیشن نے پلی بارگین کرنے والوں کو عوامی عہدے کےلئے نا اہل قرار دیا ہے یعنی نئے نا اہلوں کی ایک لمبی لسٹ سامنے آنے والی ہے ۔

یہ تو ہے سیاسی فضا مگر حکومت اس وقت اس طرف متوجہ نہیں بلکہ اس سے گریزاں ہے۔ حکومت کے سامنے تین بڑے مسئلے سلگ رہے ہیں۔ پاک بھارت جنگ کے امکانات، کورونا کی تباہ کاریاں، اسلام آباد جیسے شہر میں نو مقامات کو سیل کر دیا گیا ہے اور پھر ٹڈیوں کا میلوں پر پھیلا ہوا لشکرِ جرار، جن کے پروں کی سنسناہٹ سے قحط سالی پرورش پاتی ہے۔ تینوں معاملات میں فوج براہ راست معاونت کر رہی ہے جبکہ اسے اس وقت زیادہ توجہ سرحد پر مرکوز رکھنے کی ضرورت ہے۔

اطلاعات یہی ہیں کہ بھارت چین سے مذاکرات کرنا چاہتا ہے مگر پاکستان کے ساتھ جنگ۔ دونوں ممالک اس وقت جنگ کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔ حالانکہ اس وقت دونوں کے لئے جنگ سے زیادہ تباہ کن چیز اور کوئی نہیں۔

لگتا ہے نریندر مودی کی دماغی حالت بہتر نہیں کہ ایسی صورتحال میں جب دنیا کورونا سے جنگ ہارتی چلی جا رہی ہے، بھارت پاکستان جیسی ایٹمی طاقت کے ساتھ جنگ کے لئے پر تول رہا ہے۔