آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آج پورے 3ماہ ہو چکے ہیں، ہم کینیڈا میں رُکے ہو ئے ہیں۔ با ضابطہ کوئی ایئر لائن پاکستان کے ایئر پورٹ بند ہو نے کی وجہ سے آجا نہیں رہی اور ہم کورونا کی ڈرائونی خبروں سے بھی بہت مضطرب ہیں۔ ان 3ماہ میں کینیڈا اور امریکہ میں بہت اتار چڑھائو دیکھنے کو ملے مگر ایک بات میری سمجھ سے بالا تر ہے کہ امریکہ میں بھی یہی لاک ڈائون، شٹر ڈائون رہا۔ 33کروڑ کی آبادی والے ملک میں ان3ماہ میں11لاکھ افراد کورونا وائرس کا شکار ہوئے، 8لاکھ سے زیادہ صحت یاب ہوئے، 1لاکھ 15ہزار اموات ہوچکی ہیں۔ 52ریاستوں میں کوئی panic نہیں ہوا، حکومت نے کافی امدادی کام بھی کئے۔ صدر ٹرمپ نے کئی غیر ضروری بیانات ہمارے فواد چوہدری صاحب کی مانند بھی دیے۔ کئی غلط دوائیاں بھی متعارف کرائی گئیں۔ غیر ضروری قانونی ہدایت بھی دیں، اس دوران 1سیاہ فام شخص پولیس کے ہاتھوں مارا بھی گیا جس کا ردعمل میں پورے امریکہ میںہوا، نہ صرف سیاہ فام بلکہ سب پڑ ھے لکھے افراد کروڑوں کی تعداد میں اکٹھے ہوئے، جلوس کئی کئی دن نکلے۔ جس سے مزید ایک لاکھ افراد کی ہلاکت کا عندیہ طبی ماہرین دے چکے ہیں، اس کے باوجود آج تمام کاروبار فیکٹریاں، اسکول، کالج، ہوٹل، ریسٹورنٹ کھول دیے گئے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جو اقتصادی نقصانات ہم اٹھا سکتے تھے وہ ہم نے اٹھا لئے، اب امریکہ مزید لاک ڈائون کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ ہم معیشت سے نہیں لڑ سکتے ورنہ تباہ ہو جائیں گے ۔ اس لئے تمام ایئر لائنز کی پروازوں پر سے پابندیاں بھی اٹھا لی ہیں، ان سے کہا گیا ہے کہ وہ خود مسافروں کی حفاظت کے اقدامات کریں خود SOPsبنائیں۔ گنجائش کے مطابق مسافروں میں فاصلہ رکھیں، ریسٹورنٹس بھی 50فیصد جگہ فاصلوں کے لئے چھوڑیں، اسی طرح تقریبات میں بھی 50فیصد جگہ چھوڑیں، ماسک کا استعمال ضرور کریں اور اس طرح تمام شہری خود کورونا پھیلنے کو روکیں۔ صدر ٹرمپ نے نیو یارک کے گورنر کو کہا کہ لاک ڈائون کھول دو اس نے نہیں کھولا جب سیاہ فام کا قتل ہوا تو نیویارک میں مین ہٹن کے تمام پلازےاس فرسٹیشن میں لوٹ لئےگئے مجبوراً گورنر کو لاک ڈائون ختم کرنا پڑا۔

اسی طرح کینیڈا حکومت نےبھی 3ماہ میں لاک ڈائون آہستہ آہستہ ختم کرنا شروع کر دیا ہے، ہفتہ وار وقفہ وقفہ سے ضروری ادارے کھولے جا رہے ہیں حالانکہ یہاں بھی روزانہ مریضوں اور اموات میں کوئی خاص کمی نہیں آئی ۔ ساڑھے3کروڑ کی آبادی میں 1لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں، 60ہزار افراد صحت یاب ہو کر گھروںکو جا چکے ہیں، 8ہزار افراد سخت احتیا ط کے باوجود موت کے منہ میں جا چکے ۔ اگلے 15دن میں امریکہ کی سرحدیں اور تعلیمی ادارے کھول دیے جائیں گے۔ ایک دن کا بھی تعلیمی ناغہ نہیں ہو نے دیا، حکومت اور تعلیمی اداروں نے مل کر آن لائن پڑھایااور ساتھ میں 3ماہ گھر بیٹھنے والوں کو تنخواہیں بھی دیں۔ اداروں اور فیکٹری والوں پر بوجھ نہیں بننے دیا، جو لو گ کرایہ نہیں دے سکتے تھے حکومت نے بے دخل نہیں ہونے دیا ۔ یہی حالات UKمیں ہیں،باقی یورپی ممالک کا بھی یہی حال ہے جہاں اٹلی خطرناک حد تک متا ثر ہے اس کی آبادی بھی 6کروڑ سے زیادہ ہے ڈھائی لاکھ افراد متاثر ہوئے 35ہزاراموات ہوئیں، پونے 2لاکھ صحت یاب بھی ہو گئے وہاں بھی لاک ڈائون میں کافی نرمی آچکی ہے۔ کاروبار سب کھل چکا ہے۔اس کے بر عکس الحمدللہ ہمارے ملک کی آبادی 22کروڑ ہے 3ماہ لاک ڈائون متاثر کن نہیں تھا، اس کی وجہ وفاق اور صوبے آپس میں دست و گریبان تھے۔ مرکز نے کچھ سابقہ بینظیر پروگرام میں ایک مرتبہ 12000روپے کی امداد دی جو 90لاکھ متاثرین غریب افرادتھے، باقی 21کروڑ منہ دیکھتے رہے۔ ان میں 75فیصد افراد واقعی غربت اور بیروز گاری کا شکار تھے۔ مریضوں کے لئے نہ دوائیں، اسپتال مفت نہ علاج کا بندوبست، عوام خود ٹیسٹ کروارہے۔ کھربوں امداد کا اعلان کہاں گیا کسی کو نہیں معلوم۔ اللہ کا کرم تھا 1لاکھ 20ہزار افراد متاثر ہوئے، ڈھائی ہزار اموات ہوئیں۔ اگر امیر ترین ممالک لاک ڈائون ختم کرنے پر مجبور ہوگئے تو پاکستان جیسے غریب ملک میں امداد جمع کر کے ملک چلانے والے حکمرانوں سے کیا توقع کی جا سکتی ہے اگر لاک ڈائون میں زیادہ سختیاںکی گئیں تو عوام کا لاوا پھٹ پڑے گا۔ ٹیکس ٹیکس کی رٹ لگانے والے بھول رہے ہیں ان 3ماہ میں اچھے اچھوں کا پسینہ نکل چکا ہے۔ حکومت کی لاپروائیوں سے ایکسپورٹ آرڈر نہ جا سکے، فیکٹریاں زبر دستی بند کروا کر معیشت کا بھٹہ بٹھا دیا گیا، ہر ہر معاملہ میں حکومتی آرڈینس نکال کر قرضوں میں جکڑا جا رہا ہے، ہر چیز مہنگی اور نا پید کی جا رہی ہے۔ تعلیمی ادارے بند ہیں، اساتذہ بیروز گار ہو رہے ہیں، تعلیمی سال ضا ئع ہو رہا ہے، کسی کو خیا ل نہیں ہے۔ کب تک قوم کو جاہل رکھا جائے گا ؟ خدارا! عدلیہ اس مسئلہ کابھی حل نکالے۔ یاد رہے اگر ہم نے امریکہ، یورپ اور دیگر ممالک کی طرح لاک ڈائون ختم نہیں کیا اور کورونا کی احتیاطی تدابیر پر خود عمل نہیں کیا تو ہم بھی سوڈان اور افریقی ممالک کی صفوں میں گنے جائیں گے اور آئی ایم ایف 1سال بعد ہی اپنی آنکھیں پھیر لے گا پھر ہمارے پاس کیا رہ جائے گا۔ دھونس، دھاندلیوں سے اب مسئلہ حل نہیں ہوتے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ دیگر متعلقہ اداروں کی ایسو سی ایشن سے مل کر SOPsطے کرکےلاک ڈائون ختم کرے۔ معیشت سے کورونا کو شکست دیں نہ کہ کورونا سے معیشت کو تباہ کریں۔