آپ آف لائن ہیں
بدھ3؍ربیع الاوّل 1442ھ21؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

انگریزی ناولوں پر بنائی گئیں پاکستانی فلمیں!!

برصغیر پاک و ہند کے فلم اور ڈراما کریٹرز کی تخلیقات میں ان فنون کی ابتدا سے ہی انگریزی ادب کے اثرات کا پرتو نظر آتا رہا، کیوں کہ مغربی ادب متاثر کن، جان دار اور پُرکشش تھا، سو اس سے اس خطے کے تخلیق کاروں کو انسپائرڈ ہونا ایک فطری سی بات تھی۔ اسی لیے اس خطے کی فلموں اور ڈراموں کی تشکیل و تماثیل میں ویسٹرن کہانیوں سے ہر عہد میں استفادہ کیا جاتا رہا۔ پاکستانی فلم میکرز اور اسکرپٹ رائٹرز نے پچاس کی دہائی میں انگلش ناولز کو فلم کے قالب میں ڈھالنے کا آغاز کیا، تو سب سے پہلے 1956ء کی فلم ’’انوکھی‘‘ کی کہانی کے لیے انگریزی ناول ’’پروگریسیو‘‘ کا انتخاب کیا، جس پر ہالی وڈ میں ’’بفیلو سینوریٹا‘‘ نامی فلم بنائی جاچکی تھی۔ 

ہدایت کار شاہ نواز کی ’’انوکھی‘‘ کی کاسٹ میں شیلارامانی، شاد، نیر سلطانہ، ایاز، لہری اور دلجیت مرزا شامل تھے۔ فلم کا اسکرپٹ مسعود الرحمن اور ابراہیم جلیس نے مل کر تحریر کیا تھا ،جب کہ موسیقی قمربرنی اور حسن لطیف نے مرتب کی تھی۔ میوزک خاصا جان دار اور ہٹ تھا، لیکن یہ فلم اسکرپٹ اور ڈائریکشن کے اعتبار سے فلم بینوں کو قطعی متاثر نہ کرسکی اور ناکام ہوگئی۔

1960ء میں ہدایت کار ایم حاذق نے ’’اسٹریٹ 77‘‘ نامی فلم کے لیے ایف ایل جی گرین کے انگلش ناول اوڈ مین آئوٹ odd man out کا انتخاب کیا۔ ناول کو فلمی اسکرپٹ کے قالب میں سلیم تابانی اور حزیں قادری نے ڈھالا۔ ’’اسٹریٹ 77‘‘ ایک باغی نوجوان کی کہانی ہے، جو پارٹی فنڈنگ کے لیے ایک ڈکیتی میں حصہ لیتا ہے پھر بازو پر پولیس کی گولی لگنے کے بعد زخمی حالت میں مارا مارا پھرتا ہے۔ یہ کردار حبیب نے نہایت زبردست اور متاثر کن انداز میں نبھایا۔ فلم کی ہیروئن مسرت نذیر تھیں۔ ناقدین نے اس فلم کو سراہا، لیکن باکس آفس پر متاثر کن نتائج نہ دے سکی۔ ’’اوڈ مین آؤٹ‘‘ ناول پر اسی ٹائٹل سے انگلش فلم بھی بن چکی تھی، جسے ’’کارل ریڈ‘‘ نے ڈائریکٹ کیا تھا اور اس انگریزی فلم نے سال کی بہترین فلم کا ایوارڈ بھی جیتا تھا۔ 

ہدایت کار لقمان نے مایہ ناز روسی ناول نگار ’’فیوڈور دوستو بونسکی‘‘ کے ناول ’’کرائم این پنشمنٹ‘‘ کا انتخاب کیا، جس کی قسط وار اشاعت 1866ء میں ایک میگزین میں ہوئی، بعد ازاں یہ مکمل ناول کی صورت ایک جلد میں شائع ہوا۔ ناول کا مرکزی خیال کچلے ہوئے پسماندہ طبقے کی زندگی پر محیط ہے۔ اس کہانی کو فلم ’’فرشتہ‘‘ کے قالب میں ڈھال کر لقمان نے پیش کیا۔ فلم کی ہیروئن ’’یاسمین‘‘ نے غریب فیملی سے تعلق رکھنے والی ایک ایسی لڑکی کا کردار اد کیا کہ جو گھر کا افلاس دور کرنے کے لیے ماں اور باپ کی بھوک مٹھانے کے لیے بیمار چھوٹی بہن کے علاج کے لیے جسم فروشی پر مجبور ہوجاتی ہے۔ اعجاز، علائو الدین اور طالش کی کردار نگاری بھی عمدہ تھی، رشید عطرے کا میوزک گو کہ معیاری تھا، مگر ان کا مرتب کردہ صرف ایک گیت ’’دل کی دھڑکن تیری آواز ہوئی جاتی ہے‘‘ اپنی میلوڈی، شاعری اور کمپوزیشن کے تناظر میں فلم فرشتہ کی شناخت ٹھہرا… لیکن افسوس کہ یہ اچھی کاوش باکس آفس پر عوامی توجہ سےمحروم رہی، یہ 1961ء کی ریلیز تھی۔

1962ء میں صحافی فلم ساز حمید اختر (صبا پرویز کے والد) مرحوم نے آسٹریلین ناول ’’دی پاور وتھ آئوٹ گلوری‘‘ کا انتخاب کرکے اسے ’’سکھ کا سپنا‘‘ کے قالب میں ڈھالا۔ نواز اور نصیر انور نے مل کر اس آسٹریلین ناول کو فلمی اسکرپٹ کی شکل دی۔ فلم کے نغمات عظیم شاعر فیض احمد فیض نے تخلیق کیے، جن کی موسیقی منظور اصغر نے مرتب کی۔ فلم کی کاسٹ میں لیلی، یوسف خان، علائوالدین، آغا طالش اور ترانہ پر مشتمل تھی۔ مسعود پرویز فلم کے ڈائریکٹر تھے۔ اس فلم کی ون لائن یہ تھی کہ ’’اس دنیا میں ہر انسان پیسے کے حصول کے لیے دیوانہ وار دوڑ رہا ہے‘‘ یہ فلم باکس آفس پر ڈیڈ فلاپ ثابت ہوئی۔

1965ء میں ڈھاکہ کے بریلنٹ فلم میکرنے رائیڈرھیگرڈ کے ناول (SHE) کو فلم’’ساگر‘‘ کے قالب میں ڈھالا۔ شبنم، عظیم اور ترانہ اس کے مرکزی کردار تھے۔ اس فلم میں کرخت خدوخال اور طویل قامت کی حامل فن کارہ ’’ترانہ‘‘ نے جنگلی قبیلے کی ’’رانی‘‘ کا منفی کردار ادا کیا۔ ناقدین نے شبنم کے مقابلے میں معیاری اور متاثر کن قرار دیا۔ ساگر بھی ناکامی سے دوچار ہوئی۔

1967ء میں فلم ساز عبدالباقی نے آئرش ناول نگار برام اسٹوکر کے ناول ’’کائونٹ ڈریکولا‘‘ کو اپنی فلم ’’زندہ لاش‘‘ کے کیے منتخب کیا۔ برام اسٹوکر نے یہ ناول 1897ء میں لکھا۔ وہی ’’ڈریکولا‘‘ کیریکٹر کے اصل خالق تھے۔ہالی وڈ میں اس ناول پر 1931ء میں ڈئریکٹر ٹوڈ برائنگ نے ’’ڈریکولا‘‘ کے ٹائٹل کے تحت پہلی بار طبع آزمائی کی، جس میں ڈریکولا کا رول ’’بیلالوگوسی‘‘ نامی اداکار نے پلے کیا، پھر مختلف ادوار میں برام اسٹوکر کے تخلیق کردہ اس کردار اور اس سے جڑے مرکزی خیال کو لےکر ہالی وڈ میں51 کے قریب ہارر فلمیں بنائی گئیں۔ پاکستان میں برام اسٹوکر کے ناول کا فلمی روپ ’’زندہ لاش‘‘ ایک دل چسپ تجربہ تھا ، ہدایت کار خواجہ سرفراز نے بڑی محنت ور جانفشانی سے یہ فلم تخلیق کی ۔ حال ہی میں انتقال کر جانے والے فن کار ریحان نے اس فلم میں ’’ڈریکولا‘‘ کے کردار کو اپنی شخصیت، چال ڈھال اور ایکسپریشنز سے لازوال بنادیا۔ 

ناقدین نے ان کی پرفارمنس کو ہالی وڈمیں ’’ڈریکولا‘‘ کرداروں میں شہرت پانے و الے کرسٹوفرلی اور جیک ہیلنس کے متوازی قرار دیا۔ ’’زندہ لاش‘‘ کو تیکنیکی حوالے سے بھی دیکھا جائے تو ایک متاثر کن شاہ کار مووی تھی، اس کا سائونڈ، ان ڈور فوٹو گرافی میں لائٹنگ کا معیار اور کیمرہ ورک، ڈریکولا کے محل کا سیٹ اور پس منظر موسیقی یہ سب عناصر ملکر ’’زندہ لاش‘‘ کو ایک شاہ کار بناتے ہیں۔ فلم میں صرف 2؍ گانے تھے۔ ایک آئرن پروین کا گایا ہوا دیبا پر پکچرائزڈ، جب کہ دوسرا گیت احمد رشدی کا گایا ’’ادھر جوانی ادھر نشہ‘‘ ہوٹل کے سیٹ پر ’’نذر‘‘ پر پکچرائزڈ نہایت دل کش تھا، جس میں ویسٹرن طرز کا رقص بھی بے حد دل کش تھا، جب کہ فلم کی لیڈی ڈریکولا نسرین پر پیانو کی دھیمی دھیمی دھن پر شب خوابی کے لباس میں فلمایا گیا۔ 

زندہ لاش میں حبیب، اسد بخاری، دیبا خانم، یاسمین اور علائوالدین کی کردار نگاری بھی کرداروں کی مناسبت سے قابل دید تھی۔ ’’زندہ لاش‘‘ کو دیکھنے والوں نے سراہا، ضرور لیکن اس کی فرسٹ رن نمائش کے موقع پر بہت کم فلم بین اسے دیکھنے سنیما گھروں تک آئے، یہی وجہ ہے کہ یہ شان دار فلم فرسٹ رن میں سلور جوبلی بھی نہ مناسکی۔ تاہم بعد ازیں جب جب یہ فلم نمائش کے لیے پیش ہوئی، اسے نئی فلم جیسا ریسپانس ملا۔

1968ء میں ہدایت کار لقمان نے برطانوی مصنف انتھونی ہوپ کا شہرہ آفاق کلاسک ناول ’’پرزنرآف زینڈا‘‘ پر طبع آزمائی کرتے ہوئے فلم ’’محل‘‘ بنائی۔ ناول پرزنر آف زینڈا 1894ء میں لکھا گیا تھا اور 310 صفحات پر مشتمل ہے۔ 1959ء میں ہالی وڈ ہدایت کار جان کرائون ویل اس ناول کو اسی نام سے بلیک اینڈ وہائٹ فلم بناچکے تھے، پھر 1952ء میں ہالی وڈ کے ایک اور ڈائریکٹر رچرڈ تھورپ نے اس ناول کو اسی نام سے رنگین ٹیکنالوجی پر فلماٹائز کیا۔

ہدایت کار لقمان نے ملک حفیظ اور فیاض ہاشمی سے ’’محل‘‘ کا اسکرپٹ لکھوایا، چوں کہ یہ ناول بہت ہی دل چسپ ہے اور جاندار کرداروں اور واقعات سے مرصع ہے سو محل کے لیے ایک اچھا اسکرپٹ میسر آگیا، جسے لقمان نے محمد علی، زیبا، لہری، ادیب اور غزالہ جیسے منجھے ہوئے فن کاروں کے ساتھ موزوں اور معیاری ٹریٹمنٹ سے آراستہ کیا۔ رشید عطرے کی دل کش موسیقی نے بھی محل کی چمک دمک بڑھادی یوں، ایک بہترین فلم ایک نئے فلیور کےساتھ فلم بینوں کے سامنے آئی، جسے فلم ویورز نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ محل اپنے وقت میں ہر خاص و عام کی پسندیدہ فلم ٹھہری۔ اسی سبب دھواں دار بزنس کے ساتھ فلم نے شاندار گولڈن جوبلی منائی۔ انگریزی ناول پر مبنی پاکستان میں یہ پہلی کام یاب گولڈن جوبلی فلم تھی۔

1974ء میں اسکرپٹ رائٹر سعادت حسن زیدی نے امریکی مصنف زین گرے کے ناول ’’دی لون اسٹار رینجرز‘‘ کو محنت اور ذہانت سے فلمی اسکرپٹ کا روپ دیا، جسے رحمت علی نے ’’خطرناک‘‘ کے ٹائٹل کے تحت فلمایا۔ سعادت حسن زیدی نے فلم کا اسکرین پلے بڑی ذہانت اور مشاقی سے تحریر کیا، جسے رحمت عل نے بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر سلولائیڈ پر منتقل کیا۔ یوسف خان، اجمل خان، مصطفی قریشی اور افضال احمد اور کمال ایرانی کی شاندار کردار نگاری اور مسعود الرحمن کی آئوٹ اسٹینڈنگ فوٹو گرافی ’’خطرناک‘‘ کو شاندار اور قبال دید فلم بنادیا، جب کہ صفدر حسین کی دل کش موسیقی نے بھی فلم کی مقبولیت اور کام یابی میں کلیدی کردارادا کیا، جیسا کہ ہم نےپہلے لکھا ہے کہ ’’لون اسٹار رینجرز‘‘ اس ناول کا نام تھا ، جس سے خطرناک ماخوذ تھی۔ 

یہ انگریزی ناول 1915ء میں شائع ہوا تھا، جب اس کی ریاست ٹیکساس کے نام ’’لون اسٹار‘‘تھا۔لون اسٹار رینجرز بھی ٹیکساس کاسپاہی ’’لون اسٹار رینجر‘‘ کے ٹائٹل سے ہالی وڈ میں اسی ناول پر ہدایت کار جیمس بھی فلم بناچکے تھے، چون کہ یہ ایک انگریزی ناول تھا، لہٰذا اسی مناسبت سے رحمت علی نے خطرناک کے بیشتر کرداروں کے لباس روایتی پنجابی فلموں کے ملبوسات سے مختلف رکھے، جس کی بنا پر فلم کا لُک اور ماحول خاصا جداگانہ بن گیا اور یہ عمل بھی فلم خطرناک کے فیور میں گیا، لیکن اس وقت کے اعتبار سے رحمت علی نے نازلی اور انیتا کے جسموں کو ضرورت سے زیادہ برہنہ کردیا، جسے سنجیدہ حلقوں نے ناپسندیدہ قرار دیا، حالاں کہ اس ’’برہنگی‘‘ سے صرف نظر بھی کرلیا جائے تو خطرناک بہت معیاری مضبوط اور بار بار دیکھنے کے قابل فلم تھی۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی سرکٹ میں اس فلم نے پنجابی سنیما کے حو الے سے کام یابی کی نئی تاریخ رقم کی اور ڈائمنڈ جوبلی کا اعزاز حاصل کرنے والی گزشتہ 73 برسوں میں کراچی سرکٹ میں یہ واحد پنجابی فلم تھی۔

1973ء میں ہدایت کار اقبال یوسف نے امریکی رائٹر اور صحافی ماریو بیوزو کا شہرہ آفاق ناول ’’گاڈفادر‘‘ کی فلمی تشکیل خورشید سے کروائی اور 1972ء میں ہالی ووڈ میں اس ناول کو ہدایت کار فرانسس فورڈ کیولا نے معرکۃ الآرا فلم تخلیق کی۔ ہالی وڈ فلم نے انڈوپاک کے فلم میکرز کو بھی مجبور کردیا کہ وہ بھی اس پر طبع آزمائی سے باز نہ رہ سکے، اس سبجیکٹ پرانڈیا میں دھرماتما، ودھاتا، آتنگ ہی آتنگ اور متعدد فلمیں بنائی گئیں، جب کہ پاکستان میں بھی گارڈ فادر، تین یکے تین چھکے اور زور اسی ناول پر مبنی تھیں ، لیکن یہاں ہم صرف شاہ کار فلم ’’ان داتا‘‘ کی بات کریں گے، جو مضبوط اسکرپٹ، اعلی کردار نگاری، دل کش موسیقی، بہترین عکاسی اور بے داغ ڈائریکشن کے سبب پاکستانی فلم بینوں کے حواس پر چھا گئی۔ لالہ سدھیر نے ’’ان داتا‘‘ کے رول میں اپنے فن کی وہ کلاس دکھائی کہ سارےعالم کو حیران کردیا، بلا شبہ مصنف خورشید اللہ اور ہدایت کار اقبال یوسف نے اس سبجیکٹ سے مکمل انصاف کرتے ہوئے اپنی بہترین تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ ’’ان داتا‘‘ کو شاہ کار بنانے میں فلم کے تمام شعبوں میں عمدہ کام کیاگیا ۔ 

فن کاروں میں سلطان راہی، محمد علی، ممتاز، محمد مجیب، لہری، غزل اور آغا طالش نے اپنے اپنے کرداروں میں جم کر کام کیا۔ موسیقار کمال احمد نے فلم کے گیتوں کو ایسی دل کش دھنوں سے سنوارا کہ ہر گانا اسٹریٹ ہٹ ثابت ہو ا۔ عکاسی ایم حسین نے نہایت اعلی زاویوں سے فلم کو عکس بند کیا اور یہی سبب تھا کہ 1976ء کی عیدالفطر پر اس فلم کا تاریخی استقبال ہوا اورتین ہفتوں میں فلم نے گولڈن جوبلی کا سنگ میل عبور کرکے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ ہالی وڈ میں چوں کہ گادڈ فادر کے مزید 2حصےبنائے گئے، اس کی پیروی کرتے ہوئے اقبال یوسف نے بھی ان داتا کاسیکوئل ’’سن آف ان داتا‘‘ کے نام سے بنایا، مگر یہ فلم اتنی ثابت نہیں ہوئی، جتنی ان داتا اچھی اور معیاری تھی، لہٰذاسن آف ان داتا ڈیڈ فلاپ ثابت ہوئی۔

1949ء میں امریکن خاتون رائٹر ماریا آگسٹا وون نے حقیقی واقعات پر مبنی نغماتی ناول ’’اسٹوری آف ٹریپ فیملی سنگرز‘‘ تحریر کیا۔ 1965ء میں ’’سائونڈ آف میوزک‘‘ کے عنوان سے ایک میوزیکل فلم تخلیق کی گئی… کہانی کے مطابق ایک ماریانامی لڑکی (جولی اینڈریوز) بہ طور گورنرس کہانی کے ہیرو سابق نیول کیپٹن وان ٹریپ کے گھر اس کے 7؍ عدد شریر بچوں کی تربیت اور نگہداشت کے لیے آتی ہے، جہاں کیپٹن کے اصول اور سختیاں نافذ ہیں، لیکن ماریا رفتہ رفتہ سب کچھ بدل کر رکھ دیتی ہے اور کیپٹن کی دہشت زدہ حویل یکو اپنی میٹھے نغموں سے نغمہ زار بنادیتی ہے۔ پرویز ملک نے 1978ء میں اس ناول کی کہانی کو ’’انتخاب‘‘ کاٹائٹل دیا۔ شبنم نے ماریا کا رول بنام ’’بانو‘‘ اور محمد علی نے ریٹائرڈ کرنل کا رول ادا کیا۔ 

فلم میں بچوں کے کردار بھی کلیدی نوعیت کے تھے، جب کہ خالد سلیم بلٹر کے روپ میں اور غلام محی الدین روایتی ہیرو تھے۔ فلم کے تمام کرداروں سے پرویز ملک نے نہایت عمدہ اور معیاری کام لیا بالخصوص شبنم نے بہت آئوٹ اسٹینڈنگ پرفارمنس دی۔ نثار بزمی کی سریلی دھنوں نے انتخاب کو پاکستانی ’’سائونڈ آف میوزک‘‘ بنانے میں زبردست کارکردگی دکھائی۔ یوں ’’انتخاب‘ ایک اعلی نغمہ بار فلم کی صورت سامنے آئی اور باکس آفس پر تہلکہ خیز کام یابی سے ہمکنار ہوئی، فلم نے مجموعی طور پر 72؍ ہفتے مکمل کیے۔

دیگر فلمیں جو انگریزی ناولز پر بنائی گئیں ، ان میں لقمان کی ’’پرچھائیں‘‘ جو انگریزی ناول ’’ایوا اینڈ کیرولنا‘‘پر، ’’میرا نام ہے محبت‘‘ ’’لو اسٹوری‘‘ پر، ’’سلاخیں‘‘ ’’لامائزرایبل‘‘ پر، ’’قربانی‘‘ کریمر ورسز کریمر پر، ’’دہلیز‘‘ ویڈنگ ہائٹس پر، ’’کبھی الوداع نہ کہنا‘‘ مین وومن اینڈ چائلڈ پر، ’’دو بھیگے بدن‘‘ دی پرامس پر، ’’واپسی‘‘ کائونٹ آف مونٹے کرسٹو پر اور ’’لو میں گم‘‘ ویرونیکا ڈیسائڈڈ ٹو ڈائی پر شامل ہیں۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید