• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

٭ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ معیشت کا ہے۔ چین کے علاوہ ہر بڑا چھوٹا ملک معاشی دبائو میں ہے۔ اس لئے اب دُنیا کے بڑے ایوانوں میں پالیسی بنانے والوں کے سامنے سب سے اہم نکتہ یہی ہوگا کہ معیشت کو کیسے سنبھالا دیا جائے۔

٭اگر دُنیا کو وبائی امراض سے بچانا ہے، قانون فطرت کو تحفظ دینا ہے، ماحولیات کو سُدھارنا ہے، انسانوں کو ان کی بنیادی سہولتیں فراہم کرنا ہے، تعلیم، صحت عامہ، بنیادی حقوق کا تحفظ اور اس دُنیا سے غربت اور بھوک کو مٹانا ہے تو پھر نیا عمرانی معاہدہ تیار کرنا اور اس پر عمل کرناہوگا۔ اگر بڑی طاقتیں چاہتی ہیں کہ دُنیا کو اسی طرح چلانا ہے جس طرح چلاتے آئے ہیں تو یہ مشکل ہے۔ کورونا وائرس نے پیغام دے دیا اور اپنی طاقت بھی دکھا دی ہے

٭ کورونا وائرس دو تین سال تک مسلسل اسی طرح آنکھ مچولی کھیلتا رہا اور دُنیا سراسیمگی کے عالم میں مبتلا رہی تو پھر بڑی تبدیلی کا امکان نظر آتا ہے۔ وہ یہ کہ دُنیا کے بڑے رہنمائوں، صلاح کاروں، اصلاح پسندوں، جمہوریت پسندوں، اشتراکیت پسندوں، لبرل اَزم پسندوں سمیت ملٹی نیشنل اداروں، عوام دوستوں، معروف دانشوروں اور دیگر ایسی جعلی شخصیات کے چہروں سے نقاب غائب ہو جائیں گے جو دُنیا کے معصوم عوام کی اُمنگوں، ضرورتوں، خواہشات اور خوابوں سے کھیلتے آئے ہیں، کچھ ہو نہ ہو کورونا یہ دِکھا دے گا۔

کورونا کے بعد دُنیا میں کیا کیا تبدیلیاں ہوں گی، وہ دُنیا کیسی ہوگی، آگے کیا ہوگا، اس نوعیت کے سوالات ہر فرد کے ذہن میں اُمڈتے رہتے ہیں، اندازے لگائے جاتے ہیں، مفروضات قائم کئے جاتے ہیں اس کے سوا کر بھی کیا سکتے ہیں۔ انسان کی یہ خوبی تو ہے کہ وہ ہر حال، ہر موسم، ہر مشکل میں زندہ رہنے کی جدوجہد کرتا ہے۔

پہلی بات تو یہ کہ ابھی کورونا انسانوں کو چھوڑ کر کہیں نہیں جا رہا ہے۔ ابھی اس نے دُنیا میں چھ ماہ سال یا کچھ مزید رہنا ہے۔ یہ روایتی وبائی مرض نہیں ہے بلکہ ایک بہت ہی پیچیدہ وائرس ہے جو انسان کے اندرونی اعضاء دِل، پھیپھڑے، گردے، انجائنا اور جگر پر حملہ کرتا ہے اس نے اندر جا کر نقصان پہنچاتا ہے۔ اس کا تدارک تب ہی ممکن ہے جب ویکسین تیار ہو جائے۔ ویکسین تیارہونے میں چھ سے دس ماہ تک لگ سکتے ہیں پھر اس کی تجرباتی مدت بھی الگ ہوتی ہے۔ دُنیا کی تمام اہم جامعات کی بائیلوجیکل تجربہ گاہوں، سائنسی تحقیقی اداروں اور ملٹی نیشنل ادویات تیار کرنے والے ادارے شب و روز کام کر رہے ہیں۔ اس طرح یہ طے ہے کہ فی الحال ہمیں کورونا کے ساتھ ہی زندگی گزارنی ہے۔ اگر بیماری سے دُور رہنا ہے تو جو طریقے بتائے جا رہے ہیں ان پر سنجیدگی سے عمل کریں، بصورت دیگر کورونا سے کہیں بھی کبھی بھی سامنا ہو سکتا ہے۔

دُوسری بات یہ کہ کورونا کے بعد کیا کیا تبدیلیاں آئیں گی۔ کورونا وائرس آیا تو اس نے تبدیلیاں بھی کر دیں۔ ایسی ہی کچھ تبدیلیاں بعداز کورونا بھی رہیں گی۔ انسان بدل گیا ہے، دُنیا پہلے جیسی نہیں رہے گی۔ معاشی شعبہ پوری دُنیا میں شدید متاثر ہو رہا ہے۔ نوے پچاسی فیصد صنعتی ادارے بند ہیں، ساحلوں پر جہاز لنگرانداز ہیں، مشینیں بند ہیں، ہوائی مستقروں پر ہزاروں طیارے زمین پر کھڑے ہیں۔ہوٹل بند ہیں، اسٹیڈیم خالی پڑے ہیں، کلبوں میں تاریکی اور خاموشی ہے، ہوٹل سینما ہائوس بند ہیں، سماجی، سیاسی، مذہبی اجتماعات بند ہیں۔ 

ایک طرح سے زندگی جامد اورساکت سی ہو کر رہ گئی ہے۔ اس کے علاوہ پہلی بار دُنیا کی تمام مذاہب کی عبادت گاہوں پر تالے لگا دیئے گئے ہیں تھے۔ نئی مصیبت یہ بھی آگئی کہ حکومتوں نے وبائی مرض کے پھیلائو کو روکنے کیلئے لاک ڈائون کا سلسلہ شروع کر دیا کہ گھروں میں بند ہو کر بیٹھو۔ اگر لاک ڈائون سے نکلتے ہیں کورونا گھیر سکتا ہے، اگر نہیں نکلتے ہیں تو بھوک ستاتی ہے۔ آج کی دُنیا کے لوگوں کا قدرتی آفات اور حوادثِ زمانہ سے تو واسطہ پڑتا رہا ہے اور وہ بھگتاتے بھی رہے ہیں مگر یہ تو ایک ایسی بلا ہے جو گھر میں گھس جائے تو پیچھے ہٹ جاتی ہے جہاں باہر نکل کر بھیڑ بھاڑ میں گئے کاٹنے لگتی ہے۔

تیسری بات یہ ہے کہ ترقّی پذیر ممالک کے عوام اس طرح کے عذاب سہتے رہے ہیں، اُوپر سے مزید عذاب آ گیا، رو پیٹ کر گزارہ کر رہے ہیں۔ تیسری دُنیا یا ترقّی پذیر دُنیا جس میں پاکستان شامل ہے یہ ہماری بدقسمتی ہے۔ یہاں کے عوام ہمیشہ جم غفیر پسند کرتے ہیں، حکومت جو کہتی ہے اس کا اُلٹ کرتے ہیں۔ تو یہاں کووِڈ۔ انیس کا اثر آنکھ مچولی کی طرح چل رہا ہے کبھی لاک ڈائون کبھی باہر ہو ہائو پھر لاک ڈائون، گویا سو پیاز اور سو جوتے دونوں شمار ہو رہے ہیں۔

ایک بات یہ کہ لوگ پوچھتے ہیں وبائی مرض کے خاتمے کے بعد ہمارے یہاں کیا تبدیلیاں آئیں گی۔ عجیب سوال ہے جب سے اس ملک کا قیام عمل میں آیا ہے کوئی تبدیلی نہیں آئی، حد یہ کہ تبدیلی کے نعرے کے گھوڑے پر سوار آنے والے بھی تبدیلی نہ لا سکے۔ تبدیلی کیسی، یہاں تبدیلی نہیں آ سکتی، تبدیلی ذہنی ہوتی ہے، فکری ہوتی ہے، رویوں کی ہوتی ہے، سماجی بہتری کی ہوتی ہے۔ یہاں ہمیشہ غریبی بھوک اور پسماندگی ناخواندگی کے سائے گہرے رہے وہ اب بھی ہیں۔ کورونا اس میں مزید اضافہ کر سکتا ہے اور کچھ نہیں۔ پانی کی قلت تھی، اب بھی ہے اور کل بھی رہے گی، صفائی ستھرائی صحت عامہ حکومتوں کی کل بھی ترجیح نہیں تھی، کل بھی نہیں رہے گی۔ 

مہنگائی، ملاوٹ، چور بازاری، نوسربازی کل بھی تھی، کل بھی رہے گی، پھر کیسی تبدیلی۔ چوتھی بات، ہاں تبدیلی آئی ہے اور آئے گی وہ ہے پاکستان کی اشرافیہ جو کووِڈ۔انیس سے کچھ پریشان ہے وہ تبدیلی کے حوالے سے سوچ کر پریشان ہے۔ ان پر کلب بند ہوئے، ہوٹل پارٹیاں، دعوتیں، سیر سپاٹے، غیرملکی دورے سات ستارہ ہوٹلوں کی تفریحات سب بند ہیں اس لئے سماجی دُوری بھی اُوپر سے لاگو ہوگئی تو زندگی بے مزہ ہو کر رہ گئی ہے۔ اگر یہاں سے دُنیا کے کسی حسین سپاٹ پر جا کر یہ مشکل دن گزار لیں تو بھی یہ نہیں ہو سکتا۔ ہر سپاٹ ہر ساحل ہر کیسینو بند ہے۔ کبھی سوچا نہ ہوگا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے دولت کی ریل پیل ہے ہر نعمت میسر ہے مگر سب لاک ڈائون میں ہے۔

مغربی دُنیا یا ترقّی یافتہ ممالک کے عوام اور سماجی و سیاسی حلقے پھر یہ سوال کرتے ہیں کہ کورونا کے بعد دُنیا کیسی ہوگی یا کیسی لگے گی، کیا تبدیلیاں آئیں گی؟ اس طرح سوالات ہر دن ہر فرد ہر دوسرے سے پوچھتا ہے۔ مگر سچ یہ ہے فی الحال کورونا وائرس نے پوری دُنیا کو جکڑ رکھا ہے۔ کہیں اس کی گرفت ڈھیلی پڑتی ہے اور کہیں مزید سخت ہو جاتی ہے۔ کسی ملک میں لاک ڈائون میں نرمی کی جاتی ہے اور کبھی مزید سختی کر دی جاتی ہے، روز بروز مریضوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے اور اموات میں اضافہ بھی ہو رہا ہے۔ دوسرے لفظوں میں کورونا سے آنکھ مچولی جاری ہے۔ عوام پریشان اور حکومتیں حیران ہیں۔ 

پوری دُنیا اس شش و پنج میں ہے کہ کورونا ختم ہوا مگر دُوسرے دن پھر سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ جب کورونا وائرس ختم ہی نہیں ہوا تو اس کے بعد کے حالات کا سوال تو اپنی جگہ رہے گا۔ اس پر آگے بات کرتے ہیں تمام ماہرین اور ڈاکٹروں کا متفقہ فیصلہ ہے کہ جب تک اس وبائی بیماری کی ویکسین تیار نہیں ہو جاتی اور اس کا استعمال شروع نہیں ہو جاتا اس وقت تک یہ وبا اپنا اثر دکھاتی رہےگی۔ اس وقت دُنیا کے بیس سے زائد ممالک کے بڑے ادویات تیار کرنے والے ادارے، بڑی یونیورسٹیوں کی تجربہ گاہوں میں تحقیق کرنے والے اور بڑی بڑی سائنسی تجربہ گاہیں ویکسین کی تیاری کے لئے شب و روز کام کر رہے ہیں۔ امریکی سینٹرل بائیلوجیکل ادارے کے سربراہ اسٹیفن مورس کہتے ہیں، پہلے ویکسین تیار ہوگی پھر اس کو مختلف تجرباتی اور تجزیاتی مراحل سے گزارا جائے گا، پھر اس کو دوسرے تجربہ گاہ میں ماہرین کے حوالے کیا جائے گا، جو اس پر انتہائی باریکی سے طبّی تحقیق کریں گے، اس کے بعد اگر وہاں سے منظوری کے بعد اس کا اخلاقی قوانین کے تحت تجربہ کیا جائے گا۔ 

تمام آزمائشوں کے بعد اس ویکسین کا کم از کم پانچ سو افراد پر تجربہ کیا جائے گا، اس کے بعد اس ویکسین کو ہنگامی طور پر بھی استعمال کرنے کا اجازت نامہ حاصل کیا جائے گا اور پھر یہ بازار میں آ سکتی ہے تو اندازہ کیجئے کہ اس میں تین سے بارہ ماہ بھی لگ سکتے ہیں۔ البتہ اس دوران بہت ادویاتی ادارے اپنی اپنی ویکسین بھی بازار میں لا سکتے ہی جو پیٹنٹ یا منظور شدہ نہیں ہوں گی۔ اس سے فائدہ کے بجائے نقصان کا اندیشہ ہے اس لئے بازاری اشتہاری دوا ہرگز استعمال نہ کی جائے انتظارکیا جائے کہ کب اصل ویکسین تیار ہوتی ہے عین ممکن چندماہ میں تیار ہو جائے اور وبا پر قابو پا لے۔

ایک امریکی تحقیقی ادارے نے دعویٰ کیاہے کہ ماہ ستمبر تک ان کا ادارہ ویکسین تیار کر لے گا مگر اس کو تجرباتی مراحل سے گزارنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ لہٰذا ابھی کورونا کا مقابلہ کریں۔ پروفیسر اسٹیفن مورس کہتے ہیں یہ دُنیا اَن گنت وائرسز سے بھری اور ایک جائزہ کے مطابق انسانی جسم کے اندر اور اس کے اطراف کی دُنیا میں دس لاکھ وائرس ہو سکتے ہیں مگر یہ وائرس نقصان دہ نہیں ہوتے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک اس وائرس کی مؤثر ویکسین تیار نہیں ہو جاتی ہمیں دُوسروں سے الگ تھلگ رہنا ہوگا۔

اب آئیں اس سوال کی طرف کہ وائرس کے خاتمے کےبعد یہ دُنیا کیسے لگے گی؟ کن کن شعبوں اور رویوں میں تبدیلیاں آئیں گی۔ اس حوالے سے بہت سے مبصرین، تجزیہ کار اور ماہرین بہت کچھ کہہ رہےہیں۔ مثلاً زیادہ تر کا خیال ہے کہ دُنیا میں معیشت پر بہت زیادہ دبائو پڑے گا اس کی کمر جھک جائے گی، ہر طرف سے بے روزگاروں کی قطاریں نظر آئیں گی، مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہوگی، بھوک، پسماندگی، معاشرتی انحطاط بڑھ جائے گا۔

سیاسی طور پر پوری دُنیا میں افراتفری، کشیدگی اور ہنگامہ آرائی ہوگی، حکومتیں سخت قوانین وضع کرنے پر مائل ہوں گی، جمہوری حکومتوں اور جمہوری روایات شدید متاثر ہوں گی، بنیادی حقوق سلب ہوں گے، اظہار رائے کی آزادی پابند ہو جائے گی، آمرانہ اور حاکمانہ حکومتوں کا زور رہے گا۔ عوام اچھی حکمرانی کے بس خواب دیکھتے رہیں گے۔

اس حوالے سے یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ حکومتیں اپنی اپنی معیشتوں کو سہارا دینے کے لئے زیادہ سے زیادہ اشتراک پر مائل ہو جائیں، عوامی دبائو اور مسائل کے سامنے حکومتیں اپنی اپنی حکمرانی کے انداز تبدیل کریں۔ تجربہ سے ثابت ہوا کہ آج کی دُنیا میں صحت عامہ کا شعبہ سب سے زیادہ اہم ہے۔ بڑی طاقتیں جو اربوں ڈالر لوہے بارود سے ہتھیار بنا کر بڑا بجٹ خرچ کر دیتی ہیں اس کے بجائے اب حکومتیں صحتِ عامہ پر زیادہ بجٹ صرف کریں۔ کورونا وائرس نے یہ بتا دیا ہے کہ معاشرہ کو صحت مند رکھے بغیر کچھ ممکن نہیں اس لئے ڈاکٹروں اور اسپتالوں کی تعداد زیادہ ہونی چاہئے۔ ان میں تمام سامان اور آلات موجود ہونا چاہئیں صحت عامہ کےشعبہ کو زیادہ اہمیت اور بجٹ مہیا کیا جانا چاہئے۔ 

یہ نعرہ پھر مقبول ہوا کہ جان ہے تو جہان ہے۔ معیشت بھی بہتر ہو سکتی ہے جب عوام صحت مند ہوں کام کاج کے قابل ہوں۔ اس کے علاوہ تعلیمی شعبہ کو مزید فعال، معیاری بنانے اور اس کا دائرہ وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ دُنیا میں تعلیمی ادارے بند ہوئے تو انہوں نے آڈیو ویڈیو تکنیک کے ذریعے طلبہ کوتعلیم دینے کا سلسلہ شروع کیا۔ ہمارا ملک اس حوالے سے بہت پسماندہ ہے مگر حکومت جس طرح اَللّے تللّے بڑی رقومات خرچ کرتی ہے جس میں بڑے پیمانے پر خوردبرد بھی ہوتی رہی ہےتو اب سب کوہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔ ٹی وی پر بولنے والے دانشوروں کو چھوڑ کر اصل تعلیمی ماہرین کے ذریعہ نیا الیکٹرونک تعلیمی سسٹم تیار کیا جائے جو کم از کم تعلیم دینے کا اہل ہو۔ لیپ ٹاپ حکومت تقسیم کرے۔ انٹرنیٹ کا مربوط نظام نافذ کرے۔ کورس جدید اور آسان انداز میں ترتیب دیا جائے۔ 

یہاں سب سےاہم نکتہ یہ ہے کہ تعلیم سےپہلے بچّے کی صحیح خطوط پر تربیت ہونا ضروری ہے بچہ کو اخلاقی تعلیم، اَدب آداب، سوک سنس سکھایا جائے تا کہ وہ ذمہ دار شہری بن سکے۔ ہمارے تعلیمی نصاب کا اوّلین نصاب اخلاقیات پرمشتمل ہونا ضروری ہے۔ ہماری قوم میں نظم و ضبط، بنیادی اخلاقیات اور قانون کی پاسداری کا شعور نہیں ہے۔ اب قوم نے سیکھ لیا اور کورونا نے سکھایا کہ سماجی اور اخلاقی اُصول بہت ضروری ہیں۔ تعلیم جو بھی جتنی بھی حاصل کر لے مگر پہلے اچھا انسان بننا ذمہ دار شہری بننا زیادہ ضروری ہے اوریہ حکومت اور معاشرے کی ذمہ داری ہے۔

تیسرا اہم شعبہ میونسپل اور پبلک ہیلتھ کا ہے۔ کورونا وائرس نے اس طرف بھی بھرپور توجہ دِلوا دی ہے کہ حکومت کو لوکل باڈیز کےشعبہ کواوّلیت اور اہمیت دینا چاہئے۔ ماضی میں قوم کے ساتھ تمام بڑی جماعتوں اوران کی حکومتوں نےبڑا مذاق کیاہے۔ یہ نہایت تضحیک آمیز اقدام ہے کہ (معذرت کے ساتھ) قومی اور صوبائی اسمبلی کے منتخب اراکین میں لوکل باڈیز کےبجٹ کی رقم تقسیم کی جائے کہ اپنے اپنے حلقوں میں ترقیاتی کام کرائیں۔ خدا کے لئے ہماری اشرافیہ کو انتظامیہ کو اور خود سیاستدانوں کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے کہ ان کا انتخاب اسمبلی میں جا کر قانون سازی کرنا ہے۔ محلے کی گٹر لاائن کھلوانا، ڈلوانا، پانی کے نل لگایا یا سڑک تعمیر کرنا ہرگز نہیں ہے۔ یہ لوکل باڈیز کے میونسپل کے حلقوں سے منتخب ہو کر آنے والے نمائندوں کا ہے۔ اب یہ نیم جاگیردارانہ اور نیم قبائلی سیاسی انداز ترک کرنا ہوگا۔ شہروں، قصبوں اور دیہات میں صفائی ستھرائی کا نظام نہایت ضروری ہے۔ دُنیا کے بہترین اور ذمہ دار معاشرہ کو ملحوظ رکھیں۔ 

سوئیڈن میں کورونا وائرس پھیلا مگر وہاں لاک ڈائون نہیں ہوا۔ عوام نے حکومت کے اعلامیہ پر عمل کر کے اپنے کام کاج بھی جاری رکھے اور بیماری سے بھی بچائو کیا، اس لئے کہ ان کی ابتدائی تعلیم میں نظم و ضبط سکھایا گیا تھا۔ دُوسرے ان کے ملک میں میونسپل اور صحت عامہ کےادارے جدید خطوط پر کام کرتے ہیں، اس لئے آج دُنیا سوئیڈن کی مثال پیش کر رہی ہے۔ اس بارماضی کی طرح دیکھا گیا کہ ہماری حکومت نے عوامی امداد اور سہولت کے لئے مستحق افراد میں کہیں اناج کے پیکٹ اورکہیں نقد رقم تقسیم کرنے کا پیکیج ترتیب دیا۔ سب نے دیکھا اس کا کیا حشر ہوا، یہ ایک المیہ ہے کہ جب غریب لاک ڈائون میں بیٹھے ہیں، حکومت سرکاری خزانے سے ان کے لئے اناج یا رقم دیتی ہے تو اس میں بھی ذمہ دار لوٹ مار سے باز نہیںآتے۔ اس حوالے سے پچاسوں شکایتیں ٹی وی اخبارات اور سوشل میڈیا پر آئی ہیں کہ مستحق افراد کا بھی حق سلب کرلیا بدعنوانی کی گھٹیا مثالیں ہیں۔

یقیناً اس میں قوم کا بھی قصور ہے جب ذمہ دار افراد مستحق لوگوں میں اناج کے پیکٹ تقسیم کرنے پہنچے تو وہاں عوام کا جم غفیر اُمڈ آیا۔ وائرس کے حوالے سے جو احتیاطی تدابیر بتائی گئی تھیں وہ سب ہوا ہو گئیں۔ حکومت نے رقم تقسیم کرنے کا طریقہ اپنایا اس میں خوردبرد کے انکشافات سامنے آئے۔ اگر حکومت کچھ اچھا کرنا بھی چاہے تو یہ ہماری نیت اور طرزعمل سے بُرا ہو جاتا ہے۔ بے شک اس میں عوام میں تعلیم، نظم و ضبط اور شہریت کا فقدان ہے کسی حکومت نے اس طرف توجہ ہی نہیں کی، کیونکہ حکمرانوں کے اپنے مسائل الگ ہوتے ان کو اس جم غفیر کے بارے سوچنے کا وقت نہیں ملتا۔ اسمبلیوں میں یہ اس لئے ہر قیمت پر منتخب ہوتے ہیں کہ یہ اسٹیٹس سمبل ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ 

غور کیجئے ملک میں کتنے المناک، خوفناک اور افسوسناک واقعات ہوئے مگر ادھر دُوسرا دن نکلا وہی رنگ وہی ڈھنگ، ہر فرد اپنی دُھن میں مگن۔ اب جاری حالات میں ملک میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو یہ امید رکھتے ہیں کہ وبائی لہر ختم ہونے کے بعد حالات بہتر ہو جائیں گے، قوم نے امیر اور غریب نے بہت کچھ سیکھ لیا ہے اس لئے سیاسی رہنما، مذہبی رہنما، سماجی رہنما، اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کے ذمہ داران اپنی اپنی روش بدلیں،اس ملک میں تبدیلی ضرور آئے گی۔ چلئے یہ بھی دیکھ لیتے ہیں ہمارے سامنے دونوں رائے موجود ہیں کہ وبائی لہر کے ختم ہونے پر تبدیلی آئے گی اور مثبت تبدیلی ہوگی، دُوسری رائے یہ کہ کچھ نہیں بدلنے والا اور بگاڑ ہوگا، پرنالہ وہیں گرے گا۔ 

خدا کرے پہلی رائے دُرست ہو اور عوام کے مصائب اور مسائل ختم ہوں۔ کووِڈ۔انیس نے خاص طورپر ترقّی یافتہ امیر ترین ممالک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ مغربی دُنیا کو دیکھ کر لگتا ہے دُنیا میں تبدیلی ضرور آئے گی۔ ترقّی پذیر ممالک کے بارے میں جیسا کہ عرض کیا یہ ممالک پہلے ہی سے شدید مسائل اور مصائب کا شکار ہیں ان میں مزید اضافہ ان کے ساتھ پہلے ہی جیسے بارش میں بھیگتے شخص پر کوئی ایک بالٹی پانی اور پھینک دے۔

دُنیا کے بڑے ایوانوں میں بہت کچھ ہلچل دکھائی دیتی ہے۔ بات شروع ہوتی ہے امریکہ سے کہ اس کی پالیسی کیا ہوگی، دُنیا دو یا تین دھڑوں میں تقسیم ہوتی دکھائی دے رہی ہے ورلڈ یونی پولر سے ملٹی پولر کی طرف جا رہی ہے۔

دُنیا کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ معیشت کا ہے۔ چین کے علاوہ ہر بڑا چھوٹا ملک معاشی دبائو میں ہے۔ اس لئے اب دُنیا کے بڑے ایوانوں میں پالیسی بنانے والوں کے سامنے سب سے اہم نکتہ یہی ہوگا کہ معیشت کو کیسے سنبھالا دیا جائے۔ دُوسرے یہ کہ چین کی تیز رفتار صنعتی اور تجارتی ترقّی کو کیسے کم کیا جائے۔ واقعہ یہ ہے کہ ہر اہم ملک کسی نہ کسی طور پر چین سے تجارتی اور معاشی تعلقات رکھتا اور دوطرفہ تجارت کرتا ہے۔ اگر بڑی طاقتوں میں کشیدگی بڑھتی ہے تب باقی درجنوں ممالک کے مفادات اور تجارت کا کیا ہوگا۔ یہ مسئلہ نومبر کےبعد واضح ہوگا جب امریکہ کے صدارتی انتخابات کا منظرنامہ سامنے آجائے گا کیونکہ امریکہ شش و پنج میں ہے دو ہزار بیس کے انتخابات کون جیتے گا؟ 

ڈیمو کریٹک پارٹی یا ریپبلکن پارٹی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ دُوسری باری کے لئے انتخاب لڑ رہے ہیں جبکہ ڈیموکریٹک کے صدارتی اُمیدوار جوبائیڈن ان کے مضبوط حریف ہیں۔ صدر ٹرمپ کے بارے میں امریکی اشرافیہ کی اکثریت اچھی رائے نہیں رکھتی، وائٹ ہائوس کا اسٹاف، اعلیٰ عہدیدار، ان سے ملنے جلنے والے، ریپبلکن پارٹی کے بیشتر اراکین صدر ٹرمپ کو پسند نہیںکرتے، مگر صدر ٹرمپ نے اپنی پہلی باری میں ہی امریکی قوم پرستی کا کارڈ کھیلا اور چین پر ہلکی پھلکی تنقید بھی شروع کی اور امریکہ کے اوسط اور متوسط طبقہ کو نوکریاں دینے کا وعدہ کیا،پھر ٹرمپ نے امریکی ملٹی نیشنل کمپنیوں کو کہا کہ وہ چین سے اپنا سرمایہ اور کارخانے واپس امریکہ لے آئیں اور یہاں کے بیروزگاروں کو روزگار فراہم کریں۔ صدر ٹرمپ کی اس نعرہ اور پالیسی کی وجہ سے امریکہ کا اوسط درجہ اور درمیانہ درجے کے طبقہ کے افراد ان کو پسند کرتے ہیں، مگر امریکہ امیرترین طبقہ کو ڈونلڈ ٹرمپ پسند نہیں کیونکہ وہ چین کے خلاف ہے اور امیر امریکیوں کوواپس امریکہ لانا چاہتا ہے۔ اب جبکہ کووِڈ۔انیس نے امریکہ کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا اور ہزاروں امریکی اس وبا سے ہلاک ہوگئے، کارخانے بند ہو گئے، امریکہ ساکت ہوگیا، معیشت کا چلتا پہیہ رُک گیا۔ اس پر صدر ٹرمپ بار بار چین کی طرف اُنگلی اُٹھا رہے ہیں، اس کے علاوہ چین اور عالمی ادارئہ صحت کے خلاف کچھ اقدام بھی کئے جس سے دونوں بڑی طاقتوں کے مابین کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ مگر امریکی انتخابات نے صدر ٹرمپ کو دُہرے امتحان میں ڈال دیا ہے۔ ان کے حریف ڈیموکریٹک پارٹی کے جوبائیڈن پہلے صدر باراک اوباما کے نائب صدر رہ چکے ہی، کم گو، باصلاحیت اور تجربہ کار سفارت کار سیاستدان ہیں اس لئے امریکہ میں بڑے حلقے میں مقبول ہیں۔ تاہم امریکی سیاست اور انتخابات کی ایک روایت چلی آ رہی ہے کہ امریکی صدر دُوسری باری میں انتخابات میں حصہ لیتا ہے تو کبھی نہیں ہارتا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا روایت صدر ٹرمپ کی وجہ سے ٹوٹ جائے گی یا پھر برقرار رہے گی۔

اس صورت حال کے علاوہ اہم ترین مسئلہ یہ ہے کہ یورپی یونین کووِڈ۔انیس کی وبا کے بعد شدید بدنظمی، اَبتری اور معاشی وبا کا شکار ہو چکا ہے کہ وہ کسی بھی معاملے میں امریکہ کی مدد نہیں کر سکتا۔ سیاسی طور پر پوری دُنیا گومگو کا شکار دکھائی دیتی ہے مگر علامتی طور پر ایک طرف چین کاگروپ بن رہا ہے، دُوسری طرف امریکہ ہاتھ پائوں مار رہا ہے، مگر یورپی یونین گم سم ہے۔ مختلف ممالک کے ایک دُوسرے کے خلاف تند و تیز بیانات سے یوں لگتاہے کہ دُنیا میں طاقت کے بدلتے محور کے ساتھ ساتھ غالباً ملکوں کی صف بندی بھی ہو رہی ہے۔ یہ دُنیا اس طرح کے اندیشوں کا ہمیشہ شکار رہی ہے۔ کل کیا ہو معلوم نہیں۔ اس حوالے سے انسانی تاریخ کی بدترین مثالوں میں یہ اہم مثال ہے کہ 1914ء میں یورپی ممالک کے مابین پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی جو 1918ء تک جاری رہی جس میں فوجی اور غیرفوجی تقریباً بائیس لاکھ افراد ہلاک اور لاکھوں معذور ہوگئے۔ ستم یہ کہ جنگ اپنے اختتام کو پہنچ رہی تھی تو دُوسری طرف یورپ میں فلو پھیلانا شروع اس کو تاریخ میں اسپینش فلو کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ 

حالانکہ یہ فلو اسپین سے نہیں پھیلا تھا اور نہ اسپین جنگ میں شامل تھا یہ وسطی یورپ میں پھیلا اور اسپین میں بھی پھیل گیا یہ انفلوئنزا تھا اس میں لوگوں کی اموات زیادہ ہو رہی تھیں چونکہ جنگ کی وجہ سے یورپی اخبارات پر شدید سنسرشپ عائد تھی وہ خبریں نہیں شائع ہوتی تھیں۔ اسپین چونکہ جنگ میں شامل نہیں اس لئے پریس آزاد تھا اور یہاں سے فلو کی خبریں ہر جگہ پہنچ رہی تھیں مگر سب سے المناک حقیقت یہ ہے کہ اس فلو کی وبا کی وجہ سے تیس سے پچاس ملین افراد ہلاک ہوگئے یہ تعداد پہلی جنگ عظیم میں ہلاک ہونے والیوں سے زائد تھی۔ یہ وبائی مرض تین سال تک یورپ، امریکہ اور دوسرے خطوں میں تباہی پھیلاتا رہا۔ پوری دُنیا پر جیسے موت کے سائے چھائے ہوئے تھے اس پر یورپ امریکہ میں معرکتہ الآراء ناولز اور تحریریں سامنے آئیں۔ تاریخ کے اس موڑ پر انسان کی حرص، طمع اور تعصب سامنے آتا ہے کہ ایک بڑی جنگ کی تباہ کاریوں اور پھر اس کے ساتھ ہی دُنیا کی مہلک ترین وبائی بیماری کی بربادیاں ہونے کے باوجود اس وقت کے سیاسی رہنمائوں نے دوسری عالمی جنگ کی تیاریاں شروع کر دیں۔ دوسری عالمی جنگ جو 1945ء میں اختتام کو پہنچی انسانیت کو ناقابل برداشت اور ناقابل فراموش زخم لگائے۔ 

اس عالمی جنگ میں اتحادی فوجوں یعنی امریکہ، برطانیہ، روس اور چین، اس کے علاوہ مخالف گروپ جو محوری طاقتیں کہلاتا تھا اس میں جرمنی، جاپان اور اٹلی شامل تھے ان دونوں گروہوں کے سات آٹھ کروڑ کے قریب فوجی اور شہری ہلاک ہوئے۔ آدھی دُنیا کھنڈر بن گئی۔ دُوسری عالمی جنگ کا سب سے بڑا معرکہ جرمنوں اور روسیوں کے مابین اسٹالن گراڈ میں لڑا گیا جس میں ایک کروڑ بیس لاکھ روسی اور ایک کروڑ ستّر لاکھ جرمن فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ اس معرکہ کے بعد جرمنی کو شکست ہوئی۔ دُوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد یورپی ممالک میں مردوں کی تعداد کم ہو چکی تھی اس کمی کو ایشیائی، افریقی، عربی اور مشرق بعید کی افرادی قوت نے پورا کیا اور یورپ کے کارخانے کام کرنے لگے۔

اس تناظر میں ہم اگر آج کی دُنیا کے منظرنامے پر نظر ڈالیں تو صورت حال زیادہ بدلی ہوئی نظر نہیں آتی۔ ماضی کی جنگیں بھی دُنیا کی منڈیوں اور ترقّی پذیر ممالک کے قدرتی وسائل کے لئے لڑی گئیں تھی۔ آج بھی یہی اصل کاز ہے۔

معیشت پر سیاست کا درومدار ہے۔ جاری صورت حال میں تقریباً ملکوں کی چین کے علاوہ سب کی معیشت بدحال ہے۔ تمام ممالک اس حوالے سے شدید پریشانی اور سیاسی افراتفری کا شکار ہیں۔ طاقت کے بدلتے تناظر میں اقوام متحدہ کا ادارہ بھی نشانے پر ہے کچھ ممالک اس کو کھلے عام سفید ہاتھی قرار دے رہے ہیں۔ ان میں امریکی صدر ٹرمپ بھی شامل ہیں۔ اگر امریکہ اقوام متحدہ سے ہاتھ ہٹا لے تو پھر سب کی سلامتی مشکل ہے کیونکہ ستّر فیصد سے زائد بجٹ امریکہ ادا کرتا ہے باقی ممالک ٹال مٹول کر جاتے ہیں۔ امریکہ اس لئے یہ بوجھ اُٹھاتا ہے کہ اس ادارے میں ستّر فیصد ملازمین بھی امریکی ہیں۔ اگر اقوام متحدہ کا ادارہ اور اس کی کارکردگی زیربحث آتی ہے تو پھر ایک پنڈورا باکس کھل سکتا ہے۔ 

اگر اس عالمی ادارہ پر بحث ہوتی ہے تو اس سے زیادہ ضروری ہے کہ اقوام متحدہ کے ادارے کے ذریعہ پہلے نیو سوشل کنٹریکٹ تیار کرایا جائے اب دُنیا کو بدلتے حالات، موسمی تغیرات اور ماحولیات کے مسائل کو ملحوظ رکھتے ہوئے نئے عمرانی معاہدہ کی ضرورت ہے جس میں عادلانہ معاشی، سماجی اور سیاسی نظام کی بنیاد پر حقیقی جمہوری معاشروں کے قیام کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس دُنیا کی تمام تر برائیوں کی جڑ ظالمانہ اجارہ دارانہ معاشی نظام ہے جو دو سو سے کم خاندانوں کو آٹھ عرب انسانوں کی دولت کا مالک بنا کر دُنیا پر مسلط کرتا ہے۔

فطرت کا مذاق اُڑانے والے دیکھ رہے ہیں کہ دُنیا کا کیا حشر ہو رہا ہے۔ یہ ایک وائرس ہے جبکہ اس دُنیا میں سائنسی تحقیق کے مطابق تریسٹھ ملین وائرسز ہیں۔ اگر دُنیا کو ان وبائی امراض سے بچانا ہے، قانون فطرت کو تحفظ دینا ہے، ماحولیات کو سُدھارنا ہے، انسانوں کو ان کی بنیادی سہولتیں فراہم کرنا ہے، تعلیمی، صحت عامہ، بنیادی حقوق کا تحفظ اور اس دُنیا سے غربت اور بھوک کو مٹانا ہے تو پھر نیا عمرانی معاہدہ تیار کرنا اور اس پر عمل کرناہوگا۔ اگر بڑی طاقتیں چاہتی ہیں کہ دُنیا کو اسی طرح چلانا ہے جس طرح چلاتے آئے ہیں تو یہ مشکل ہے۔ کورونا وائرس نے پیغام دیدیا اور اپنی طاقت بھی دکھا دی ہے کہ بڑی بڑی طاقتیں سر نگوں ہوگئیں۔ حکومتوں اور رہنمائوں کو کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا۔ جرمنی جیسا ملک شدید کساد بازاری کا شکار ہے۔ یورپی ممالک ایک دُوسرے سے شاکی نظر آتے ہیں، ہر ملک کو اپنی اپنی پڑی ہے۔ 

کچھ لوگ سمجھتے ہیں اس وقت چین زیادہ بہتر حالت میں، بہتر حالت میں ضرور ہے مگر چین کا اربوں ڈالر کا سامان دُنیا کے بیشتر ممالک کی بندرگاہوں میں کھڑے جہازوں میں پڑا ہے، اربوں ڈالر کا سامان چینی کارخانوں اور گوداموں میں پڑا ہے۔ غیرملکی آڈر روک دیئے گئے ہیں اور نئے آڈر ملنا بند ہوگئے ہیں ہر ایک کو ڈر ہے کہ اس سے کورونا اور پھیلے گا۔ امریکہ، بعض یورپی ممالک، آسٹریلیا، تائیوان اور چند افریقی ممالک بھی اب چین سے تجارت میں ہچکچا رہے ہیں۔ مگر عالمی منڈیوں کی صورت حال، بے روزگاری، کساد بازاری میں سستا سامان ہی فروخت ہوگا اور چین کی معیشت میں اتنی قوت ہے کہ وہ سب کو اُدھار مال فروخت کرسکتا ہے۔

یہاں بیشتر ملکوں کےسامنے مسئلہ یہ بھی ہے کہ چین سے سیاسی معاشی سطح پر بگاڑ بھی رہے ہیں اور دُوسری طرف انہیں چین کے علاوہ کوئی اور مددگار بھی نظر نہیں آتا۔ اس شش و پنج میں دُنیا کے رہنما بہتر فیصلے بھی کر سکتے ہیں اور خطرناک فیصلے بھی کر سکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نومبر سے پہلے کوئی اہم فیصلہ نہیں کر سکتے۔ تاہم دُنیا ضرور تبدیلی کی طرف گامزن ہے، سفر مشکل ہے، راستہ کٹھن ہے، یہاں منطقی اور نتیجہ خیز فیصلوں کی ضرورت ہے۔ 

فرض کرتے ہیں کہ اگر خدانخواستہ کورونا وائرس دو تین سال تک مسلسل اسی طرح آنکھ مچولی کھیلتا رہا اور دُنیا سراسیمگی کے عالم میں مبتلا رہی تو پھر بڑی تبدیلی کا امکان نظر آتا ہے۔ وہ یہ کہ دُنیا کے بڑے رہنمائوں، صلاح کاروں، اصلاح پسندوں، جمہوریت پسندوں، اشتراکیت پسندوں، لبرل اَزم پسندوں سمیت ملٹی نیشنل اداروں، عوام دوستوں، معروف دانشوروں اور دیگر ایسی جعلی شخصیات کے چہروں سے نقاب غائب ہو جائیں گے جو دُنیا کے معصوم عوام کی اُمنگوں، ضرورتوں، خواہشات اور خوابوں سے کھیلتے آئے ہیں، کچھ ہو نہ ہو کورونا یہ دِکھا دے گا۔