آپ آف لائن ہیں
بدھ21؍ذی الحج1441ھ12؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اطلاعات کے مطابق شدید مخالفت کے بعد اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کا کام روک دیا گیا ہے۔حیرت ہے سعودی عرب میں کلیسا کی تعمیر کی بات پر تو کسی عالم ِ دین نے معمولی سی سرگوشی میں بھی مخالفت نہیں کی۔متحدہ عرب امارات میں خطے کے سب سے بڑے مندر کاسنگ بنیاد رکھا گیا تو کسی کے ماتھے پر شکن نہیں آئی۔باقی مسلم ممالک میں بھی مندر تعمیر ہوتے رہتے ہیں۔

مندر کی تعمیر کامعاملہ کبھی قابلِ ذکر سمجھا ہی نہیں گیا۔مسلمانوں نے بر صغیر پر ایک طویل عرصہ تک حکومت کی اوریہاں مندر بنتے رہے۔حتیٰ کہ اورنگ زیب عالمگیر جیسے نیک اورانتہائی مذہبی بادشاہ نے بھی مندروں کی تعمیر پرکوئی پابندی نہ لگائی بلکہ برصغیر کے معروف صوفی بزرگ میاں میرؒ نے سکھوں کی دعوت پرلاہور سے امرتسر جا کر گولڈن ٹیمپل کا سنگِ بنیاد رکھا۔

محمود غزنوی جنہیں بت شکن کے نام سےیاد کرتے ہیں انہوں نے صرف سومنات کا مندر گرایا تھا،باقی کسی مندر کو کچھ نہیں کہا تھا۔اس کے گرانے کی وجہ بھی یہ تھی کہ وہ مندر سادہ لوح ہندوئوں کے ساتھ فریب کاری تھا۔۔وہاں دیواروں پر بڑے بڑے مقناطیس لگا کر درمیان میں سونے کے بت ہوا میں معلق کر دیےگئےتھے اور اسے بتوں کاکرشمہ قرار دیا گیاتھا۔فتح مکہ کے وقت بھی حضورﷺنے خانہ کعبہ کو بتوں سے پاک کیا تھا۔

لوگوں نے جو اپنے اپنے بت خانے بنائے ہوئے تھے انہیں کچھ نہیں کہا گیا تھا۔صحابہ کرامؓ تو دوسروں کی عبادت گاہوں کا اتنا خیال کرتے تھے کہ جب جناب ِعمر فاروقؓ کویروشلم میں نماز کے وقت پادریوں نے مشورہ دیا کہ وہ چرچ میں نماز پڑھ لیں تو انہوں نے صرف اس لئے اجتناب کیا کہ میرے بعد مسلمان کہیں اسے مسجد میں نہ بدل دیں اورچرچ سے کچھ فاصلے پر جاکر نماز ادا کی۔

دوسروں کی عبادت گاہوں کا خیال کرنے والے دین کے پیروکار اسلام آباد میں ایک مندر کی تعمیر پر اتنے سیخ پا کیوں رہے ہیں۔یہ میری سمجھ میں نہیں آ رہا۔

ریکارڈ کے مطابق پاکستان میں تقریباً آٹھ لاکھ ہندو آبادہیں۔اکثریت صوبہ سندھ میں ہے۔وہاں زیادہ تر ہندوعمر کوٹ، تھرپارکر، اور میرپور خاص میں مقیم ہیں۔ اسلام آباد میں رہنے والے ہندوؤں کی تعداد تقریباً 3000 ہے۔

یہ سندھ سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں،جو رفتہ رفتہ اسلام آباد آئے اور آباد ہوتے گئے۔اسلا م آباد کی اس ہندو کمیونٹی کے مطابق اسلام آباد کے گائوں سیدپور میں ایک چھوٹا سا بہت قدیم مندر تھاجسے اسلام آبا ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے بہتر بنا کر قومی ورثہ کا درجہ دےدیا۔

یہ ایک علامتی مندر ہے جو ہندوئوں کےلئے ناکافی ہے۔ان کے پاس کوئی کمیونٹی سنٹر نہیں کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں وہ دیوالی یا ہولی منا سکیں۔اس بنیاد پر 2017 میں حکومت کی طرف سے مقامی ہندو کونسل کو مندر کےلئے چار کنال زمین الاٹ کر دی گئی مگروسائل کی کمی کے سبب تعمیر کا کام شروع نہ ہوسکا۔ اب وزیراعظم نے تعمیر کے پہلے مرحلے کے لیے دس کروڑ روپے کا اعلان کیا تو بنیادیں کھودی جانے لگیں۔

سب سے پہلے تو یہ کہا گیا کہ سرکاری رقم سے مندر تعمیر نہیں ہوسکتا۔میرے خیال کے مطابق تویہ رقم انہیں اقلیتی امور کے متروکہ وقف املاک بورڈ کے اکائونٹ سے ملنی ہے۔ جہاں اقلیتوں کی مذہبی عمارات کےلئے مخصوص فنڈ موجودہے۔

اگرچہ وزارت مذہبی امور کے ترجمان نے وضاحت کی ہے کہ ہندوؤں کی عبادت گاہ کی تعمیر کے لیے فنڈز سے متعلق فیصلہ وزیر اعظم کریں گےمگراس پر زیادہ بہتر روشنی وزیر مذہبی و اقلیتی امور نور الحق قادری ہی ڈال سکتے ہیں۔

مسلم لیگ نون کی طرف سےپنجاب اسمبلی میںاس مندر کی تعمیر کے خلاف قرار داد جمع کرا دی گئی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ یہ زمین ہندو برادری کو نون لیگ کے دورِ حکومت میں ہی دی گئی تھی۔اس مندر کی مخالفت پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چوہدری پرویز الٰہی نے بھی کھل کر کی ہے۔ معلوم نہیں کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا۔

ممکن ہے کوئی سیاسی مقاصد ہوں۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اگردبائو میں آکر حکومت نے مندر کی تعمیر رکوادی تو دنیا میں عمران خان کے خلاف بھرپور انداز میں پروپیگنڈا کیا جائے گا کہ وہ مذہبی انتہا پسند بن چکے ہیں،وہ طالبان کے حامی رہے ہیں۔انہوں نےاسامہ بن لادن کو شہید قرار دیاہے اور اب مند رکی تعمیررکوادی ہے۔کچھ لوگوں کو اس بات کابھی دکھ ہے کہ مساجد کی تعمیر کےلئے تو حکومت رقم فراہم نہیں کرتی مگر مندر کی تعمیر کےلئے فراہم کررہی ہے۔

مندر کی تعمیر رکوانے کےلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی درخواست دائر کی گئی تھی مگر عدالت عالیہ نے اپنے فیصلےمیں کہا کہ پاکستان میں مسلمانوں کی طرح اقلیتوں کو بھی اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے کا حق حاصل ہے۔تازہ ترین اطلاع کے مطابق حکومت نے اسلامی نظریاتی کونسل سے رہنمائی اور مشاورت کا فیصلہ کیا ہے۔

اب دیکھنا ہے کہ نظریاتی کونسل کےاہل دانش و بینش کیا فرماتے ہیں۔وہاں بھی تبدیلی کی اشد ضرورت ہے۔

اگر آج ہم نے پاکستان میں نئے مندروں کی تعمیر پر پابندی لگادی تو پھر انڈیا کو مساجد کی تعمیر پر پابندی لگانے سے کون روک سکتا ہے۔ وہاں پہلےہی مودی حکومت کی پالیسیوں نے مسلمانوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔اگر ہم نے یہاں ہندو کمیونٹی کو اس کے حقوق نہ دیے تو بھارت کے ساتھ کس منہ سے وہاں کی مسلم آبادی کے حقوق کی بات کر یں گے۔