آپ آف لائن ہیں
جمعرات13؍ صفر المظفّر 1442ھ یکم اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ذی الحج کا چاند اپنے ساتھ جوش و خروش، خوشیوں اور مسرّتوں کی نوید لے کر آتا ہے اور دس ذی الحج کو تمام اُمتِ مسلمہ عیدالاضحی مذہبی جوش اور جذبے کے ساتھ مناتی ہے۔ یہ عید حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسوئہ حسنہ کی تائید اور تجدید ہے اور شریعت الٰہی کی تعمیر و تصویر ہے یہ عید قرباں ہر سال ہمیں قربانی کا فلسفہ سمجھانے اور یاد دلانے آتی ہے۔ 

عید قرباں کا فلسفہ یہ ہے کہ اپنی تمام تر خواہشات کو بالائے طاق رکھ کر حکم رَبی کے آگے سر جھکانا۔ ہر سال ہم تجدید عہد بھی کرتے ہیں بحیثیت مسلمان ہمیں قربانی کے اصل مفہوم کو سمجھنا چاہئے ،کیونکہ عیدالاضحی کا مفہوم اللہ کی راہ میں جانوروں کو قربان کر دینے سے ختم نہیں ہو جاتا بلکہ اس جذبے، احساس اور عہد پر پورے سال عمل پیرا رہا جائے تو ہمیں ذہنی اور رُوحانی آسودگی حاصل ہو سکتی ہے۔ 

اس کے لئے سب سے پہلے نمود و نمائش اور احساسِ برتری سے چھٹکارا پانا ہوگا تب ہی ہم اپنے اردگرد رہنے والوں کے مسائل سے پوری طرح آگاہ ہو ں گے۔ ہر کوئی اپنی استطاعت کے مطابق قربانی کرتا ہے۔ قربانی کا مقصد دِکھاوا ہرگز نہیں اور نہ ہی قربانی کا فلسفہ صرف عیدالاضحی منا لینے سے مشروط یا محدود ہے بلکہ یہ عید ہمیں ہر سال دُوسروں کی مدد کرنے اور اپنی عزیز ترین شے اللہ کی راہ میں قربان کرنے کے جذبے کو نئی رُوح بخشنے کیلئے آتی ہے تا کہ ہم پورا سال اس جذبے پر کاربند رہیں۔

ذی الحج کا چاند نظر آتے ہی مرد حضرات قربانی کے سلسلے میں سوچ و بچار میں لگ جاتے ہیں کہ کیسا جانور اور کہاں سے خریدا جائے جب کہ خواتین گھر کی صفائی ستھرائی، تزئین و آرائش، مختلف انواع و اقسام کے کھانوں کی تراکیب کے ساتھ ساتھ اپنے اور گھر والوں کے لباس کی تیاریوں میں مصروف ہو جاتی ہیں اور بچّے بھی انتہائی جوش و خروش کے ساتھ قربانی کے جانور کا انتظار شروع کر دیتے ہیں، مگر اس بار عیدالاضحی کورونا کی وباء کی وجہ سے شاید ہمیشہ کی طرح گہما گہمی اور جوش و جذبہ نظر نہ آئے۔

مویشی منڈیوں میں بھی پابندیوں کی وجہ سے ہمیشہ جیسا رش نہ ہو۔ بچّے بھی پریشان ہیں کہ قربانی کا جانور کب آئے گا۔کورونا کی وباء اور لاک ڈائون کی وجہ سے لوگ صحت کو لاحق خطرات کے ساتھ ساتھ مالی مسائل کا پہلے سے زیادہ شکار ہیں۔ ان حالات میں روزانہ اُجرت پر کام کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد پریشانی میں مبتلا ہے۔ آج کل متوسط طبقہ بہت زیادہ مشکلات کا شکار ہے۔ بہت سے پرائیویٹ اداروں نے ملازمین کو فارغ کر دیا ہے۔ لوگوں کے ذاتی کاروبار بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ 

ایسے میں صاحبِ حیثیت افراد کی ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے۔ کیوںکہ زندگی کی خوشیوں پر صرف ان کا حق نہیں ہے خوشیاں اور آسانیاں تو تقسیم کرنے کی چیز ہیں۔ یہ تو تقسیم کرنے سے مسلسل بڑھتی ہیں۔ اسی لئے ہمارے دین نے حقوق العباد کی ادائیگی پر زور دیا ہے۔ عید قرباں پر دوست احباب اور غریب غرباء اور مساکین میں گوشت کی تقسیم ہمیں بندوں کے حقوق ادا کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کےلیے قربانی کرنا اور پھر تقسیم کرنا دراصل ہمیں اس کی عطا کردہ نعمتوں اور انعامات کو دُوسروں میں تقسیم کرکے حاصل ہونے والی خوشی سے لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اس طرح دوستوں اور عزیزوں سے تعلقات کی مضبوطی اور ضرورت مندوں کی مدد کےلیے ہم ایک ہاتھ آگے بڑھاتے ہیں تو دُوسرے ہاتھ سے مزید نعمتیں سمیٹ لیتے ہیں۔ قربانی صرف جانور کو قربان کرنا نہیں قرآن پاک میں ارشاد ہے۔’’ان کا گوشت اللہ تک پہنچتا ہے اور نہ ہی ان کا خون۔ لیکن اس کے پاس تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔‘‘ہمیں عید قرباں پر گھر کی صفائی، کھانوں کی نت نئی تراکیب اور قربانی کے جانور کا اہتمام کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے بچّوں پر بھی توجہ دینی چاہئے۔ 

اپنے بچّوں کو بتائیں، سمجھائیں اور محسوس کروائیں کہ قربانی صرف جانور کو خریدنا، اسے کھلانا پلانا، گھمانا اور ذبح کر دینا ہی نہیں ہے بلکہ قربانی کا مقصد دُوسروں کو ان کا حق پہنچانا بھی ہے۔ ان کا حق ادا کرنا بھی ہے۔ بچّوں کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کا واقعہ تفصیل سے بتائیں۔ انہیں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی فرماں برداری اور جذبہ سمجھائیں۔

نئے کپڑے پہن کر قربانی کر کے دوست احباب اور غریبوں میں قربانی کے گوشت کی تقسیم کے بعد ہمارا کام ختم نہیں ہو جاتا بلکہ اس دن سے نئے جذبے کے ساتھ کام کا آغاز ہوتا ہے۔ قربانی صرف جانور کی نہیں بلکہ قربانی اپنے وسائل، وقت اور آرام کی بھی ہوتی ہے جو ہم دُوسروں کو سہولت پہنچا کر، دُوسروں کو خوشی میں شامل کر کے اور دُوسروں کو اپنا وقت دے کر بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ 

ہمارے اردگرد، قرب و جوار میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جنہیں مدد کی ضرورت ہے۔ فی زمانہ تو ان کی تعداد خاصی زیادہ ہے۔ اس کے لئے ضروری نہیں کہ کوئی خود آ کر ہم سے مدد کرنے کا سوال کرے۔ ہمیں خود ہی آگے بڑھ کر ایسے لوگوں کی مدد کرنا ہوگی۔ قربانی کا اصل مفہوم بھی یہی ہے کہ اپنے اندر جذبہ پیدا کریں، اپنی ضروریات کو محدود کریں، فضول خرچی اور دکھاوے سے پرہیز کریں تو بے وسیلہ لوگوں کی مدد کی جا سکتی ہے۔ یہ بھی قربانی ہے۔ کسی کے دُکھ اورتکلیف کو محسوس کرنا کسی کی پریشانی کو دُور کرنا اور اپنے حصے کی خوشیاں دُوسروں کی خالی جھولی میں ڈال دینا بھی قربانی ہے۔بے آسرا، بے سہارا، زمینی اور آسمانی آفات کی زَد میں آئے ہوئے لوگوں کی مالی اور جذباتی مدد کرنا۔ 

اللہ کی خوشنودی کی خاطر انہیں اپنی خوشیوں میں شریک کرنا بھی قربانی ہی ہے۔ حج کا آخری رُکن بھی قربانی ہے۔ کورونا کی وباء کی وجہ سے اس سال مسلمانانِ عالم کی بڑی تعداد وسائل اور خواہش رکھنے کے باوجود خانہ کعبہ میں حج ادا نہیں کر سکے گی۔ صرف مخصوص اور محدود تعداد میں مسلمان یہ شرف حاصل کر سکیں گے۔ ایسے حالات میں حج کی خواہش رکھنے والے صاحبِ ثروت چاہیں تو اس سال قربانی کا بھرپور ثواب حاصل کر سکتے ہیں۔اس عید پر قریباً ہر گھر بریانی، قورمہ اور باربی کیو کی خوشبو سے مہک رہا ہوتا ہے۔ خیال رکھیں کہ گھر کے افراد کے ساتھ ساتھ گھر کے ملازمین بھی ان کھانوں سے بھرپور لطف اندوز ہو سکیں۔ 

دینی اور مذہبی تہوار ہمیں دُوسروں میں خوشیاں بانٹنے کا درس دیتے ہیں۔ بچّوں اور نوجوانوں کو ان کاموں میں ضرور شامل کرنا چاہئے۔ اس طرح ان میں ایثار اور قربانی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے جو پورے معاشرے پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔ یوں یہ نوجوان صرف عید، بقرعید کے موقع پر ہی نہیں بلکہ سارا سال دُوسروں کی مدد کرنے اور ان کے کام آنے کی کوشش کریں گے۔

کورونا کی وباء کی وجہ سے اس سال بقرعید پر کچھ اضافی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی۔جانور کی خریداری کے لیےجو بھی منڈی جا رہا ہو لازم ہے کہ وہ ماسک لگا کر اور دستانے پہن کر جائے۔ ٭ہاتھوں کو دھونے کے ساتھ سینیٹائزر (Sanitizer) کا استعمال بھی کریں۔ ٭منڈی سے واپس آ کر لباس تبدیل کریں اور شاور لیں۔ ٭ بچوں اور بزرگوں کو جانور کی خریداری کےلیے منڈی نہیں جانا چاہئے۔ ٭ حکومت کی ہدایات کے مطابق SOPs پر عمل لازمی کرنا ہوگا۔ ٭خواتین بلا ضرورت بازاروں کے چکر نہ لگائیں۔ 

کوشش کر کے ایک بار میں ہی تمام اشیاء خرید لیں۔ ٭ماسک اور دستانے پہن کر باہر نکلیں۔ ٭بچّوں کو بازار لے کر نہ جائیں۔ ٭محلے میں اجتماعی قربانی ہو تو ہجوم نہ لگائیں۔ اور نہ ہجوم کا حصہ بنیں۔ ٭لوگوں سے ہاتھ نہ ملائیں، گلے نہ لگیں۔ ٭زیادہ بڑی دعوتوں کا اہتمام نہ کریں۔ ٭تازہ گوشت کے علاوہ اچھے اچھے کھانے تیار کر کے پاس پڑوس میں بھیجے جا سکتے ہیں۔ ٭طبّی نکتہ سے دیکھاجائے تو ایک نارمل انسان کو قریباً 155 گرام گوشت روزانہ کافی ہوتا ہے۔ ٭گوشت میں ہمیں بہترین پروٹین ملتا ے اس میں فولاد کی مقدار بھی وافر ہوتی ہے۔ 

خواتین کو چاہئے کہ گوشت کے علاوہ کلیجی بھی ضرور پکائیں۔ اس میں فولاد کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اس لئے یہ خون کی کمی کا شکار افراد کےلیے بہترین غذا بھی ہے اور دوا بھی۔ گوشت کو زیادہ چکنائی یا چربی کے ساتھ نہ پکائیں۔ کولیسٹرول کی زیادتی کا شکار افراد کے لئے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ بہت تیز مرچ مسالے بھی معدے کی تکلیف کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس لئے احتیاط ضروری ہے۔ 

گوشت کے ساتھ کچی سلاد اور سبزیاں بھی استعمال کریں۔ اعتدال ہر چیز میں بہترین ہے۔عیدالاضحی پر اپنے گھروں سے خوشی، محبت ،مسرت اور روشنی کی تھوڑی سی مقدار سے کوشش کریں کہ کسی غریب کے گھر میں روشنی کا چھوٹا دیپ جلا دیں، کسی بیوہ کی آنکھ میں خوشی کا آنسو آجائے یتیموں کی محرومیوں کو چہرے کی چمک میں بدل دیں، کسی مریض کی تکلیف کو اُمید کی روشنی میں تبدیل کر دیں، تو پھر اس عیدالاضحی پر عہد کریں کہ ہم اپنی زندگیوں میں میانہ روی اختیار کرتے ہوئے ایثار و ہمدردی کے جذبے کے ساتھ لوگوں کی مدد کریں گے۔ 

دیکھئے پھر کیسی رُوحانی آسودگی حاصل ہوتی ہے۔ کسی نا آسودہ کی آنکھ میں آنسو کی جگہ خوشی کی چمک ہی دراصل قربانی کی معراج ہے۔ آگے بڑھیں اور خوشیوں کے جگنوئوں کو اپنی مٹھی میں بند کرلیں اور سارا سال اس کی نرم، ٹھنڈی اور منزہ روشنی سے توانائی حاصل کریں۔اللہ سبحانہ تعالیٰ ہماری قربانیوں کو قبولیت سے سرفراز فرمائے اور ہمیں اپنے حفظ و امان میں رکھے۔