آپ آف لائن ہیں
ہفتہ8؍ صفر المظفّر 1442ھ 26؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

نیشنل فنانس کمیشن پر اصل اختلافات کیا ہے؟

سہیل وڑائچ

ماجد نظامی

حافظ شیراز قریشی، وجیہہ اسلم

فیض سیفی، عبداللہ لیاقت

نیشنل فنانس کمیشن کا قیام آئین کے آرٹیکل (1)160 کے تحت عمل میں لایا گیا ہے۔اس شق کے مطابق’’ یوم آغاز سے چھ ماہ کے اندر ،اور اس کے بعد ایسے وقفوں سے جوپانچ سال سے متجاوز نہ ہوں صدر ایک قومی مالیاتی کمیشن تشکیل کرے گا جو وفاقی حکومت کے وزیر مالیات(وزیر خزانہ) ،صوبائی حکومتوں کے وزرائے مالیات (وزرائے خزانہ) اور ایسے دیگر اشخاص پر مشتمل ہو گا جنہیں صدر صوبوں کے گورنروں سے مشورے کے بعد مقرر کرے ۔‘‘ اس کمیشن کا بنیادی کام ملک بھر کی محصولات کی خالص آمدنی کو وفاق اور صوبوں میں تقسیم کرنا اور وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی حکومتوں کو امدادی رقوم دینااوربنیادی مقصد صوبوں کی مالی حالت کو مستحکم کرنا ہے۔ 

اگر آسان الفاظ میں بیان کیاجائے تو یہ ایک ایسا ادارہ ہے جو پورے ملک کی حاصل شدہ آمدنی وفاق اور صوبوں میں طے شدہ فارمولہ کے تحت تقسیم کرتاہے۔ وزیر خزانہ قومی مالیاتی ایوارڈ کا چیئرمین ہوتا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد دسمبر 1947میں صوبوں میں محاصل کی تقسیم کا فارمولاسر’ جیریمی ریزمین‘ نے ترتیب دیا جو 1952میں باقاعدہ طور پر اختیار کر لیا گیا۔ 

قیام پاکستان کے بعد وزیر اعظم لیاقت علی خان نے 1947ء میں معاشی اختلافات کے تدارک کے لئے اپنے سرکاری ملازم جیریمی ریزمین سے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مابین محصولات کی تقسیم کے لئے طریقہ کار وضع کریںجو 1952 میں ریز مین ایوارڈRaisman Program کے نام سے تشکیل دیا گیا۔ اس ایوارڈ کے تحت سیلز ٹیکس کا 50 فیصد حصہ وفاقی حکومت کو دیا گیا۔ 1955ء پاکستان کو ون یونٹ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کا نام دیا گیا تو 1961 اور1964کے دو ایوارڈز میں مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان میں اس پروگرام کے تحت ہی محصولات تقسیم ہوئے۔

2009 ء میں پیپلزپارٹی کے دور حکومت محاصل کی تقسیم کے فارمولا میں تبدیلی ہوئی اوروفاق کے حصے میں کمی کی گئی ۔مرکز کے ساتھ ساتھ پنجاب،پی کے اور سندھ حکومت نے بھی اپنے حصوں میں سے کچھ کی قربانی دی۔پنجاب کے حصے میں سے1.27 فیصد، سندھ کے حصہ سے 0.39جبکہ کے پی کے کاحصہ 0.26فیصد کم ہوا۔اس تبدیلی سے براہ راست فائدہ بلوچستان کو ہوا۔ 

بلوچستان کا فارمولا 2006ء میں 5.22 فیصد تھا جو بڑھا کر 9.09ء کر دیاگیا۔2009ء ہی میں پنجاب کا این ایف سی میں حصہ5 1.74 فیصد، سندھ کا 24.55فیصد اور کے پی کے14.62فیصد طے پایا۔ 2010ء میں  18ویں ترمیم کے ذریعے ایک اورشق کا اضافہ کیا گیا جس کے تحت قومی مالیاتی کمیشن کے ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ سابقہ ایوارڈ میں  دیئے گئے حصے سے کم نہ ہو گا"

7واں این ایف سی ایوارڈ پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل رہا ۔ ملک کے پہلی بار آبادی کے لحاظ سے چھوٹے صوبوں سندھ ، بلوچستان اور کے پی کے کے مطالبات کو تسلیم کرلیا گیا ۔ اس ایوارڈ کی سب سے نمایاں اور امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ اس نے محصول کے کثیر جہتی تقسیم کے معیار پر عمل کیا گیا۔ آبادی کے علاوہ دوسرے پیرامیٹرز کو بھی شامل کیا جیسے غربت ، ترقی ، اور الٹا آبادی کثافت کے معیار ، جیسا کہ سندھ ، کے پی کے اور بلوچستان نے مطالبہ کیا تھا۔ 

بلوچستان کا رقبہ سب سے بڑا اور آبادی میں کم، انہوں نے محصولات کی تقسیم کے فارمولے میں شامل کرنے کے لئے الٹا آبادی کثافت کے معیار کا مطالبہ کیا۔پنجاب چاہتا تھا کہ آبادی واحد معیار رہے کیونکہ یہ صوبے کے فائدے میں ہے۔ تمام اسٹیک ہولڈرز نے صوبوں میں حقیقی منتقلی کے بہاؤ کو بڑھانے کے لئے محصولات کی وصولی کی لاگت کو 1 فیصد (پہلے یہ 5 فیصد تھا) کم کرنے کا فیصلہ کیا ۔ نتیجہ یہ تھا کہ تقسیم پول سے صوبائی حصہ پہلے سال میں 47.5 فیصد سے بڑھ کر56 فیصد اور ایوارڈ کے باقی تمام سالوں میں57.5 فیصد ہوگیا۔ 

تمام اسٹیک ہولڈرز ایوارڈ کے پہلے سال میں بلوچستان کو صوبائی پول کا83 ارب روپے (9.09فیصد) مہیا کرنے پر متفق تھے۔ وفاقی حکومت نے صوبوں کے لئے اپنا10 فیصد سے زیادہ حصہ چھوڑ دیاجس سے صوبوں میں محصولات کی آمد میں اضافہ ہوا۔ اس ایوارڈ سے فائدہ اٹھانے میں پہلے نمبر پر بلوچستان تھا جس کا اضافی بجٹ 175 فیصد ہے جبکہ دوسرے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والوں میں کے پی کے کو79 فیصد ، سندھ میں 61 فیصد ، اور پنجاب کو 48 فیصد اضافی بجٹ ملا۔

اعتراضات کیا ہیں؟:

صدر مملکت عارف علوی نے23 اپریل2020 ء کو دسویں نیشنل فنانس کمیشن تشکیل دیا جس کے چیئرمین مشیر خزانہ حفیظ شیخ نامزد کئے گئے جنہیں بعد میں کمیشن سے الگ کر دیا گیا۔ کمیشن میں مشیر خزانہ سمیت چاروں صوبائی وزرا خزانہ شامل ہوتے ہیں۔ پنجاب سے طارق باجوہ، سندھ سے ڈاکٹر اسد سعید، کے پی کے سے مشرف رسول اور بلوچستان سے جاوید جبار کو کمیشن کا حصہ بنایا گیا تھا مگر بلوچستان کے نامزد کردہ جاوید جبارنے استعفا دیدیا۔ان پر اعتراض کیا گیاکہ جاوید جبار چونکہ اقتصادی ماہربھی نہیں ہیں لہٰذا وزیراعلیٰ جام کمال نے انھیں کیوں رکن نامزد کیا ۔یہ بھی تنقید سامنے آئی ہے کہ سندھ کے رہنے والے شہری کو بلوچستان کی طرف سے کیسے نامزد کیا جا سکتا ہے ؟

صوبہ سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد شاہ نےصد عارف علوی کے کمیشن ممبران کےمقر ر کرنے پر اعتراضات کئےان کے مطابق آئینی طور پر صدر کمیشن ممبران سے متعلق گورنرز اور صوبوں کے وزراء اعلیٰ سے مشاورت کے بعد صوبوں کے ممبران مقرر کرنے کی منظوری دیتا ہے جبکہ صدر پاکستان کی طرف سے اس معاملے پر کوئی رائے نہیں لی گئی۔

وفاق کا اعتراض ہے جس کا وزیر اعظم عمران خان نے ذکر بھی کیا کہ صوبوں کو مالی وسائل کی تقسیم کے بعد وفاق کے بعد کچھ نہیں بچتا اور وفاق دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔ اس شکوے کے اظہار کے بعد لگتاہے کہ وفاقی حکومت صوبوں کے وسائل میں کمی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جو صوبوں کو کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ۔ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کےمطابق صوبوں کا حصہ کم نہیں کیا جا سکتا۔

یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ وفاقی حکومت جس کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو مرکزیت پسند ہوتی ہے۔مسلم لیگ نواز بھی صوبوں کا حصہ بڑھانے پر یقین نہیں رکھتی تھی اور کسی نہ کسی طرح اسے طول دیتی رہی۔

وفاق کا کہنا ہے کہ سابق فاٹا چونکہ اب خیبر پختوانخو کا حصہ بن چکا ہے اس کے علاوہ سی پیک میں سیکورٹی کے انتظامات اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے وفاق کا مطالبہ ہے 100میں سے 7فیصد ان مقاصد کے لئے علیحدہ دیا جائے جبکہ93فیصد حصہ وفاق اور صوبوں میں تقسیم کیا جائے۔13جولائی کو سینیٹر بیرسٹر علی محمد سیف کو این ایف سی ایوارڈ ترمیمی بل پیش کرنے کی تحریک مسترد ہو گئی۔تحریک کے مطابق طے شدہ فارمولے کی بجائے حالات اور واجبات کو دیکھتے ہوئے مالی وسائل کی تقسیم کی جانی چاہئے۔تحریک کے حق میں 17جبکہ مخالفت میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، جے یو آئی ف اور بی این پی مینگل کےسینٹرز نے 25و وٹ ڈالے۔

2020-21ء میں صوبوں کو کیاملے گا؟:

صوبوں میں محاصل کی تقسیم ہر مالی سال میں کمی بیشی کیساتھ ہوتی نظر آتی ہے۔ 2019-20 کے بجٹ میں صوبوں کو دئیے گئے مالی وسائل کی کل رقم ساڑھے 32 لاکھ ملین روپے تھی جسے بعد میں تبدیل کرکے 24 لاکھ ملین کردیاگیاتھا۔تاہم اس تبدیلی کو دیکھتے ہوئے موجودہ بجٹ میں صوبوں کے ٹیکس شیئر میں اضافہ کیا گیا۔

مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں تقسیم کے فارمولے میں معمولی ردوبدل کیا گیا۔ سرکاری دستاویز کے مطابق 2020 کے بجٹ میں وفاق کو ٹیکسز کی مد میں پنجاب کو ملنے والی رقم میں گزشتہ سال کے مقابلے میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔اسی طرح سندھ اور کے پی کے کو وفاق کی جانب سے ملنے والی رقم اضافے کیساتھ ملی جبکہ صرف بلوچستان کو ملنے والے حصے میں کمی دیکھنے میں آئی۔ 

اسی طرح اگر 2018 اور 2019ء کے بجٹ کی بات کی جائے تو پنجاب ،سندھ اور کے پی کے فنڈز میں کمی ہوئی جبکہ بلوچستان کے فنڈز میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ حالیہ وفاق اور صوبوں کے اعتراضات کو مد نظر رکھا جائے وفاقی حکومت کو صوبوں کے اختیارات میںخودمختاری اور اضافہ کرناچاہئے اور صوبوں کو بھی اس امر کو یقینی بناناچاہئے کہ وفاق سے ساتھ مل بیٹھ کر مسائل حل کیاجائے۔

این ایف سی ایوارڈ میں وفاق اور صوبوں کے حصے کا جائزہ :

قومی مالیاتی کمیشن کی تشکیل کے بعد وفاق اور صوبوں کے حصوں میں اکثر اوقات اختلافات سامنے آتے رہے ۔اس کمیشن کی تشکیل سے اب تک دوبار بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئی جس میں ایک بار وفاق اور ایک بار صوبوں کے حصے میں اضافہ کیا گیا۔ پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں صوبوں کے فنڈز میں اضافہ کیاگیاجبکہ نگران حکومت 1997ء میں وفاق کے حصے میں بڑا اضافہ کیا گیا۔

1974ء میں پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں ہونے والے پہلے این ایف سی ایوارڈ میں وفاق کا حصہ 20 فیصد تھا جبکہ صوبوں کا حصہ 80فیصد رکھا گیا۔ اگلے تین این ایف سی ایوارڈ میں یہ حصہ تبدیل نہیں کیاگیا اور بغیر کسی کمی بیشی کے اس فارمولے پر عملدرآمد جاری رہا ۔1997کے این ایف سی ایوارڈ نگران حکومت میں وزیر اعظم ملک معراج خالد کی زیر سرپرستی صوبوں کا حصہ کم کردیاگیا اور وفاق کے حصے کو بڑھادیا گیا۔ اس ایوارڈ میں وفاق کا حصہ 42.5فیصد بڑھا دیاگیا۔ 

جبکہ صوبوں کے حصہ 80فیصد سے کم کرکے 37.5 فیصد کر دیا گیا۔ 2009ء میں پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں ایک بار پھر قومی مالیاتی کمیشن نے وفاق اور صوبوں کے حصوںمیں ردوبدل کیاجس کے بعد وفاق کے حصے میں واضح کمی کی گئی اور صوبوں کو بڑا حصہ کر دیا گیا۔ اس بار ایف سی ایوارڈ کی تقسیم کے تحت قومی وسائل میں سے وفاق کو 42.5 فیصد حصہ دار بنایا گیا جبکہ صوبوں کے حصہ 37.5فیصد بڑھا کر 57.5فیصد کردیاگیا۔ یوں دیکھاجائے تو وفاق کے حصے میں 20 فیصد کمی کی گئی جو تاحال قائم ہے۔ پیپلزپارٹی واحد حکومت رہی جس نے صوبوں کی خود مختاری کی بات کی اور اختیارات میں صوبوں کے حصے کوبڑھانے کیلئے بھی پیش پیش رہی ۔

ضلعوں کو حصہ دینا ضروری

وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے مطابق این ایف سی فارمولاکو ازسر نو ترتیب دیا جانا چاہئے۔صوبے جہاں مالی وسائل میں اپناحصہ لے رہے ہیں وہیں ذمہ داریاں بھی اٹھانی چاہئیں۔ ملکی دفاع کے اخراجات میں پورے ملک کا دفاع کیاجاتاہے تو صوبوں کو چاہئے کہ وہ دفاع کی مد میں اپنا حصہ ضرور ڈالیں مگر صورتحال یہ ہے کہ دفاعی اخراجات کی ادائیگی صرف وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

ان کے مطابق جتنے بھی میگا پراجیکٹس ملک بھر میں شروع ہوتے ہیں ان سے فائدے تمام صوبے اٹھاتے ہیں مگر ان پراجیکٹس کی ذمہ داری صرف وفاق پر ڈال دی جاتی ہے۔یہ تجویز بھی دی کہ قرضوں کی ادائیگی فیڈریشن کی ذمہ داری ہے جبکہ یہ قرضے ہر صوبے کو کسی نہ کسی مد میں ملتے ہیں اور صوبے اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

یوں انکی تینوں تجاویز دفاعی اخراجات،قرضوں کی ادائیگی اور میگا پراجیکٹس میں اصولی موقف اپنایاگیاکہ صوبے مجوزہ اخراجات میںاپنا حصہ ڈالیں تاکہ وفاق کے اخراجات میں کمی ہو سکے۔18ویں ترمیم میں اختیارات وفاق سے صوبوں کو دے دئیے گئے مگر صوبوں نے ضلعوں سے تمام اختیارات واپس لے لیے۔ اقتدار کی نچلی سطح پر منتقلی کا مطلب ہے کہ صوبوں سمیت اضلاع کو مالی اور انتظامی اختیارات دئیے جانے چاہئیں۔

20 - 2019 میں صوبوں کو ملنے والی رقم

 

محاصل کی تقسیم کے فارمولا 2009ء کے مطابق خیبر پختونخوا کے حصہ میں 0.26فیصد کمی ہوئی ۔خیبر پختونخوا کا این ایف سی میں حصہ 14.62فیصد طے پایا۔اس فارمولے کو مدنظر رکھاجائے تو پنجاب کو قومی آمدنی میں سب سے زیادہ حصہ ملتاہے ۔سندھ دوسرے ،کے پی کے تیسرے اور بلوچستان آخری نمبر پر دیکھنے میں آتاہے۔قیام پاکستان سے اب تک محصولات کی تقسیم پہلے سے کمی دیکھنے میں آئی ۔1951ء میں خیبر پختونخوا کا حصہ 15.32فیصد تھا جو کم ہو کر 14.62فیصد رہ گیاہے۔این ایف سی کے قیام کے بعد خیبر پی کے کاپہلا این ایف سی ایورڈ 13.39% حصہ طے پایا جو بڑھ کر اب 14.62 ہوچکاہے۔ وفاق کی جانب سے بجٹ 2018-19 میں دئیے جانے والے حصے میں کے پی کے 426 ارب روپے ملے اور اگلے مالی سال 2019-20میں یہ379 ارب روپے ہوگئی۔حالیہ بجٹ میں خیبر پی کے کا حصہ477 ارب روپے حصہ دیا گیا ہے۔ 

گزشتہ دونوں این سی کے نئے ٹی او آرز میں گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور سابقہ فاٹا کو وسائل کی فراہمی سے نکال دیا گیا۔ٹی او آرز کے مطابق ان علاقوں کو وسائل فراہم کرنا مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہو گی۔ سکیورٹی اور قدرتی آفات پر اٹھنے والے اخراجات کو بھی ٹی او آرز سے نکال دیا گیا۔نوٹیفیکیشن کے مطابق ان شعبوں کو وسائل بھی وفاقی حکومت اپنے حصے سے ادا کرے گی۔نئے ٹی اور آرز کے مطابق کمیشن صوبوں اور وفاق کے مالیاتی اخراجات کی تقسیم کا فارمولا طے کرےگا۔یوں دیکھا جائے تو وفاق کسی نہ کسی طرح اپنے وسائل میں اضافہ کررہا ہے ۔

سرکاری دستاویز کے مطابق 2020 کے بجٹ میں وفاق کو ٹیکسز کی مد میں پنجاب کو ملنے والی رقم میں گزشتہ سال کے مقابلے میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔اسی طرح سندھ اور کے پی کے کو وفاق کی جانب سے ملنے والی رقم اضافے کیساتھ ملی جبکہ صرف بلوچستان کو ملنے والے حصے میں کمی دیکھنے میں آئی۔اسی طرح اگر 2018 اور2019ءکے بجٹ کی بات کی جائے تو پنجاب ،سندھ اور کے پی کے فنڈز میں کمی ہوئی جبکہ بلوچستان کے فنڈز میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

2009 ء میں پیپلزپارٹی کے دور حکومت محاصل کی تقسیم کے فارمولا میں تبدیلی ہوئی اوروفاق کے حصے میں کمی کی گئی ۔مرکز کے ساتھ ساتھ پنجاب،کےپی کے اور سندھ حکومت نے بھی اپنے حصوں میں سے کچھ کی قربانی دی۔پنجاب کے حصے میں سے 1.27فیصد کم ہوا اور2009ء ہی میں پنجاب کا این ایف سی میں حصہ51.74 فیصدطے پایا۔ 2010ء میں 18ویں ترمیم کے ذریعے ایک اورشق کا اضافہ کیا گیا جس کے تحت قومی مالیاتی کمیشن کے ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ سابقہ ایوارڈ میں دیئے گئے حصے سے کم نہ ہو گا" صوبوں میں فنڈز کی تقسیم کو درج ذیل فارمولے کے تحت تقسیم کیاجاتا ہے:

٭آبادی کے تناسب سے 82فیصد

٭ غربت یا پسماندگی کے تناسب سے 10.3فیصد

٭ٹیکسوں کی وصولی اور پیداوار کے تناسب سے 5فیصد

٭آبادی کی گنجائش 2.7فیصد

اس فارمولے کو مدنظر رکھاجائے تو پنجاب کو قومی آمدنی میں سب سے زیادہ حصہ ملتا ہے۔ پنجاب کے علاوہ باقی صوبوں کو اس فارمولہ پر تحفظات ہیں ۔قیام پاکستان کے بعد 1951 سے لیکر اب تک پنجاب کو ہی سب زیادہ حصہ ملتارہاہے مگر یہ حصہ قریباً 60 فیصد سے کم ہوتے ہوتے 51.74فیصد رہ گیاہے۔اسی طرح اگر اعدادوشمار کو دیکھاجائے تو گزشتہ دو بجٹ میں پنجاب کوملنے والے وسائل میں کمی ہوئی۔2018-19 کے بجٹ میں پنجاب کو1281ارب روپےحصہ دیا گیا جو 2019-20 میں کم ہوکر1135ارب روپے کردیا گیا۔موجودہ بجٹ میں مالی سال 20-21میں صوبہ پنجاب کوبڑھا کر 1439 ارب روپے حصہ دیاگیا ۔یہ حصہ گزشتہ سال کے مقابلے میں قریباً تین لاکھ ملین زیادہ ہے۔ 

 پیپلزپارٹی کے دور حکومت محاصل کی تقسیم کے فارمولا میں وفاق کے حصے میں کمی کی گئی اور صوبوں کے حصوں میں اضافہ کردیاگیا ۔مرکز کے ساتھ ساتھ پنجاب،کےپی کے اور سندھ حکومت نے بھی اپنے حصوں میں سے کچھ کی قربانی دی، سندھ کے حصہ سے 0.39فیصد کم ہوا اورسندھ کا 24.55فیصد مقرر کیاگیا۔قیام پاکستان کے بعد 1951ء میں سندھ کا حصہ24.14 فیصد تھا جو اب بڑھ کر 24.55فیصد کردیاگیاہے۔ صوبہ سندھ کے محاصلات کے دو سال کی بات کی جائے تو 2018-9 میں سندھ کو 648 ارب روپے وفاق کی جانب سے دئیے گئے جو 2019-20 میں قریباً ایک لاکھ ملین روپے کم کردیاگیا۔موجودہ بجٹ میں742 ارب روپے سندھ کا شیئر رکھاگیا ۔

موجودہ محاصلات کی تقسیم کی بات کی جائے تووفاق کیساتھ ساتھ صوبوں نے بھی اس فارمولے پر اعتراض کئے ۔صوبہ سندھ کے وزیر اعلیٰ سیدمرادشاہ نےصد عارف علوی کے کمیشن ممبران کےمقر ر کرنے پر اعتراضات کئےان کے مطابق آئینی طور پر صدر کمیشن ممبران سے متعلق گورنرز اور صوبوں کے وزراءاعلیٰ سے مشاورت کے بعد صوبوں کے ممبران مقرر کرنے کی منظوری دیتا ہے جبکہ صدر پاکستان کی طرف سے اس معاملے پر کوئی رائے نہیں لی گئ۔ 

وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ نے قومی مالیاتی کمیشن کے نئے نوٹیفکیشن پر بھی اعتراض کیاکہ صوبائی فنڈز سے رقوم کاٹنا آئین کیخلاف جبکہ ٹی او آرز تین شقیں آئین سے متصادم ہیں اور آئین کے آرٹیکل 160 کی ذیلی شقوں سے متصادم ہیں۔

سندھ حکومت نے یہ بھی کہاکہ قومی سطح کے منصوبوں میں وفاق صوبوں کے مالیاتی شیئر سے کٹوتی نہیں کرسکتا اوروفاق کے اخراجات صوبوں کے فنڈز سے نہیں کاٹے جاسکتے۔

وفاق کا اعتراض ہے جس کا وزیر اعظم عمران خان نے ذکر بھی کیا کہ صوبوں کو مالی وسائل کی تقسیم کے بعد وفاق کے بعد کچھ نہیں بچتا اور وفاق دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔اس شکوے کے اظہار کے بعد لگتاہے کہ وفاقی حکومت صوبوں کے وسائل میں کمی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جو صوبوں کو کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ۔ساتویں این ایف سی ایوارڈ کےبعد صوبوں کا حصہ کم نہیں کیاجاسکتا۔

یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ وفاقی حکومت جس کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو مرکزیت پسند ہوتی ہے۔مسلم لیگ نواز بھی صوبوں کا حصہ بڑھانے پر یقین نہیں رکھتی تھی اور کسی نہ کسی طرح اسے طول دیتی رہی۔

2009 ء میں پیپلزپارٹی کے دور حکومت محاصل کی تقسیم کے فارمولا میں تبدیلی ہوئی تووفاق کے حصے میں کمی کردی گئی ۔مرکز کے ساتھ ساتھ پنجاب،کےپی کے اور سندھ حکومت نے بھی اپنے حصوں میں سے کچھ کی قربانی دی۔اس تبدیلی سے براہ راست فائدہ بلوچستان کوہوا۔بلوچستان کا فارمولا 2006ء میں 5.22فیصد تھا جو بڑھا کر 9.09ء کر دیاگیا۔موجودہ فارمولے کو مدنظر رکھاجائے توپنجاب کو قومی آمدنی میں سب سے زیادہ حصہ ملتا ہے۔ سندھ دوسرے ،کے پی کے تیسرے اور بلوچستان آخری نمبر پر دیکھنے میں آتاہے۔ بلوچستان کا کہناہے کہ رقبہ اور وسائل کو بھی اس تقسیم کے فارمولے میں شامل کیا جانا چاہئے۔ تمام صوبے چاہتے ہیں کہ وسائل پر صوبوں کا حق ہوناچاہئے۔یاد رہے کہ وسائل وفاق کے تصور کئے جاتے ہیں اور صوبوں کے وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے رائلٹی دی جاتی ہے۔

صوبوں میں محاصل کی تقسیم ہر مالی سال میں کمی بیشی کیساتھ ہوتی نظر آتی ہے۔2019-20 کے بجٹ میں صوبوں کو دئیے گئے مالی وسائل کی کل رقم ساڑھے 32 لاکھ ملین روپے تھی جسے بعد میں تبدیل کرکے 24 لاکھ ملین کردیا گیا تھا۔

تاہم اس تبدیلی کو دیکھتے ہوئے موجودہ بجٹ میں صوبوں کے ٹیکس شیئر میں اضافہ کیاگیا۔مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں تقسیم کے فارمولے میں معمولی ردو بدل کیاگیا۔سرکاری دستاویز کے مطابق 2020 کے بجٹ میں وفاق کو ٹیکسز کی مد میں پنجاب کو ملنے والی رقم میں گزشتہ سال کے مقابلے میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

اسی طرح سندھ اور کے پی کے کو وفاق کی جانب سے ملنے والی رقم اضافے کیساتھ ملی جبکہ صرف بلوچستان کو ملنے والے حصے میں کمی دیکھنے میں آئی۔اسی طرح اگر 2018 اور 2019ءکے بجٹ کی بات کی جائے تو پنجاب ،سندھ اور کے پی کے فنڈز میں کمی ہوئی جبکہ بلوچستان کے فنڈز میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

قیام پاکستان کے بعد سے اب تک صوبہ بلوچستان کے حصے میں مسلسل اضافہ ہوتارہا۔1951 ء میں تقسیم کی شرح 1.15% تھی جو اب 9.09 فیصد ہو چکی ہے۔این ایف سی کے قیام کے وقت بلوچستان کو 3.86% تھی جو اب بڑھ کر 9.09% ہوگئی ہے۔بلوچستان کو ملنے والے فنڈز کو دیکھاجائے تو بجٹ 2018-19ء میں وفاق کی جانب سے 233ارب روپے تھی اور 2019-20ء میں یہ رقم بڑھکر295 ارب روپے ہوگئی ۔نئے مالی سال میں صوبہ بلوچستان کا حصہ کم کرکے 265 ارب روپے دیا گیا ہے۔