• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کامل الحیاءوالایمان خلیفہ ثالث سیدنا عثمان بن عفانؓ

تحریر:قاری محمد عباس۔۔۔ بریڈ فورڈ
خلیفۂ ثالث سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا تعلق خاندان قریش کے معزز قبیلے سے تھا۔ سلسلہ نسب عبد المناف پر رسول اللہ ﷺ سے جا ملتا ہے ۔ سیدنا عثمان ذوالنورین کی نانی نبی ﷺ کی پھوپھی تھیں۔ آپ کا نام والدین کی طرف سے عثمان والد کا نام عفان اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بیٹیاں یکے بعد دیگرے آپ کے نکاح میں آئیں اس لحاظ سے لقب ” ذوالنورین “ ٹھہرا ۔اسلام قبول کرنے والوں میں آپ ” سابقون الاولون “ کی فہرست میں شامل تھے، آپ نے خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی دعوت پر اسلام قبول کیا تھا۔ ۔ حضور ﷺ پر ایمان لانے اور کلمہ حق پڑھنے کی پاداش میں سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو ان کے چچا حکم بن ابی العاص نے لوہے کی زنجیروں سے باندھ کر سخت دھوپ میں ڈال دیا تھا ، کئی روز تک علیحدہ مکان میں بند رکھا گیا، چچا نے آپ سے کہا کہ جب تک تم نئے مذہب (اسلام ) کو نہیں چھوڑو گے میں تمہیں آزاد نہیں کروں گا۔ یہ سن کر آپ نے جواب میں فرمایا کہ چچا ! اللہ کی قسم میں مذہب اسلام کو کبھی نہیں چھوڑ سکتا اور اس ایمان کی دولت سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گا۔ سیدناعثمان بن عفان اعلیٰ سیرت و کردار کے ساتھ ثروت و سخاوت میں بھی مشہور تھے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں ہرنبی کا ساتھی و رفیق ہوتاہے میرا ساتھی ”عثمان بن عفان “ ہوگا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دائرہ اسلام میں آنے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ عرصہ بعد اپنی بیٹی گوشۂ جگرسیدہ رقیہ رضی الله عنہا کا نکاح آپ سے کردیا۔ جب کفار مکہ کی اذیتوں سے تنگ آکر مسلمانوں نے نبی کریم ﷺ کی اجازت اور حکم الٰہی کے مطابق ہجرت حبشہ کی تو سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بھی مع اپنی اہلیہ حضرت رقیہ رضی الله عنہا حبشہ ہجرت فرماگئے، جب حضرت رقیہ رضی الله عنہا کا انتقال ہوا تو نبی ﷺ نے دوسری بیٹی حضرت ام کلثوم رضی الله عنہا کوآپ کی زوجیت میں دے دیا۔ اس طرح آپ کا لقب ” ذوالنورین“ معروف ہوا۔مدینہ منورہ میں پانی کی قلت تھی جس پر سیدنا عثمان نے نبی کریم کی اجازت سے پانی کا کنواں خرید کر مسلمانوں کے ليے وقف فرمایا اور اسی طرح غزوہ تبوک میں جب رسول اللہ ﷺنے مالی اعانت کی اپیل فرمائی تو سیدنا عثمان غنی نے تیس ہزار فوج کے ایک تہائی اخراجات کی ذمہ داری لے لی ۔جب رسول اکرم ﷺنے زیارت خانہ کعبہ کا ارادہ فرمایا تو حدیبیہ کے مقام پر یہ علم ہواکہ قریش مکہ جنگ کیلئے تیاری کر رہے ہیں ۔ اس پر آپ ﷺنے سیدنا عثمان غنی کو سفیر بنا کر مکہ بھیجا۔ قریش مکہ نےآپ کو روکے رکھا تو افواہ پھیل گئی کہ سیدنا عثمان کو مشرکین مکہ نے شہید کردیا ہے ۔ اس موقع پر چودہ سو صحابہ سے نبی ﷺنے بیعت لی کہ سیدنا عثمان غنی کا قصاص لیا جائے گا ۔ یہ بیعت تاریخ اسلام میں ” بیعت رضوان “ کے نام سے موسوم ہے ۔ قریش مکہ کو جب صحیح صورت حال کا علم ہوا تو آمادۂ صلح ہوگئے اور سیدنا عثمان غنی واپس آگئے۔خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق کی مجلس مشاورت (کابینہ )کے آپ ایک اہم ترین رکن تھے ۔ امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب کی خلافت کا وصیت نامہ آپ نے ہی تحریر فرمایا ۔ دینی معاملات پر آپ کی رہنمائی کو پوری اہمیت دی جاتی ۔ سیدنا عثمان غنی صرف کاتب وحی ہی نہیں تھے بلکہ قرآن مجید آپ کے سینے میں محفوظ تھا۔ آیات قرآنی کے شان نزول سے خوب واقف تھے ۔ بطور تاجر دیانت و امانت آپ کا طرۂ امتیاز تھا۔ انتہائی نرم خو تھے اور فکر آخرت ہر دم پیش نظر رکھتے تھے ۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے عثمان تو ایسی ہستی ہیں جن سے اللہ کے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں ، تبلیغ و اشاعت اسلام کے ليے فراخ دلی سے دولت خرچ کرتے تھے ،ان کا دورِ حکومت تاریخ اسلام کا ایک تابناک اور روشن باب ہے ۔ ان کے عہد زریں میں عظیم الشان فتوحات کی بدولت اسلامی سلطنت کی حدود اطراف ِ عالم تک پھیل گئیں اور انہوں نے اس دور کی بڑی بڑی حکومتیں روم ، فارس ، مصر کےبیشتر علاقوں میں پرچم اسلام بلند کرتے ہوئے عہد فاروقی کی عظمت وہیبت اور رعب ودبدبے کو برقرار رکھا اور باطل نظاموں کو ختم کر کے ایک مضبوط مستحکم اورعظیم الشان اسلامی مملکت کواستوار کیا ۔نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ اے عثمان اللہ تعالٰی تجھے خلافت کی قمیض پہنائیں گے ، جب منافق اسے اتارنے کی کوشش کریں تو اسے مت اتارنا یہاں تک کہ تم مجھے آملو۔ چنانچہ جس روز آپ کا محاصرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھ سے حضور نے عہد لیا تھا ( کہ منافق خلافت کی قمیض اتارنے کی کوشش کریں گے تم نہ اتارنا ) اس ليے میں اس پر قائم ہوں اور صبر کر رہا ہوں ۔ 35ھ میں ذی قعدہ کے پہلے عشرہ میں باغیوں نے سیدنا عثمان ذوالنورین کے گھر کا محاصرہ کیا اور آپ نے صبر اور استقامت کا دامن نہیں چھوڑا،محاصرہ کے دوران آپ کا کھانا اور پانی بند کردیاگیا، تقریبا ً چالیس روز بھوکے پیاسے82سالہ مظلوم مدینہ سیدنا عثمان کو جمعۃ المبارک 18ذو الحجہ کو انتہائی بے دردی کے ساتھ روزہ کی حالت میں قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے شہید کردیا گیا۔سیدنا عثمان کوشہید کرنے کی یہ سازش درحقیقت اسلامی تاریخ کی سب سے اول اور سب سے بڑی سازش تھی ، یہ سازش جو عبد اللہ بن سبا رئیسُ المنافقین سمیت متعدد منافقین کی منافقت کا نتیجہ تھی درحقیقت صرف حضرت عثمان بن عفان کے خلاف نہ تھی بلکہ اسلام اور تمام مسلمانوں کے خلاف تھی اور آپ کی شہادت کے بعد اُس دن سے لیکر آج کے دن تک مسلمان مسلسل تفرقہ اور انتشار میں ایسے گرفتار ہوئے کہ نکل نہ سکے۔یہ وہ بات تھی جس کی خبر حضرت عثمان نے ان الفاظ میں دی تھی کہ بخدا اگر تم نے مجھے قتل کر دیا تو پھر تم تا قیامت نہ ایک ساتھ نماز پڑھو گے اور نہ ہی ایک ساتھ جہاد کرو گے۔آپ کی شہادت پر مدینہ منورہ میں کہرام مچ گیا ۔حضرت سعید بن زید نے ارشاد فرمایا لوگو واجب ہے کہ اس بد اعمالی پر کوہ ُاحد پھٹے اور تم پر گرے ،حضرت انس نے فرمایا حضرت عثمان بن عفان جب تک زندہ تھے اللہ کی تلوار نیام میں تھی ،اس شہادت کے بعد یہ تلوار نیام سے نکلے گی اور قیامت تک کھلی رہے گی، حضرت عبد اللہ بن عباس نے ارشاد فرمایا اگر حضرت عثمان بن عفان کے خون کا مطالبہ بھی نہ کیا جاتا تو لوگوں پر آسمان سے پتھر برستے، حضرت علی بن ابی طالب کو جیسے ہی شہادت عثمان کی خبر ملی آپ نے فرمایا اے اللہ میں تیرے حضور خون عثمان سے بریت کا اظہار کرتا ہوں اور حافظ ابن کثیرنے یہ بھی نقل کیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت عثمان غنی کے پاس جا کر ان پر گر پڑے اور رونے لگےحتیٰ کے لوگوں نے خیال کیا کہ آپ بھی ان سے جاملیں گئے۔علامہ ذہبی نے حضرت عثمان کے کمالات وخدمات کاذکران الفاظ میں کیاہے ‘ابوعمرعثمان ،ذوالنورین تھے ۔ان سے فرشتوں کو حیا آتی تھی۔ انھوں نے ساری امت کواختلافات میں پڑ جانے کے بعدایک قرآن پرجمع کردیا۔وہ بالکل سچے ،کھرے ،عابدشب زندہ داراورصائم النہارتھے اوراللہ کے راستے میں بے دریغ خرچ کرنے والے تھے،اوران لوگوں میں سے تھے جن کو آنحضرت ﷺنے جنت کی بشارتیں دی ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ شہادت حضرت عثمان ‘‘میاں شیر محمد کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں انہو ں نے خلیفۂ ثالث سید نا عثمان بن عفان کی مختصر سوانح ، عادات وخصائل ، فضائل ومناقب اور کارناموں کا ذکر کر نے کےبعد ان کی الم ناک شہادت کا ذکر کیا ہے۔اور اُن کے قتل کرنے میں شامل افراد کےالگ الگ انجام کو بھی بیان کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ قدرت نے اعدائے دین ، اعدائے صحابہ اوراعدائے سید نا عثمان سے نہایت شدید انتقام لیا ۔سبائی پارٹی کے ایک ایک فرد کو عبرت ناک سزا دی، خود عبد اللہ بن سبا اشق الاشقیاء بدترین خلائق جس نے دین کی تخریب،تفریق میں بین المسلمین اور حضرت عثمان بن عفان کی خونریزی وخو ن آشامی کایہ سارا پروگرام بنایا تھا نہایت بُری طرح آگ میں جل بھن کر واصل جہنم ہوا۔ اس کی پارٹی کاایک ایک فرد اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے تمام بدبخت دشمن پاگل ہوکر ذلت و رسوائی کی موت مرے اور ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جہنم کی دھکتی ہوئی آگ کا ایندھن بن گئے، ‏‎اسلامی تاریخ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہمُ اجمعین کے ساتھ ظُلم و بربریت سے بھری پڑی ہے، ہر صحابی کی داستان زندگی اسلام کی خاطر اذیتوں ،تکالیف قُربانیاں اور شہادتوں کے لحاظ سے ایک دوسرے سے بڑھ کر ہے، اگر مؤرخ لکھے کہ نواسۂ رسول جگر گوشۂ بتول حضرت امام حسینؓ کا پانی 10 دن بند رہا تو با لکل ٹھیک اگر تاریخ دان کہے حضرت امام حسینؓ کا پانی 7 دن بند رہا پھر بھی سچ ہے میرا نظریہ ہے کہ حضرت امام حسینؓ کاپانی بند نہ بھی کیا گیا ہوتا تب بھی نواسہ رسولؐ مظلوم ہے۔لیکن جب میں تاریخ کے صفحات کو پلٹ کر دیکھتا ہوں تو مجھے نظر آتاہے کہ اسلام کی تاریخ میں صرف نواسۂ رسول جگر گوشۂ بتول شہید کربلا حضرت امام حسینؓ کی شھادت ہی مظلومانہ یا دردناک نہیں بلکہ ان کے علاوہ اکثر اکابرصحابہ کو بھی مظلومانہ طریقہ سے شہید کیا گیاتھا اگر ہم 10 محرم الحرام کی طرف جاتے ہوئے راستہ میں 18 ذی الحجہ کی تاریخ کا بغور جائزہ لیں اور مطالعہ کریں تو ہمیں ایک ایسی مبارک اور مقدس ہستی کی شھادت دکھائی دیتی ہے کہ شائد اسلامی تاریخ میں اس سے پہلے آسمان نے ایسی مظلوم ہستی دیکھی ہی نہ ہو ۔یہ مبارک ہستی اُن مقدس ہستیوں میں سے ہے جن کا تذکرہ اللہ تعالی نے سابقہ کُتب سماویہ یعنی تورات اور انجیل میں بھی بیان فرمایا تھا۔ ایسی ہستیوں کا شمار عشرہ مبشرہ میں ہوتا ہے جن کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دُنیا میں ہی جنت کی بشارت عطا فرمائی تھی ،اس شہید مظلوم عظیم المرتبت صحابی رسول کو عثمان بن عفان کے نام سے اسلامی دنیا میں یاد کیا جاتا ہے ،وہی عثمان جنہیں داماد رسول ہونے کا اعلی شرف حاصل ہوا ،جن کی شان میں سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کاش میری چالیس بیٹیاں ہوتیں یکے بعد دیگرے مرتی چلی جاتیں تو میں عثمان کے نکاح میں دیتا جاتا۔ - امیرُ المئؤمنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی گواہی کل قیامت کے دن اللہ کا قرآن دے گا جب عثمانؓ بن عفان زمین پر گر پڑے تو عثمانؓ کو شقیُ القلب باغی ٹھوکریں مارتے رہے، جس سے آپکی پسلیاں تک ٹوٹ گئیں حتی کہ حضرت عثمانؓ ذوالنورین باغیوں کے ظلم سے شھید ہوگئے۔اس ظُلم کو آسمان نے بھی دیکھا ہو گا فرشتوں نے بھی منظر کشی کی ہو گی ۔ زمین بھی لرزہ بر اندام ہوئی ہو گی، کل قیامت کے دن اللہ کا قرآن بھی عثمان کی شہادت کی گواہی دے رہا ہوگا ۔ ‏‎اسلام وہ شجر نہیں جس نے پانی سے غذا پائی،دیا خون صحابہؓ نے پھر اس میں بہار آئی۔ کائنات کی عظیم ترین ہستی صحابی رسول اور داماد رسول امیرُ المؤمنین سیدنا عثمان بن عفان کا مدفن و مقبرہ اور آخری آرامگاہ مدینتُہ الرسول جنتُ البقیع میں ہے۔ 
تازہ ترین