• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نیب کو ضبط شدہ گاڑیوں کے استعمال سے روک دیا گیا


لاہور کی احتساب عدالت نے مالِ مقدمہ کی گاڑیاں استعمال کرنے کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران نیب کو ضبط شدہ گاڑیاں استعمال کرنے سے روک دیا۔

دورانِ سماعت احتساب عدالت کے جج نے ڈی جی نیب سے استفسار کیا کہ آپ ڈی جی نیب ہیں، کیا نام ہے آپ کا؟

ڈی جی نیب نے جواب دیا کہ میرا نام شہزاد سلیم ہے، میں ڈی جی نیب لاہور ہوں۔

جج نے سوال کیا کہ آپ جو چیزیں کسٹڈی میں لیتے ہیں ان کا کیا کرتے ہیں؟ کمپنی ریکارڈ کے مطابق نیب ملزمان کی گاڑیاں استعمال کرتا ہے۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب نے جواب دیا کہ ملزمان کو ٹریس کرنے کے لیے گاڑیاں استعمال کی گئیں۔

جج نے استفسار کیا کہ کیا قانون نیب کو اجازت دیتا ہے کہ وہ ملزمان کی گاڑیاں استعمال کرے؟

ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے جج کو جواب دیا کہ آئندہ ایسا نہیں ہو گا۔

احتساب عدالت کے جج نے حکم دیا کہ آئندہ ایسا کسی صورت نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیئے:۔

زیرِ حراست ملزمان کے قبضے سے ملی گاڑی نیب افسران کے زیرِ استعمال

ڈی جی نیب لاہور نے عدالت کو بتایا کہ گاڑی کے ٹائر یا انجن خراب نہیں ہوتے اس لیے گاڑیاں استعمال کرتے ہیں، کھڑی کھڑی 40 سے 50 گاڑیاں خراب ہو چکی ہیں۔

جج نے سوال کیا کہ اگر گاڑیاں باہر جائیں اور ان کو حادثہ پیش آ جائے تو کیا ہو گا؟ گاڑی کو حادثہ پیش آیا تو پھر آپ پر ایک اور مقدمہ ہو جائے گا، نیب والے عدالت کے تھوڑے کہے کو زیادہ جانیں۔

لاہور کی احتساب عدالت نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر کیس نمٹا دیا۔

قومی خبریں سے مزید