آپ آف لائن ہیں
پیر3؍صفر المظفّر 1442ھ 21؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مروہ قتل کیس، 65 سالہ بوڑھے کا ڈی این اے کیوں؟

کراچی کی پی آئی بی کالونی کی عیسیٰ نگری میں 5 سالہ کمسن بچی مروہ کے اغواء، زیادتی اور قتل کیس میں ملوث ملزمان کا سراغ لگانے کیلئے پولیس نے جن 36 افراد کے ڈی این اے سیمپلز  لئے ہیں ان میں تیسری شادی کا خواہشمند پیر بخاری کالونی کا رہائشی 65 سالہ ایک بزرگ بھی شامل ہے۔

بچی کے اغواء کے مقام کے قریبی رہائشی 65 سالہ شخص کو پولیس نے ڈی این اے سیمپل لینے کے بعد مشتبہ قرار دے کر حراست میں بھی رکھا ہوا ہے۔

65 سالہ بزرگ پر بچی کے اغواء، زیادتی اور قتل جیسے گھناؤنے جرم میں ملوث ہونے کا شبہ کیوں ہوا؟ اس بارے میں دریافت کرنے پر تفتیشی ٹیم کے ایک رکن نے بتایا کہ مذکورہ شخص اگرچہ محنت کش ہے اور اس کا کسی سنگین جرائم میں ملوث ہونے کا ریکارڈ بھی نہیں مگر جنسی حوالے سے شکوک و شبہات کی بنا پر یہ قدم اٹھانا پڑا۔

پولیس ذرائع کے مطابق گزشتہ دنوں یہ شخص پی آئی بی کالونی میں تھانے میں تواتر کے ساتھ آتا رہا۔ وہ پولیس سے اپنے اچھے چال چلن کا سرٹیفکیٹ لینا چاہ رہا تھا۔

استفسار پر اس شخص نے بتایا کہ اسے شریک حیات کی تلاش ہے۔ ایک جگہ رشتے کیلئے اس کی بات چل رہی ہے۔ لڑکی والے پولیس کی جانب سے اس کے اچھے چال چل کا سرٹیفکیٹ مانگتے ہیں۔

متعلقہ اہلکار نے پوچھا کہ وہ اس عمر میں شادی کیوں کرنا چاہ رہا ہے تو اس کا کہنا تھا کہ وہ مکمل طور پر فٹ ہے اور اچھی زندگی گزارنے کیلئے یہ سب کررہا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ شخص پی آئی بی کالونی میں عسکری پارک کے قریب فروٹ کی دکان پر 800 روپے یومیہ اجرت پر کام کرتا ہے۔

مذکورہ شخص کی 2 بیویوں کا انتقال ہو چکا ہے۔ تین بیٹوں میں سے ایک کسی دوسرے علاقے کا رہائشی ہے جبکہ ایک شادی شدہ بیٹا پیر بخاری کالونی میں اس کے گھر کی بالائی منزل پر مقیم ہے اور تیسرا بیٹا نشے کا عادی ہے جو اس کے ساتھ اسی گھر میں مقیم ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس کے بیٹے کو بھی حراست میں لیا گیا ہے جو کہ نشے کا عادی ہے۔

قومی خبریں سے مزید