• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جی ایم سید نے 1934ء میں پی پی بنائی، بھٹو نے انکا احترام کیا، شاہ محمد شاہ


کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ”جرگہ“ میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کرتے ہوئے صدر مسلم لیگ ن سندھ،شاہ محمد شاہ نے کہا ہے کہ میری سیاسی تربیت جی ایم سید نے کی ہے جئے سندھ کی بات بعد میں آتی ہے ہم ایک خاندان بھی ہیں جی ایم سید اور میرا رشتہ ایسا ہے جیسے گھر کے ایک فرد کا ہوتا ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو ہمیشہ جی ایم سید کا احترام کرتے تھے۔میں جئے سندھ اسٹوڈنٹ فیڈریشن کا بانی صدر بنا،آپ ان کی پہلی تقریر سنیں جب وہ 70ء کا انتخاب لڑیں ہیں وہ ریڈیو اور ٹی وی پرنشر ہوا ہے۔

انہوں نے سندھو دیش کا اس وقت نعرہ نہیں لگایا تھا، یہ تاریخ کا المیہ ہے کہ پاکستان بنانے والوں کے ساتھ یہ ہواہے جنہوں نے اس ملک کو بنانے کے لئے جدوجہد کی وہ غدارقرار دیئے گئے۔جی ایم سید محب وطن سندھی اور وطن پرست آدمی تھے۔

جب کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی کوشش کی گئی تو جی ایم سید نے مزاحمت کی ۔ ون یونٹ بنایاگیا تو جی ایم سید کو گرفتار کیا گیا ون یونٹ بننے کے بعد جتنی آمریت آئی وہ مستقل جیل میں رہے اور انہیں محب وطن ہوتے ہوئے غدار کے القابات دیئے گئے۔

وہ پہلے آدمی تھے جنہوں نے سندھ میں کسانوں کی تنظیم بنائی جو بعد میں حیدر بخش جتوئی کے ہاتھ میں آئی تھی۔ذوالفقار علی بھٹو ہمیشہ جی ایم سید کا احترام کرتے تھے۔

جی ایم سید نے1934ء پیپلزپارٹی بنائی سر شاہ نواز بھٹو اس کے صدر بنے اللہ بخش سومرو اس کے سیکریٹری اور جی ایم سیداس کے نائب صدر تھے۔

جب پیپلز پارٹی آگے نہیں چل پائی تو دونوں نے مل کردوسری پارٹی سندھ یونائیٹڈ پارٹی بنائی اور الیکشن لڑی۔

ذوالفقار علی بھٹو 1966ء میں کابینہ سے نکلے تو جی ایم سید سے ملاقات کرنے ان کے گاؤں سن آئے تو ایسے ملے جیسے باپ کو بیٹا ملتا ہے ۔

ذوالفقار علی بھٹو نے جی ایم سید سے مشورہ نیشنل عوامی پارٹی میں شمولیت کے لئے مشورہ کیاکیونکہ خان ولی والے ان کو لے نہیں رہے تھے جی ایم سید نے ان کو مشورہ دیاکہ تم اپنی پارٹی بناؤباپ والی پارٹی پیپلز پارٹی بناؤ۔

جب ذوالفقار علی بھٹو پیپلز پارٹی بناکر سندھ میں آئے نواب شاہ پہنچے میررسول بخش تالپورآئے اور عوامی لیگ کے نائب صدر قاضی فیض محمد کے گھر پر ان کو ٹھہرایااور ان کے باقی رفقا جی ایم سید کے بیٹے امداد محمد شاہ کے گھر پر ٹھہرے۔

1973 ء میں احتجاج کے دوران پولیس فائرنگ سے ایک پولیس والا جاں بحق ہوگیاتومجھ پر مقدمات قائم کئے گئے تو میں اجمل خٹک کی معرفت کابل چلا گیا اور جلا وطنی اختیار کی۔

ہم سندھ کے حقوق کے لئے سندھو دیش کی بات کرتے تھے اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کرتے تھے۔1975ء میں مجھے گرفتار کرلیا گیا میں مشہور طالب علم لیڈر تھا شہر بند ہوگیا۔

تازہ ترین