آپ آف لائن ہیں
ہفتہ6؍ربیع الاوّل 1442ھ 24؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مسلم دنیا تنازعات میں اُلجھ کے کیا پایا؟

یونان کے ایک مہاجر کیمپ میں آگ لگنے سے سیکڑوں افراد ہلاک و زخمی ہوئے، جب کہ اُن کے خیمے مکمل طور پر خاکستر ہوگئے۔ یہ افراد مارے مارے پِھر رہے ہیں کہ کوئی مُلک اُنھیں پناہ اور تحفّظ فراہم کردے۔ اِسی خبر میں آگے چل کر بتایا گیا کہ ان مہاجرین میں سے بیش تر کا تعلق افغانستان سے ہے، جو آج بھی خانہ جنگی کا شکار ہے۔ وہاں جنگ تو امریکا کے خلاف ہو رہی ہے، لیکن خودکُش دھماکوں اور حملوں میں مارے جانے والے تقریباً تمام کے تمام افغان مسلم شہری ہی ہیں۔نیز، کیمپ میں مقیم باقی مہاجرین کا تعلق بھی مسلم ممالک سے ہے۔ رپورٹس میں ان سب کی ایک ہی خواہش اور آرزو بتائی گئی کہ کسی طرح یورپ میں داخل ہوجائیں۔اقوامِ متحدہ کے مہاجرین کے لیے قائم ادارے کا ریکارڈ اُٹھا کر دیکھیں، تو اِس وقت دنیا میں سب سے زیادہ مہاجر کیمپس ایسے ہی مسلمان شہریوں نے آباد کیے ہوئے ہیں، جنہیں اپنے مُلک میں رہنے کے لیے جگہ نہیں مل رہی۔

اُن کے گھر بار تباہ، روزگار ختم اور بہت سے رشتے دار ہلاک ہوچُکے ہیں۔ان میں سے کئی اپنے ہی مُلک میں باغی کہلاتے ہیں اور اُن مُلکوں کی حکومتوں نے ان کے خاتمے کو اپنی اوّلین ترجیحات میں شامل کر رکھا ہے۔افسوس کی بات تو یہ ہے کہ مسلم ممالک میں جاری خانہ جنگیاں کسی طرح ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہیں۔پھر یہ کہ متحارب گروپس کی پیٹھ بھی مسلم ممالک ہی تھپکتے ہیں اور ان شہہ سواروں کو اپنے ہی بھائیوں کا خون بہانے پر پوری ڈھٹائی سے دادِ شجاعت بھی دیتے ہیں۔نیز، وہ اپنے ان’’ کارناموں‘‘ پر نازاں بھی ہیں۔ شاید ہی کبھی جنگوں میں ملوّث گروہوں اور اُن کے سرپرست مُمالک کو ذرا سا بھی احساس ہوا کہ وہ اپنے ہی بھائیوں اور ہم وطنوں کو ہلاک کر کے اپنے سینے پر آزادی کی جنگ اور حریّت کے جو تمغے سجا رہے ہیں، وہ دراصل تمغے نہیں، کلنک کے ٹیکے ہیں۔

مسلم دنیا کے تنازعات پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتے جارہے ہیں۔شام، یمن، افغانستان، لیبیا اس کی بڑی مثالیں ہیں۔بہت عرصے بعد فلسطین ایک بار پھر عالمی توجّہ کا مستحق ٹھہرا، جب متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو تسلیم کیا۔اس کے علاوہ کشمیر مدّتوں سے ایک سلگتا ایشو ہے۔ وہاں کی گلی گلی میں بھارتی ریاستی ظلم وستم کی الم ناک داستانیں بکھری پڑی ہیں۔ اس ایشو پر دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے ہیں اور ذرا سی غلطی پورے خطّے کو آگ میں جھونک سکتی ہے۔جنوب مشرقی ایشیا، جو ایک زمانے میں نسبتاً پُرامن علاقہ کہلاتا تھا، وہ بھی اب مسلم شہریوں کے لیے انتہائی غیر محفوظ بن چُکا ہے۔روہنگیا مسلمان برما میں در بدر ہیں۔ 

بدھ مَت کے پیروکار، جنھیں امن کا پیام بر کہا جاتا ہے، سری لنکا، تھائی لینڈ اور خطّے کے دیگر کئی ممالک میں مسلمان شہریوں کی جان و مال کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ ہر طرف ظلم و نفرت کا بازار گرم ہے۔اُن کی کوئی شہریت ہے اور نہ مستقل گھربار۔ اس ظلم کے خلاف مسلم دنیا میں جلسے، جلوس اور ریلیاں نکالی جاتیں تاکہ سوئی دنیا کو نیند سے جگایا جا سکے۔ یہ ایک قابلِ تعریف کام ہے، لیکن اصل کام مسلم ممالک کے تنازعات کا مستقل حل تلاش کرنا ہے۔ اِسی صُورت وہاں کے شہری نہ صرف پُرامن زندگی گزار سکیں گے، بلکہ دیگر مسلم اقلیتوں کی مدد کے قابل بھی ہو پائیں گے۔مسلم دنیا میں جاری اِس خون ریزی، کش مکش اور تنازعات کے ضمن میں مسلم حکومتوں، عوام اور اہلِ دانش نے دو قسم کے رویّے اپنا رکھے ہیں۔ 

اوّل یہ کہ مغربی قوّتیں مسلمانوں کے خلاف ہیں اور وہ ہر قیمت پر اُنہیں مِٹانے پر تُلی ہوئی ہیں۔ اِسی سازشی تھیوری کے مطابق، مسلم دنیا اِن دنوں ایک عالمی سازش کی لپیٹ میں ہے۔ امریکا، یورپ، بھارت اور روس اسے تباہ وبرباد کرنے کے درپے ہیں۔ یہ سازشیں دہائیوں سے جاری ہیں، خاص طور پر عثمانی سلطنت کے زوال کے بعد تو صُورتِ حال بہت ہی ابتر ہوگئی۔ اس نظریے پر یقین رکھنے والے ماضی کا حوالہ دیتے ہیں، جب دنیا میں مسلم مملکتیں سُپر پاور اور علم و ترقّی میں سب سے آگے تھیں۔ دنیا پر اُن کا راج تھا، لیکن اب سب کچھ اُن کے ہاتھوں سے چِھن چُکا ہے۔ تاہم، ایک رائے یہ بھی ہے کہ یہ حالات خود مسلم ممالک کے حکم رانوں کی نااہلی کا نتیجہ ہے، جو اپنے مسائل حل نہ کرسکے۔مُلکی وسائل کھاتے، اُڑاتے رہے۔تعلیم، ٹیکنالوجی کو نظرانداز کیا اور آج اس میدان میں سب سے پیچھے ہیں۔یہ پس ماندگی ہی اُن کے زوال کا سبب بنی، جو چھے سات صدیوں سے جاری ہے۔

چند سال پہلے تک مشرقِ وسطیٰ کی تیل کی دولت عرب ممالک کے لیے کچھ اطمینان کا باعث تھی، لیکن اب وہ بھی ختم ہونے کو ہے۔اِس لیے نہیں کہ تیل کے ذخائر ختم ہوگئے ہیں، بلکہ ترقّی یافتہ دنیا نے متبادل توانائی کے ذرائع تلاش کر لیے ہیں۔امریکا، سعودی عرب جتنا تیل نکال رہا ہے، جب کہ یورپ گرین انرجی سے کم پر راضی نہیں۔اب اگر ٹیکنالوجی کی ترقّی بھی سازش ہے، تو پھر سَر پیٹنے کے علاوہ کیا ،کیا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ بھی سچ ہے کہ مسلم دنیا کی پس ماندگی اور مایوسی کی وجہ سے سازشی تھیوریز پریقین رکھنے والوں کی تعداد روز بہ روز بڑھتی جارہی ہے۔ مسلم ممالک کی حکومتوں اور رہ نُماؤں نے اپنے مُلکوں کی معیشت مضبوط کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔وہ مانگے تانگے کے پیسوں ہی سے کام چلاتے رہے۔

اگر کسی نے کچھ ترقّی کی بھی، تو اُسے پائیدار بنانے کی بجائے مختلف تنازعات میں الجھ کر اپنے وسائل جنگ میں جھونک دیے۔ان مسلم ممالک کے حکم ران دبنگ بیانات ہی سے اپنے عوام کا پیٹ بھرنے پر یقین رکھتے ہیں کہ اُن کے پاس اِس کے سِوا ہے بھی کچھ نہیں۔ پتا نہیں کیوں اُنھیں یہ سیدھا سادہ اصول سمجھ نہیں آتا کہ ترقّی اور عوام کی خوش حالی کا پہلا تقاضا امن ہے۔ امن و سکون ہوگا، تو تب ہی لوگ ترقّی کی دوڑ میں شامل ہوں گے۔ اگر مسلم ممالک کے حکم ران کہیں سے پیسے پکڑ کر کوئی ترقیاتی منصوبہ بنالیں، تو اِتنا شور مچاتے ہیں کہ گویا دنیا کی ساری ترقّی اُسی ایک پراجیکٹ میں سِمٹ گئی ہے۔ حالاں کہ دنیا مریخ کی تسخیر کے مرحلے میں داخل ہوچُکی ہے اور ہم جیسے مُلک ابھی تک نالوں کی صفائی ہی کو بڑا کام سمجھتے ہیں۔ حقیقت تو یہی ہے کہ دنیا کے لیے مسلم ممالک کسی کھلونے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے کہ اُنہیں قرضے یا امداد کی مَد میں کچھ پیسے دے کر مَن چاہا کام لیا جاسکتا ہے۔

ہمیں دوسری عالمی جنگ کے دَور میں جانے کی ضرورت نہیں، اگر صرف گزشتہ بیس پچیس سالوں ہی پر نظر ڈال لی جائے، تو اندازہ ہوجائے گا کہ ترقّی یافتہ دنیا نے اپنے تنازعات کیسے حل کیے۔ صرف ایک مثال دیکھ لیجیے۔یورپی یونین ایک مثالی اتحاد ہے، جس میں29 ممالک شامل ہیں۔حال ہی میں کورونا سے نمٹنے کے لیے جس طرح وہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے، اس سے پتا چلتا ہے کہ اتحاد کسے کہتے ہیں؟ جب بریگزیٹ کا تنازع اُٹھا، تو یورپی یونین یا برطانیہ کی طرف سے یہ نہیں کہا گیا کہ’’ جان دے دو، فلاں کی جان لے لو‘‘ کا معاملہ ہے۔کسی نے بریگزیٹ کو یورپ یا عیسائی دنیا کے خلاف چین، روس یا امریکا کی سازش قرار نہیں دیا، حالاں کہ صرف تین سال قبل یوکرائن تنازعے پر روس اور یورپ میں شدید تلخی بلکہ بات جنگی حالات تک جا پہنچی تھی۔

گو کہ یورپ اور برطانیہ میں بریگزیٹ کے مخالفین کی کمی نہیں، لیکن جب گزشتہ برس دسمبر میں فیصلہ کُن مرحلہ آیا، تو عوام کے ووٹوں کی طاقت ہی نے فیصلہ کیا، جس کے سامنے سب نے سَر جُھکا دیا۔اِس میں بھی کوئی شک نہیں کہ یورپی یونین اور برطانیہ کے رہ نُماؤں نے اس پیچیدہ معاملے کو جس طرح مذاکرات کی میز پر حل کیا، وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔کیا مسلم دنیا، خاص طور پر یورپ کے پڑوسی مشرقِ وسطیٰ کے ممالک نے اِس سے کوئی سبق سیکھا؟چین اور امریکا کی ٹریڈ وار کا ذکر اُس وقت سے چل رہا ہے، جب ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کی صدارت سنبھالی تھی۔کہا گیا کہ اب جنگ ہوئی کہ تب ہوئی، مگر عملاً ایسا کچھ نہیں ہوا۔اِس معاملے پر دونوں طرف شدید ترین تلخی دیکھی گئی، اختلافات انتہا کو پہنچے، دونوں نے اربوں ڈالرز کے ٹیکسز ایک دوسرے پر لگائے۔اِس دَوران ایسے لمحات بھی آئے، جب ایسا لگا کہ بس ان دونوں ممالک کی قیادتیں صبر کا دامن چھوڑ کر میدانِ جنگ کا رُخ کرنے کو ہیں۔صدر ٹرمپ کے عُہدے کی مدّت پوری ہو رہی ہے۔

امریکا نئے الیکشن کی تیاریاں کر رہا ہے، لیکن چین اور امریکا کے تنازعات کبھی بھی میز سے نہیں ہٹے۔یہ دونوں مُلک اور عالمی طاقتیں مسلم دنیا کی قریبی دوست ہیں، لیکن افسوس کہ مسلم ممالک نے ان سے بھی کچھ نہ سیکھا۔ ترقّی یافتہ ممالک جنگ کی تباہ کاریوں سے سبق حاصل کر چُکے ہیں۔اُنہیں اندازہ ہی نہیں، بلکہ اِس بات کا بخوبی تجربہ بھی ہے کہ جنگ اور خون ریز تنازعات کس طرح قوموں کی توانائیاں نچوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ یورپ اِس سبق کو بھولا ہے، نہ چین اور امریکا۔ نیز، جاپان اور جرمنی نے بھی اسے ازبر کر رکھا ہے۔یہی ممالک آج کی بڑی طاقتیں ہیں۔یہ بیانات کے گولے داغتے کرتے ہیں، سفارتی دائو پیچ چلاتے ہیں، لیکن جنگ کا نام سُنتے ہی کان پکڑ لیتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا مسلم دنیا کے تنازعات ایسے نہیں، جو بات چیت سے حل نہ کیے جاسکتے ہوں؟ فلسطین، کشمیر، یمن، شام افغانستان یا کوئی اور معاملہ ہو، ان سب کے حل کے لیے مذاکرات ہوتے رہے ہیں۔ اِس حوالے سے اقوامِ متحدہ کی قراردادیں بھی موجود ہیں۔ تاہم، ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ مسلم قیادتیں سب سے پہلے اپنے مُلکوں کے درمیان معاملات طے کریں۔ایک دوسرے پر الزامات کی بھرمار یا جنگ جُو گروپس کی سرپرستی سے کچھ حاصل نہیں ہوسکا اور آئندہ بھی اس سے سوائے تباہی و بربادی کے کچھ حاصل ہونے کی اُمید نہیں۔تنازعات میں اُلجھے اِن ممالک کو ٹھنڈے دِل سے غور کرنا چاہیے کہ اگر ان سب کے خلاف کوئی عالم گیر سازش ہو بھی رہی ہے، تو اُسے بھی اپنے تنازعات پُرامن طور پر حل کرکے ناکام بنایا جاسکتا ہے۔

نیز، یہ بھی ضروری نہیں کہ مسلم اتحاد کا مطلب صرف یہی ہو کہ وہ دوسروں کے خلاف ہوگا۔کیا سب دنیا سے فائدہ اُٹھانے کی کسی پالیسی پر متفّق نہیں ہوسکتے؟ اس سے اوّل تو جو منفی امیج پیدا ہوا ہے، وہ ختم ہوجائے گا۔نفرتوں میں کمی آئے گی اور سب سے بڑھ کر مسلم عوام کے لیے ترقّی کی راہیں کُھلیں گی، جو مجبوراً یورپ اور امریکا جانے کے لیے سرگرداں رہتے ہیں۔آتش زدگی کی لپیٹ میں آنے والے کیمپ کے زیادہ تر باسی اِسی امید پر ذلّت اور تکالیف برداشت کر رہے تھے کہ وہ ایک دن یورپ کی سرزمین پر پہنچیں گے اور مشکلات کا دَور ختم ہوجائے گا۔مسلم حکم رانوں کو سوچنا چاہیے کہ اُن کے عوام کی یوں بیرونِ مُلک جانے کی خواہشات اُن کے لیے کسی شرم ناک چارج شیٹ سے کم نہیں۔

دنیا بھر کے شہری اپنے مُلک جانے کی آرزو کرتے ہیں اور مسلم دنیا کے بدحال شہری دوسروں کے دروازوں پر دستک دیتے پِھر رہے ہیں۔افسوس، بے مقصد تنازعات نے مسلم دنیا کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ترقّی تو دور کی بات، اب تو امن بھی اُن کے شہریوں کے لیے خواب بنتا جا رہا ہے۔عالمی طاقتیں کسی نہ کسی شکل میں اُن کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرتی رہی ہیں، مگر معاملات سلجھنے کی بجائے مزید اُلجھتے ہی جا رہے ہیں۔لڑائی جھگڑے بھائیوں کے درمیان بھی ہو جاتے ہیں، لیکن اُن کی ایک حد ہوتی ہے اور پھر مسلم دنیا، جسے اتحاد و اتفاق کی رسّی میں بندھے رہنے کی تعلیم دی گئی ہے، کیوں ایک دوسرے سے بات کرنے سے انکاری ہے؟

آج کی دنیا میں عوام کی طاقت اور مُلک کی معیشت ہر معاملے اور تنازعے میں فیصلہ کُن کردار ادا کرتی ہے۔نہیں معلوم یہ بات سمجھنے کے لیے مسلم ممالک کو مزید کتنی صدیاں لگیں گی؟ اگر دیکھا جائے، تو مسلم دنیا میں قیادت کی دوڑ، ایک دوسرے کو نیچا دِکھانے کی کوششیں اور معاشی طاقت کو نظرانداز کرنا ہی وہ سازش ہے، جس نے مسلم دنیا کو اِس حال تک پہنچایا ہے۔ یہ سازش کون کر رہا ہے؟ اِس کے لیے کسی راکٹ سائنس یا غیر معمولی سیاسی تدبّر کی ضرورت نہیں۔ اگر 57 اسلامی ممالک، جن کا ایک نظریہ رکھنے کا دعویٰ ہے، ایک ٹیبل پر بیٹھ کر اپنے تنازعات طے نہیں کرسکتے، تو پھر ان سے عالمی معاملات میں کوئی اہم کردار ادا کرنے کی کیا توقّع کی جاسکتی ہے۔ 

مسلم ممالک کے روس، چین، امریکا اور یورپ سے نہ صرف بہترین تعلقات ہیں، بلکہ وہ ان کی ثالثی اور مشورے قبول کرنے میں ذرا بھی عار محسوس نہیں کرتے۔ اُنھیں عالمی طاقتوں کے اس کردار سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔اے کاش! ان معاملات پر ایک ارب، پچاس کروڑ مسلمان شہری بھی غور کریں اور خود ساختہ سازشی تھیوریز کو شکست دینے سے قبل اپنی قیادتوں کو باہمی تنازعات حل کرنے پر مجبور کریں۔