آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکا ایران جنگ بندی کے لیے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطے کیے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے فوری جنگ بندی کا فریم ورک امریکا اور ایران سے شیئر کیا اور تجویز دی کہ فوری عارضی جنگ بندی کی جائے۔
فریقین کو تجویز دی گئی کہ فوری آبنائے ہُرمُز کھولی جائے، فوری ایران کے منجمد اثاثے بحال کیے جائیں اور فوری ایران پر اقتصادی پابندیاں نرم کی جائیں۔
بین الاقوامی خبر ایجنسی کی اس خبر پر ترجمان پاکستانی دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے تبصرے سے گریز کیا اور کہا کہ وہ فی الحال امن عمل کے جاری رہنے کی تصدیق کرتے ہیں۔
دوسری جانب ایران نے پاکستان کی تجاویز کے جواب میں اپنی دس تجاویز پاکستان کو بھجوادیں جس میں عارضی جنگ بندی کو مسترد کرتے ہوئے مستقل جنگ بندی پر زور دیا گیا۔
ایران نے اپنی تجاویز میں کہا کہ خطے کے تنازعات کا مکمل خاتمہ کیا ہے۔ آبنائے ہُرمُز کو محفوظ گزرگاہ بنانے کے لیے ضابطہ کار طے کیا جائے۔ ایران پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں اور امریکی و اسرائیلی حملوں سے ایران میں ہوئے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کی پاور تنصیبات اور پُلوں پر حملے کیے تو ایران ویسا ہی جواب دے گا، ایرانی جواب اب خطے تک محدود نہیں ہوگا۔