امریکا کے چئیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین کی کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن کےدوران امریکی پائلٹ زخمی ہوا، وہ ایک اور ملک جہاز لے گیا، زخمی پائلٹ کو اندازہ ہوا کہ طیارہ لینڈ نہیں کر سکتا تو اس نے دوست علاقے پر لینڈنگ کرلی۔
واشنگٹن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکی جنرل نے کہا کہ ریسکیو آپریشن کا مقصد دونوں اہلکاروں کو بحفاظت واپس لانا تھا، امریکی اہلکاروں نے دن کے اجالے میں انتہائی خطرناک ریسکیو آپریشن کیا۔
امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ ایرانی فورسز کا خطرہ ہونے کے باوجود ہم نے کامیاب ریسکیو آپریشن کیا، ایرانی خود اپنے آپ سے پوچھ رہے ہیں کہ امریکیوں نے ایسا ریسکیو کیسے ممکن بنا لیا، گڈ فرائیڈے کو جہاز نشانہ بنا، اہلکار ہفتے کو غار میں تھا، ایسٹر سنڈے کو ریسکیو ہوا، ایک پائلٹ کو نئی زندگی ملی، خدا اچھائی ہے، ریسکیو محض خوش قسمتی نہیں، یہ غیر معمولی پیشہ ور مہارت کا نتیجہ تھا۔
پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ یہ ریسکیو ڈونلڈ ٹرمپ کی جرات کے بغیر نہیں ہوسکتا تھا، صدر ٹرمپ نے واضح حکم دیا تھا کہ کوئی اہلکار پیچھے نہیں رہ جانا چاہیے، پہلے اور دوسرے ریسکیو مشن کے فوری احکامات دیے گئے تھے، صدر ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ طاقت کے ذریعے امن ایک ڈاکٹرائن ہے۔
امریکی وزیر جنگ نے کہا کہ ایران پر آج سے زیادہ کل سخت بمباری کی جاسکتی ہے، ایران کے پاس موقع ہے کہ عقلمندی سے فیصلہ کرلے، قاسم سلیمانی مدورو، خامنہ ای سے پوچھ لیں، ایران جان لے امریکی فوج اپنے اہلکاروں کیلئے، اپنا مشن مکمل کرنے کیلئے ہر مقام پر جائے گی۔
سی آئی اے کے سربراہ جان ریڈکلف نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ سی آئی اے اپنے اہلکار کو چھوڑ دے، یہ کامیاب ریسکیو مشن تھا، دشمن کی توجہ غلط سمت میں لگا کر سی آئی اے نے ایرانیوں کو کنفیوژ کیا۔
جان ریڈ کلف نے کہا کہ ایرانیوں کو ہمارے کامیاب ریسکیو مشن سے ہزیمت اٹھانا پڑی۔