• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران کیلئے جہنم، گنتی شروع یا باعزت راستہ، نئی ایرانی قیادت کی تعریف، دھمکیاں خود فریبی، ایرانی فوج کا ٹرمپ کو جواب

تہران /واشنگٹن (اے ایف پی /نیوز ڈیسک ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متضاد بیانات کا سلسلہ جاری ‘ایران کیلئے جہنم‘گنتی شروع یا باعزت راستہ ‘ نئی ایرانی قیادت کی تعریف‘ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر تہران معاہدے پر تیارنہ ہوا تو پاکستانی وقت کے مطابق کل صبح5بجے ایرانی سویلین انفرااسٹرکچر شروع کردیئے جائیں گے اور چار گھنٹوں میں پلوں اوربجلی گھروں کو تہس نہس کردیں گے ‘عالمی ثالثوں کی تجاویز اہم مگر ناکافی ہیں ‘ایران میں معقول لوگوں سے بات چیت جاری ہے ‘شہری تنصیبات کو نشانہ بناناجنگی جرم نہیں کیوں کہ وہ (ایرانی ) جانورہیں‘جنگی جرائم کی کوئی پرواہ نہیں ‘ وزیراعظم پاکستان شہبازشریف کے مطابق میں نے لاکھوں جانیں بچائیں‘پاک بھارت جنگ سمیت 8جنگیں رکوائیں،آبنائے ہرمز سے خود ٹیکس لینے پر غور کررہا ہوں‘ بس میں ہوتا تو ایرانی تیل قبضے میں رکھ کر خوب پیسہ بناتا‘امریکی پائلٹ کےریسکیو آپریشن کی خبر لیک کرنے والے صحافی کو جیل بھیجوں گا۔امریکی پائلٹ کو بچانے کیلئے تاریخی ریسکیو آپریشن انجام دیا‘فوجیوں کی شاندارکارکردگی کبھی نہیں بھول سکتا۔دوسری جانب ایرانی فوج کے ترجمان نے صدر ٹرمپ کی مکمل تباہی کی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدرخودفریبی کا شکار ہیں ‘دشمن کی کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں جبکہ ایران کے رہبراعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ دشمن کی جانب سے کی جانے والی ٹارگٹ کلنگ اور جرائم ایرانی مسلح افواج کی کارروائیوں اور ان کے حوصلوں کو متاثر نہیں کرسکتے ‘علاوہ ازیںایران نے امریکا کی امن تجاویز پر 10نکاتی جواب جاری کرتے ہوئے مجوزہ جنگ بندی کو مستردکیااور کہا کہ عارضی کی بجائے جنگ کا مستقل خاتمہ ضروری ہے‘ دھمکیوں کے ساتھ مذاکرات ممکن نہیں‘یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا کاکہناہے کہ شہری اہداف پر حملے غیر قانونی ہیں اور ایران کے ساتھ جاری جنگ کا حل صرف سفارت کاری کے ذریعے ممکن ہے۔شہری انفرا اسٹرکچر، خصوصاً توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانا غیر قانونی اور ناقابلِ قبول ہے‘دریں اثناء اسرائیل نے ایران کے کئی ہوائی اڈوںاور جنوبی پارس میں واقع پیٹروکیمیکل کمپلیکس کو نشانہ بنایا۔ تہران کی شریف یونیورسٹی کے ڈیٹا سینٹر پر حملے کے نتیجے میں ایران کا قومی مصنوعی ذہانت (AI) پلیٹ فارم اور ہزاروں دیگر سروسز شدید متاثر ہوئی ہیںجبکہ پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس چیف مجید خادمی کی شہادت کی بھی تصدیق ہوگئی ہے ۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے دھمکی دی ہے کہ وہ ایرانی قیادت کا "ایک ایک کر کے" شکار کریں گے۔دوسری جانب ایران نے اسرائیل پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ حیفا میں ایک عمارت پر میزائل لگنے سے4افرادہلاک ہو گئے۔ یمن کے حوثیوں نے بھی اسرائیل پر حملوں کی تصدیق کی ہے‘عراق کے شمالی کردستان کے علاقے میں واقع اربیل ایئرپورٹ کے قریب پیر کے روز دو زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے قطر کے دوان ایل این جی ٹینکرز کو گزرنے سے روک دیا ہے جنہیں ایک معاہدے کے تحت راستہ دیا جانا تھا۔تفصیلات کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ انتہائی خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو پاکستانی وقت کے مطابق بدھ کی صبح 5بجے تک کی حتمی مہلت دیتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے اور آبنائے ہرمز کو فوری طور پر نہ کھولا گیا تو ایران کے پورے سویلین انفراسٹرکچر کو تہس نہس کر دیا جائے گااورمکمل تباہی ہوگی‘پیرکو پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدرٹرمپ کا کہناتھاکہ اگرایران نےفوری جنگ بندی معاہدے ‘ جوہری ہتھیاروں سے مکمل دستبرداری اورآبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے مطالبات تسلیم نہ ہوئے تووہ ایران کے ہر پل اور بجلی گھر کو تہس نہس کر دیں گے‘ پورے ایران کو ایک رات میں ختم کیا جا سکتا ہے اور وہ رات آج کی رات ہو سکتی ہے۔آج رات ایران کا ہر پل تباہ کر دیا جائے گا اور ہر بجلی گھر دھماکوں سے اڑ رہا ہوگا جو دوبارہ کبھی استعمال کے قابل نہیں رہے گا۔ امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل پر ٹول ٹیکس وصول کرنے کے منصوبے پر غور کر رہے ہیں‘ان کا کہناتھاکہ ایران میں ریسکیو مشن کے دوران 170سے زائد فوجی طیارے استعمال ہوئے‘ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا نے گزشتہ روز تاریخ کا اہم ترین آپریشن انجام دیا،پائلٹ کی تلاش کے لئے ہمارے طیارے ایران کے اندر تک گئے،آپریشن بہت خوب تھا، ریسکیو آپریشن میں کوئی اہلکار تک زخمی نہیں ہوا،ہم نے ایران سے پائلٹ کو دن کی روشنی میں نکالا،ایران میں مشن کے دوران امریکی فوجیوں کو انتہائی قریب سے فائرنگ کا سامنا بھی ہوا،ایران میں دوسرے آپریشن میں 155طیاروں نے حصہ لیااوران 155طیاروں میں 4بمبار طیارے،64فائٹر طیارے ، 48ری فیولنگ ٹینکر اور 13ریسکیو ایئرکرافٹ شامل تھے، ایک پائلٹ کو واپس لانے کے لئے 200فوجیوں نے آپریشن کیا،48گھنٹے میں اہلکار کو ریسکیو کرلیا ۔ ٹرمپ نے کہامیں نے امریکی فوج کو آپریشن کرنے کا حکم دیا تھا،جدید امریکی ہیلی کاپٹروں کی کار کردگی نہایت شاندار رہی،امریکاایران میں اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوا،ایران میں دونوں ریسکیو مشن میں 170سے زیادہ امریکی فوجی طیارے استعمال کیے،بطور کمانڈر ان چیف میں اپنا فوجیوں کی کل کی شاندار کار کردگی کبھی نہیں بھول سکتا،منگل کی شب F-15لڑاکا طیارہ ایران میں آپریشن میں شریک تھا،ہم نے اپنا جہاز تباہ بھی کیا تاکہ کوئی بھی ہمارے بہترین آلات کو جانچ نہ سکے۔ امریکی صدر نے انکشاف کیا کہ دو طیارے ریت میں پھنس گئے تھے جنہیں وہیں دھماکے سے اڑانا پڑا جبکہ سی آئی اے کے چیف جان ریٹکلف نے بتایا کہ ایرانیوں کو دھوکہ دینے کے لیے فریب پر مبنی آپریشن بھی کیا گیا تھا۔جب ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ کیا سویلین انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا جنگی قوانین کی خلاف ورزی نہیں ، تو انہوں نے بے پروائی سے جواب دیاکہ مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں‘ جنگی جرم یہ ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت دی جائے۔ جب دوبارہ پوچھا گیا تو انہوں نے ایرانی قیادت کو جانور قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہزاروں مظاہرین کو قتل کیا ہے۔ٹرمپ نےکہا کہ اگر ان کے بس میں ہوتا تو وہ ایران کا تیل قبضے میں لے لیتے اور خوب پیسہ بناتے لیکن بدقسمتی سے امریکی عوام چاہتے ہیں کہ ہم واپس گھر آ جائیں اور جنگ ختم کریں۔ انہوں نے جنگ کی مخالفت کرنے والے امریکیوں کو بے وقوف قرار دیا۔جب ٹرمپ سے سویلین ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے حوالے سےپوچھا گیا، تو انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی عوام آزادی کے لیے یہ سب برداشت کرنے کو تیار ہیں اور وہ خود امریکا سے بمباری جاری رکھنے کی اپیل کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے بعد ایران اپنے ملک کی دوبارہ تعمیر صرف امریکہ کی مدد سے ہی کر سکے گا۔ممکن ہے ہم ان کے ملک کی تعمیرنومیں بھی شامل ہوںاورایسی صورت میں امریکا یہ پسند کرے گا کہ اہم انفراسٹرکچر کو نقصان نہ پہنچے۔امریکی صدر نے وزیراعظم پاکستان کاذکرکرتےہوئےکہاکہ شہبازشریف نے بتایاکہ میں نے لاکھوں لوگوں کی جانیں بچائی ہیں اور پاک بھارت جنگ سمیت 8لڑائیاں رکوائیں ۔پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے جنگ میں ساتھ نہ دینے پر نیٹواتحاد کو ایک بارپھر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اورگرین لینڈ کے الحاق کی اپنی دیرینہ اور متنازع خواہش کو ایک بار پھر دہرا یا۔امریکی صدرنے کہاکہ میں نے نیٹو سے صرف اتنا کہااگر آپ مدد کرنا چاہتے ہیں تو یہ بہت اچھی بات ہوگی مگر جواب ملاکہ ہم مددنہیں کریں گے ۔انہوں نے نیٹو پر الزام لگایا کہ اتحاد کے ارکان نے نہ صرف مدد سے انکار کیا بلکہ وہ جان بوجھ کر راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔ انہوں نے نیٹو کوپھر کاغذی شیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدرپوٹن اس اتحاد سے بالکل نہیں ڈرتے۔ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ نیٹو کے ساتھ ان کے حالیہ تناؤ کی اصل جڑ گرین لینڈ کا معاملہ ہے۔

اہم خبریں سے مزید