• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خاتون کے ساتھ واقعہ موٹروے پر نہیں ہوا، مراد سعید کا دعویٰ


وفاقی وزیرِ مواصلات مراد سعید نے موٹر وے زیادتی کے واقعہ پر قومی اسمبلی میں دعویٰ کیا ہے کہ یہ واقعہ موٹروے پر پیش نہیں آیا۔

قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایوان میں بحث افسوسناک واقعے کے مجرموں کی سزا پر نہیں، میرے استعفے پر ہورہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ سب نے موٹروے کی رٹ لگا رکھی ہے لیکن یہ میٹر ہی نہیں کرتا کہ یہ واقعہ کہاں پیش آیا ہے، خاتون سے زیادتی کا واقعہ موٹر وے پر پیش ہی نہیں آیا۔

نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر ویز کے انچارج وفاقی وزیر مراد سعید نے قومی اسمبلی اجلاس میں سانحہ موٹر وے پر بحث کے دوران یہ دعوٰی بھی کیا کہ متاثرہ خاتون نے جب موٹر ویز ہیلپ لائن 130 پہ کال کی تو انہیں یہ جواب نہیں دیا گیا کہ یہ موٹر وے پولیس کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔

مراد سعید کا کہنا تھا کہ خاتون کو ہیلپ لائن 130 پر کال کو متعلقہ ادارے کی طرف ریفر کردیا گیا تھا۔

دوسری طرف جیو نیوز کے صحافی احمد فراز نے خاتون کے ساتھ پیش آنے والے بد قسمت واقعہ کے مقام پر کھڑے ہو کر ہیلپ لائن 130 پہ کال کی تو جواب ملا کہ علاقہ ان کےدائرہ کار میں نہیں۔

وفاقی وزیر مراد سعید شاید بھول چکے کہ خاتون سے زیادتی کا واقعہ لاہور سیالکوٹ موٹروے پر لاہور ٹول پلازہ سے دو کلومیٹر دور پیش آیا جس پر ٹول وصول کرنے کا ٹھیکہ ان کے زیرِ انتظام ادارے نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے دے رکھا ہے۔

انہی کے ماتحت ادارے نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر وے پولیس کے آئی جی سید کلیم امام خود تسلیم کرچکے ہیں کہ متاثرہ خاتون کی ہیلپ لائن پر کال کرنے پر انہیں جواب دیا گیا تھا کہ یہ موٹر وے پولیس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔

ادھر سی سی پی او عمر شیخ نے اپنے طلب کیے جانے پر لاہور ہائی کورٹ میں بیان دیا کہ رِنگ روڈ تک لاہور پولیس کا دائرہ اختیار ہے جبکہ اس سے آگے موٹر وے پولیس کی حدود شروع ہو جاتی ہے۔

وزارت مواصلات کی ویب سائٹ پر بھی لاہور سیالکوٹ ایسٹرن بائی پاس کو این ایچ اے کے زیرِ انتظام ظاہر کیا گیا ہے۔

ان حقائق کے بعد کس کے دعوے کتنے درست ہیں؟ فیصلہ کرنا زیادہ مشکل نہیں ہے۔

تازہ ترین