آپ آف لائن ہیں
اتوار2؍صفر المظفّر 1442ھ 20؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

موٹر وے زیادتی، ایک اور ملزم بالا مستری بھی گرفتار


لاہور میں موٹر وے پر خاتون کے ساتھ زیادتی کے واقعے میں ایک اور پیش رفت سامنے آئی ہے، پولیس نے ملزمان عابد اور شفقت کے مبینہ تیسرے ساتھی بالا مستری کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔

پولیس کے مطابق بالا مستری کو چیچہ وطنی میں کارروائی کے دوران حراست میں لیا گیا، جو مرکزی ملزم عابد کے ساتھ مختلف وارداتوں میں شریک رہا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم شفقت نے بتایا ہے کہ وقوعہ کے روز بالا مستری ساتھ آیا تھا مگر راستے سے واپس چلا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق بالا مستری نے ملزم شفقت اور عابد کے ساتھ مل کر تقریباً 11 وارداتیں کی ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم بالا مستری نے بتایا کہ وہ عابد اور شفقت کے ساتھ مل کر کرول گاؤں کے قریب لوٹ مار کرتے تھے جہاں وہ درخت کے تنے سڑک پر رکھ کر گاڑیاں روکتے تھے اور گاڑیوں میں موجود شہریوں کو لوٹتے تھے۔

ملزم نے مزید بتایا کہ موٹروے پر وہ بھی عابد اور شفقت کے ساتھ واردات کی نیت سے ہی نکلا تھا لیکن آدھے راستے سے ہی واپس چلا گیا تھا۔

پنجاب پولیس موٹر وے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہے تاہم اسے تاحال کوئی کامیابی نہیں ملی ہے۔

واضح رہے کہ موٹر وے زیادتی کیس میں خود گرفتاری دینے والے وقار الحسن کی نشاندہی پر دیپالپور سے شفقت نامی ملزم کو کل سی ٹی ڈی نے گرفتار کیا تھا، پولیس کو دیئے گئے بیان میں ملزم نے اعترافِ جرم کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ہم نے ڈکیتی کے بعد خاتون کے ساتھ زیادتی کی۔

پولیس ذرائع کے مطابق شفقت کے اعترافِ جرم کے بعد اب اس کا کریمنل ریکارڈ بھی چیک کیا گیا، جبکہ کیس میں ایک اور نامزد ملزم عباس نے بھی ازخود گرفتاری دے دی تھی۔

پولیس کے مطابق شفقت کو وقار الحسن کے بیان کی روشنی میں حراست میں لیا گیا ہے، شفقت مرکزی ملزم عابد کا ساتھی بتایا جا رہا ہے۔

اس سے قبل زیر حراست وقارالحسن نے انکشاف کیا تھا کہ عابد کا دوست شفقت بہاولنگر کا رہائشی ہے اور یہ دونوں ملزمان ایک عرصے سے مل کر وارداتیں کرتے آ رہے ہیں۔

پولیس نے وقارالحسن کے اس انکشاف کے بعد شفقت کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں بہاولنگر اور شیخوپورہ روانہ کی تھیں۔

پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ زیرِ حراست وقارالحسن ابتدائی تحقیقات میں واقعے میں ملوث نہیں پایا گیا ہے تاہم ڈی این اے رپور ٹ آنے کے بعد ہی اس بات کا حتمی فیصلہ ہو سکے گا۔

یہ بھی پڑھیئے:۔

لاہور: موٹر وے پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی

موٹر وے زیادتی کیس، فنکاروں کا پریس کلب پر بھرپور احتجاج

’بچوں سے زیادتی کرنیوالے سہیل کو سزا ملتی تو موٹر وے سانحہ نہ ہوتا‘

زیادتی کیس میں نامزد عباس نے بھی گرفتاری دیدی

موٹروے زیادتی کیس: زیر حراست وقار کا اہم انکشاف

موٹر وے پر خاتون سے زیادتی کے مقدمہ میں مطلوب ملزم وقار الحسن نے 2 روز قبل سی آئی اے ماڈل ٹاؤن پولیس کو ازخود گرفتاری دے دی تھی، ملزم نے الزام مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں بے گناہ ہوں۔

پولیس حکام نے واٹس ایپ کے ذریعے ملزم وقارالحسن کی ویڈیو متاثرہ خاتون کو بھیجی تو خاتون نے بھی ملزم وقار کی شناخت سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وقار واقعے میں شامل نہیں تھا، تاہم ملزم کا ڈی این اے سیمپل لے لیا گیا ہے۔

شیخوپورہ پولیس کے ترجمان کے مطابق وقار کا کوئی سابقہ کریمنل ریکارڈ نہیں ہے۔

کیس میں مرکزی ملزم عابد تاحال گرفتار نہ ہوسکا، پولیس نے ملزم کے 2 بھائی اور والد کو حراست میں لے لیا ہے۔

عابد کے اہلِ علاقہ بھی پھٹ پڑے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ملزم عابد اور اس کے گھر والے جھگڑالو اور چوری چکاری میں ملوث تھے۔

واضح رہے کہ 9 ستمبر کو لاہور کے علاقے گجر پورہ میں 2 ملزمان نے موٹر وے پر کھڑی گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور اس کے بچوں کو نکالا، موٹر وے کے گرد لگی جالی کاٹ کر سب کو قریبی جھاڑیوں میں لے گئے اور پھر خاتون کو بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا جس کے بعد وہ خاتون سے طلائی زیورات اور نقدی چھین کر فرار ہو گئے۔

قومی خبریں سے مزید